شاعری

اک عمر سے ہم تم آشنا ہیں

اک عمر سے ہم تم آشنا ہیں ہم سے مہ و انجم آشنا ہیں دل ڈوبتا جا رہا ہے پیہم لب ہیں کہ تبسم آشنا ہیں ان منزلوں کا سراغ کم ہے جن منزلوں میں گم آشنا ہیں کچھ چارۂ درد آشنائی کس سوچ میں گم سم آشنا ہیں اس دور میں تشنہ کام ساقی ہم جیسے کئی خم آشنا ہیں

مزید پڑھیے

کہاں کہاں نہ تصور نے دام پھیلائے

کہاں کہاں نہ تصور نے دام پھیلائے حدود شام و سحر سے نکل کے دیکھ آئے نہیں پیام رہ نامہ و پیام تو ہے ابھی صبا سے کہو ان کے دل کو بہلائے غرور جادہ شناسی بجا سہی لیکن سراغ منزل مقصود بھی کوئی پائے خدا وہ دن نہ دکھائے کہ راہبر یہ کہے چلے تھے جانے کہاں سے کہاں نکل آئے گزر گیا کوئی ...

مزید پڑھیے

ہر قدم پر ہم سمجھتے تھے کہ منزل آ گئی

ہر قدم پر ہم سمجھتے تھے کہ منزل آ گئی ہر قدم پر اک نئی درپیش مشکل آ گئی یا خلا پر حکمراں یا خاک کے اندر نہاں زندگی ڈٹ کر عناصر کے مقابل آ گئی بڑھ رہا ہے دم بدم صبح حقیقت کا یقیں ہر نفس پر یہ گماں ہوتا ہے منزل آ گئی ٹوٹتے جاتے ہیں رشتے جوڑتا جاتا ہوں میں ایک مشکل کم ہوئی اور ایک ...

مزید پڑھیے

بنا کے آئینۂ تصور جہاں دل داغدار دیکھا

بنا کے آئینۂ تصور جہاں دل داغدار دیکھا فراق میں لطف وصل پایا خزاں میں رنگ بہار دیکھا تمام کاموں کا راستے پر ہمیشہ دار و مدار دیکھا فساد طینت میں جن کی پایا ہر ایک صحبت میں خار دیکھا سنبھالا جس دن سے ہوش ہم نے وطن کو کل چند بار دیکھا نہ کی عزیزوں کی غم گساری نہ پھر کے اپنا دیار ...

مزید پڑھیے

بڑھا دی اک نظر میں تو نے کیا توقیر پتھر کی

بڑھا دی اک نظر میں تو نے کیا توقیر پتھر کی بنا کحل البصر اللہ رے تقدیر پتھر کی اسیر زلف کیوں کر چھٹ سکیں گے قید وحشت سے کہ ہے ہر جادۂ دشت جنوں زنجیر پتھر کی یہ جلوہ ہے کنشت و دیر میں صانع کی قدرت کا کہ دعوی خدائی کرتی ہے تصویر پتھر کی تلاش رزق میں ہو آسیا کی طرح سرگرداں اگر دانا ...

مزید پڑھیے

کوئی بات ایسی آج اے میری گل رخسار بن جائے

کوئی بات ایسی آج اے میری گل رخسار بن جائے کہ بلبل باتوں باتوں میں دم گفتار بن جائے عیاں ہو جذب شوق ایسا حسیں آئیں زیارت کو مری تربت کا میلہ مصر کا بازار بن جائے مرے ہنسنے پہ وہ کہتے ہیں ایسا بھی نہ ہو بے خود کہ کوئی آدمی سے قہقہہ دیوار بن جائے تعجب کچھ نہیں ہے گر وفور سوز فرقت ...

مزید پڑھیے

ہم کو کب ہے یہ شکوہ ہم رہے ہیں کب تنہا

ہم کو کب ہے یہ شکوہ ہم رہے ہیں کب تنہا غم بھی ساتھ آئے ہیں ہم چلے ہیں جب تنہا مصلحت پرستوں کی پر فریب محفل میں دیکھیے تو سب یکجا جانچئے تو سب تنہا وہ تھا جب تو جلوے تھے وہ نہیں تو یادیں ہیں ہم رہے نہ جب تنہا اور ہیں نہ اب تنہا دوستوں سے کھنچنے کی وجہ کوئی تو ہوگی ورنہ کون رہتا ہے ...

مزید پڑھیے

جلنے دو نشیمن کو جلتا ہے تو جل جائے

جلنے دو نشیمن کو جلتا ہے تو جل جائے بھڑکے ہوئے شعلوں کا ارماں تو نکل جائے دیوانوں کا کیا مسلک دیوانے تو دیوانے جو دل میں سما جائے جو منہ سے نکل جائے لب تک تو نہ آئے گا راز غم دل لیکن ممکن ہے یہ افسانہ پلکوں سے مچل جائے اس ذوق تجسس کی عظمت کو خدا جانے جو حد تعین سے کچھ آگے نکل ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھ اے نور شمع حسن پروانوں پہ کیا گزری

نہ پوچھ اے نور شمع حسن پروانوں پہ کیا گزری ہوا شعلہ فشاں جو تو تو دیوانوں پہ کیا گزری بتائیں اہل دل دنیا کے ایمانوں پہ کیا گزری مساجد پر پڑیں چوٹیں تو بت خانوں پہ کیا گزری جلانا برق کا تو شغل تھا گر گھر جلا ڈالے وہ کیوں یہ سوچتی دنیا کے خس خانوں پہ کیا گزری بتاؤ تو ذرا انسانیت ...

مزید پڑھیے

کبھی ڈھلتے ہوئے سورج کا منظر ہی نہیں دیکھا

کبھی ڈھلتے ہوئے سورج کا منظر ہی نہیں دیکھا ترے دل سے پرے میں نے گزر کر ہی نہیں دیکھا بتاؤں کیا گزرتی ہے مرے بچوں کے ذہنوں پر ہوئی مدت تلاش رزق میں گھر ہی نہیں دیکھا میں آئینہ سدا رکھتا ہوں مستقبل کے منظر کا کبھی ماضی کی جانب میں نے مڑ کر ہی نہیں دیکھا نہ ساحل پر نہ کشتی پر کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4022 سے 5858