شاعری

یہ شام کا بڑھتا ہوا سایہ ہے کہ میں ہوں

یہ شام کا بڑھتا ہوا سایہ ہے کہ میں ہوں تا حد نظر آنکھ میں صحرا ہے کہ میں ہوں آخر تجھے یہ فیصلہ کرنا ہی پڑے گا تیرے لیے بہتر تری دنیا ہے کہ میں ہوں تصدیق جو تو نے مرے ہونے کی ابھی کی یہ دیکھ کے میں نے بھی یہ سوچا ہے کہ میں ہوں جھلمل کبھی احساس میں بکھری تو یہ سوچا مہتاب کسی جھیل ...

مزید پڑھیے

ہمارے شہر میں آنے کی صورت چاہتی ہیں

ہمارے شہر میں آنے کی صورت چاہتی ہیں ہوائیں باریابی کی اجازت چاہتی ہیں پرندوں سے در و دیوار خالی ہو گئے ہیں مری آنکھیں نگر کو خوب صورت چاہتی ہیں لکھے بھی جاؤ لوح خاک پر نقش اداسی کہ آتی ساعتیں حرف شہادت چاہتی ہیں دلوں میں قید نا آسودہ ساری التجائیں حصار حرف میں آنے کی مہلت ...

مزید پڑھیے

بے ثبات صبح شام اور مرا وجود

بے ثبات صبح شام اور مرا وجود یہی عذاب ہے مدام اور مرا وجود کوئی چیز کم ہے مجھ میں بس یہی خیال سارا جہان جیسے خام اور مرا وجود اس کا حسن بے اماں اور مرا حضور ایک تیغ بے نیام اور مرا وجود گفتگو ہی گفتگو اور مرا سکوت ایک حرف بے کلام اور مرا وجود میری حیات آئینۂ ہجر مستقل اک سفر ہے ...

مزید پڑھیے

آنکھ میں گر تجھے رکھا جائے

آنکھ میں گر تجھے رکھا جائے پھر کوئی خواب نہ دیکھا جائے اس سے بچھڑے تو سمجھ میں آیا یوں کسی کو بھی نہ چاہا جائے مجھ کو بھی ساتھ لیے پھرتا ہے جس طرف سوچ کا دریا جائے اپنے اندر وہ چھپا بیٹھا ہے اپنے ہی آپ کو پرکھا جائے ایک نقطے پہ جمی ہیں سوچیں گھر سے باہر کہیں نکلا جائے

مزید پڑھیے

دل کے تاروں کو ہلا دیتی ہے آواز تری

دل کے تاروں کو ہلا دیتی ہے آواز تری اک نیا درد جگا دیتی ہے آواز تری ایک تالاب ہوں ایسا کہ جہاں یادیں ہیں اس میں کنکر سا گرا دیتی ہے آواز تری تو ہے دریا تو کہیں دور چلا جا مجھ سے تشنگی اور بڑھا دیتی ہے آواز تری میں تو آواز میں ہوتا ہوں معانی کی طرح اور آواز لگا دیتی ہے آواز ...

مزید پڑھیے

کوئی شکوہ نہ شکایت ہے بچھڑنے والے

کوئی شکوہ نہ شکایت ہے بچھڑنے والے بے وفائی تری عادت ہے بچھڑنے والے ہم جو زندہ ہیں تو زندہ بھی نہیں ہیں دیکھو اک بپا روز قیامت ہے بچھڑنے والے میری سانسوں کی روانی کا سبب پوچھتے ہو تیرے چہرے کی تلاوت ہے بچھڑنے والے چین تم کو جو نہیں آتا کسی بھی لمحے یہ محبت کی علامت ہے بچھڑنے ...

مزید پڑھیے

تو اڑنے کا جب بھی ارادہ کرے گا

تو اڑنے کا جب بھی ارادہ کرے گا فلک اپنا سینہ کشادہ کرے گا ابھی دل کو قابو میں کر لو تو بہتر یہ مجبور ورنہ زیادہ کرے گا سفر کا ارادہ بدل جائے شاید رہ دل وہ جب تک کشادہ کرے گا معانی کا اس میں سمندر سا ہوگا بظاہر وہ ہر بات سادہ کرے گا وہی نوجواں ہوگا ملت کا تارا جو تعلیم سے استفادہ ...

مزید پڑھیے

اسرار بڑی دیر میں یہ مجھ پہ کھلا ہے

اسرار بڑی دیر میں یہ مجھ پہ کھلا ہے انوار کا منبع مرے سینے میں چھپا ہے کیا سوچ کے بھر آئی ہیں یہ جھیل سی آنکھیں کیا سوچ کے دریا کے کنارے تو کھڑا ہے بجھتے ہوئے اس دیپ کا تم حوصلہ دیکھو جو صبح تلک تیز ہواؤں سے لڑا ہے افتاد پڑی جب تو ہوا مجھ سے گریزاں سائے کی طرح جو بھی مرے ساتھ رہا ...

مزید پڑھیے

بول پڑتے ہیں ہم جو آگے سے

بول پڑتے ہیں ہم جو آگے سے پیار بڑھتا ہے اس رویے سے میں وہی ہوں یقیں کرو میرا میں جو لگتا نہیں ہوں چہرے سے ہم کو نیچے اتار لیں گے لوگ عشق لٹکا رہے گا پنکھے سے سارا کچھ لگ رہا ہے بے ترتیب ایک شے آگے پیچھے ہونے سے ویسے بھی کون سی زمینیں تھیں میں بہت خوش ہوں عاق نامے سے یہ محبت وہ ...

مزید پڑھیے

اسی ندامت سے اس کے کندھے جھکے ہوئے ہیں

اسی ندامت سے اس کے کندھے جھکے ہوئے ہیں کہ ہم چھڑی کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے ہیں یہاں سے جانے کی جلدی کس کو ہے تم بتاؤ کہ سوٹ کیسوں میں کپڑے کس نے رکھے ہوئے ہیں کرا تو لوں گا علاقہ خالی میں لڑ جھگڑ کر مگر جو اس نے دلوں پہ قبضے کیے ہوئے ہیں وہ خود پرندوں کا دانہ لینے گیا ہوا ہے اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 154 سے 5858