انجام قصہ گو کا
پرانی بات ہے لیکن یہ انہونی سی لگتی ہے وہ شب وعدے کی شب تھی گاؤں کی چوپال پوری بھر چکی تھی تازہ حقے ہر طرف رکھے ہوئے تھے قصہ گو نے ایک شب پہلے کہا تھا صاحبو تم اپنی نیندیں بستروں پر چھوڑ کر آنا میں کل کی شب تمہیں اپنے سلف کا آخری قصہ سناؤں گا جگر کو تھام کر کل رات تم چوپال پر آنا وہ ...