شاعری

وقت ہی کم تھا فیصلے کے لئے

وقت ہی کم تھا فیصلے کے لئے ورنہ میں آتا مشورے کے لئے تم کو اچھے لگے تو تم رکھ لو پھول توڑے تھے بیچنے کے لئے گھنٹوں خاموش رہنا پڑتا ہے آپ کے ساتھ بولنے کے لئے سیکڑوں کنڈیاں لگا رہا ہوں چند بٹنوں کو کھولنے کے لئے ایک دیوار باغ سے پہلے اک دوپٹا کھلے گلے کے لئے ترک اپنی فلاح کر دی ...

مزید پڑھیے

تم نے بھی ان سے ہی ملنا ہوتا ہے

تم نے بھی ان سے ہی ملنا ہوتا ہے جن لوگوں سے میرا جھگڑا ہوتا ہے اس کے گاؤں کی ایک نشانی یہ بھی ہے ہر نلکے کا پانی میٹھا ہوتا ہے میں اس شخص سے تھوڑا آگے چلتا ہوں جس کا میں نے پیچھا کرنا ہوتا ہے تم میری دنیا میں بالکل ایسے ہو تاش میں جیسے حکم کا اکا ہوتا ہے کتنے سوکھے پیڑ بچا سکتے ...

مزید پڑھیے

ایسے اس ہاتھ سے گرے ہم لوگ

ایسے اس ہاتھ سے گرے ہم لوگ ٹوٹتے ٹوٹتے بچے ہم لوگ اپنا قصہ سنا رہا ہے کوئی اور دیوار کے بنے ہم لوگ وصل کے بھید کھولتی مٹی چادریں جھاڑتے ہوئے ہم لوگ اس کبوتر نے اپنی مرضی کی سیٹیاں مارتے رہے ہم لوگ پوچھنے پر کوئی نہیں بولا کیسے دروازہ کھولتے ہم لوگ حافظے کے لیے دوا کھائی اور ...

مزید پڑھیے

اس نے آخر دیا جلانا ہے

اس نے آخر دیا جلانا ہے شام کو میں نے ڈوب جانا ہے پھر سرا کوئی ہاتھ آئے گا بس کڑی سے کڑی ملانا ہے میری پرواز میں یہ حائل ہے راہ سے آسماں ہٹانا ہے دل کی باتیں تمام کہہ دوں گا بس تمہیں حوصلہ بڑھانا ہے وہ جو اوروں پہ مسکراتا تھا اب اسے خود پہ مسکرانا ہے دن کے بکھرے ہوئے اجالے ...

مزید پڑھیے

رات پھر درد بنی

آسماں ٹوٹا ہوا چاند ہتھیلی پہ لئے ہنستا ہے رات آزردہ ستاروں سے سخن کرتی ہوئی رہ گزاروں پہ دبے پاؤں چلی آئی ہے بھیگ جاتی ہے کسی آنکھ میں آنسو بن کر پھیل جاتی ہے کسی یاد کی خوشبو بن کر کہیں ٹوٹے ہوئے پیمان وفا جوڑتی ہے موج مے بن کے چھلک پڑتی ہے پیمانوں سے دل کا احوال سنا کرتی ہے ...

مزید پڑھیے

مصالحت

میں بھی نہ پوچھوں تم بھی نہ پوچھو میرے ماضی کی پیشانی کتنے بتوں کو پوج چکی ہے کتنے سجدوں کی تابانی چوکھٹ چوکھٹ بانٹ چکی ہے میرے ماضی کے طاقوں میں کتنی شمعیں پگھل چکی ہیں کتنے دامن خاک ہوئے ہیں تم بھی نہ پوچھو میں بھی نہ پوچھوں تم نے یہ شاداب جوانی کیسے اور کس طرح گزاری ان آنکھوں ...

مزید پڑھیے

نیا جنم

اجنبی جان کے اک شخص نے یوں مجھ سے کہا وہ مکاں نیم کا وہ پیڑ کھڑا ہے جس میں کھڑکیاں جس کی کئی سال سے لب بستہ ہیں جس کے دروازے کی زنجیر کو حسرت ہی رہی کوئی آئے تو وہ ہاتھوں میں مچل کے رہ جائے شور بے ربطئ آہنگ میں ڈھل کے رہ جائے وہ مکاں جس کے در و بام کئی سالوں سے منتظر ہیں، کوئی مہتاب ...

مزید پڑھیے

بے کراں

تمہیں پسند ہے ہر شب تمہارے بستر پر لپٹ کے تم سے حسیں نرم چاندنی سوئے نگار خانۂ فطرت کی دل کشی سوئے مگر پسند کو رنگ جنوں نہ دینا تھا گگن سے چاند کو دھرتی پہ کیوں بلاتی ہو نظر سے پیار کرو ہاتھ کیوں لگاتی ہو مسافران شب غم کی دل دہی کے لئے تمام عمر اسے نور بن کے ڈھلنا ہے اداس راتوں میں ...

مزید پڑھیے

میرے کمرے میں اک ایسی کھڑکی ہے

میرے کمرے میں اک ایسی کھڑکی ہے جو ان آنکھوں کے کھلنے پر کھلتی ہے ایسے تیور دشمن ہی کے ہوتے ہیں پتا کرو یہ لڑکی کس کی بیٹی ہے رات کو اس جنگل میں رکنا ٹھیک نہیں اس سے آگے تم لوگوں کی مرضی ہے میں اس شہر کا چاند ہوں اور یہ جانتا ہوں کون سی لڑکی کس کھڑکی میں بیٹھی ہے جب تو شام کو گھر ...

مزید پڑھیے

فون تو دور وہاں خط بھی نہیں پہنچیں گے

فون تو دور وہاں خط بھی نہیں پہنچیں گے اب کے یہ لوگ تمہیں ایسی جگہ بھیجیں گے زندگی دیکھ چکے تجھ کو بڑے پردے پر آج کے بعد کوئی فلم نہیں دیکھیں گے مسئلہ یہ ہے میں دشمن کے قریں پہنچوں گا اور کبوتر مری تلوار پہ آ بیٹھیں گے ہم کو اک بار کناروں سے نکل جانے دو پھر تو سیلاب کے پانی کی طرح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 155 سے 5858