شاعری

انجام قصہ گو کا

پرانی بات ہے لیکن یہ انہونی سی لگتی ہے وہ شب وعدے کی شب تھی گاؤں کی چوپال پوری بھر چکی تھی تازہ حقے ہر طرف رکھے ہوئے تھے قصہ گو نے ایک شب پہلے کہا تھا صاحبو تم اپنی نیندیں بستروں پر چھوڑ کر آنا میں کل کی شب تمہیں اپنے سلف کا آخری قصہ سناؤں گا جگر کو تھام کر کل رات تم چوپال پر آنا وہ ...

مزید پڑھیے

بچے اور بدبو

بچوں استادوں اور سر پرستوں نے اسکولوں کے سامنے برسوں پرانے بدبو بھرے کوڑے دانوں کو ہٹانے کا مطالبہ چھوڑ دیا ہے اب بچوں کے نتھنوں سے گزر کر ان کی سانسوں کا حصہ بن جانے والی بدبو سرکاری بھوجن کے بعد مفت ملنے والی برفی بن گئی ہے کتابوں کو پڑھتے ہوئے یہی بدبو چاکلیٹ کی طرح چوسی جانے ...

مزید پڑھیے

مابعد جدید

میں نے اپنے لکھنے پڑھنے کے کمرے میں قلم بنا اک نظم لکھی ہے نظم کو میں نے کچھ ایسے ترتیب دیا ہے سب سے پہلے ٹک ٹک کرتی ایک گھڑی ہے پھر ہے کلنڈر اس کے بعد ہے پیتل کی اک شمع دانی عیش ٹرے پھر بیجنگ شام اور سنگاپور کی چینی اور تانبے کی پلیٹیں پھر تھوڑی سی جگہ بنا کے شیشے کا گلدان رکھا ...

مزید پڑھیے

خطائے بزرگاں

پرانی بات ہے لیکن یہ انہونی سی لگتی ہے ہوا اک بار یوں ان کے بزرگوں نے زمیں میں کچھ نہیں بویا فقط انگور کی بیلیں اگائیں اور مٹی کے گھڑوں میں مے بنائی رات جب آئی ان کے بدن ننگے تھے پہلی بار مے کا ذائقہ ہونٹوں نے چکھا تھا حکایت ہے برہنہ دیکھ کر اپنے بزرگوں کو جواں بیٹوں نے آنکھیں بند ...

مزید پڑھیے

الف زبر َا

بچے نے جس بکس میں اپنے ننھے منے کھیل کھلونوں کی جو دنیا بسا رکھی تھی ممی پاپا کے ہاتھوں وہ اجڑ گئی ہے ممی پاپا نے کیا جانے بکس میں کیا کیا بھر رکھا ہے ایک بڑے سے گیٹ کے آگے بکس اٹھائے بچہ روتا چلاتا ہے اپنے جیسا اسے بنانے کی کوشش کا پہلا دن ہے

مزید پڑھیے

تبدیلی

صبح دم جب بھی دیکھا ہے میں نے کبھی ننھے بچوں کو اسکول جاتے ہوئے رقص کرتے ہوئے گنگناتے ہوئے اپنے بستوں کو گردن میں ڈالے ہوئے انگلیاں ایک کی ایک پکڑے ہوئے صبح دم جب بھی دیکھا ہے میں نے انہیں مامتا ان کی راہوں میں سایہ کرے ان کے قدموں میں خوشبو بچھایا کرے دیوتا ان کے ہاتھوں کو چوما ...

مزید پڑھیے

گنگا رو رہی تھی

مجھے معلوم ہے تم نے مجھے بچپن سے پالا تھا بہت راتوں کو تم جاگے تھے اور تم نے مری آنکھوں میں اپنے خواب رکھے تھے کبھی جاتک کتھائیں داستانیں اور کبھی تاریخ کے قصے سنائے تھے مجھے حرفوں کو جب پہچاننا آیا تھا تم نے سب صحیفے اور وہ ساری کتابیں جو تمہارا زندگی بھر کا اثاثہ تھیں مجھے ...

مزید پڑھیے

اکیلے ہونے کا خوف

ہمیں یہ رنج تھا جب بھی ملے چاروں طرف چہرے شناسا تھے ہجوم رہگزر باہوں میں باہیں ڈال کر چلنے نہیں دیتا کہیں جائیں تعاقب کرتے سائے گھیر لیتے ہیں ہمیں یہ رنج تھا چاروں طرف کی روشنی بجھ کیوں نہیں جاتی اندھیرا کیوں نہیں ہوتا اکیلے کیوں نہیں ہوتے ہمیں یہ رنج تھا لیکن یہ کیسی ...

مزید پڑھیے

اک تیرے سوا

آ ہجر کے موسم باہوں میں میں آج تجھے گل پوش کروں جی بھر کے ملوں اک تیرے سوا ہر موسم نے اس کے نامے لا لا کے دیئے ہم جن پہ جئے اک تیرے سوا ہر موسم نے اس کے وعدوں کو سچ جانا اک شب کی امیدوں پہ رکھا اے ہجر کے موسم پاس تو آ میں آج تجھے گل پوش کروں اک تو ہی اکیلا سچ نکلا دل دار مرا جھوٹا ...

مزید پڑھیے

باز دید

وہ سورج کی پہلی کرن لے کے اپنے گھروں سے چلے جب تو چہرے گلابوں کی صورت کھلے تھے جبینوں پہ سجدوں کی تابندگی تھی لباسوں کی شائستگی زیب تن تھی نگاہوں میں شوق سفر کی چمک اور قدموں میں تھی آبشاروں کی مستی مجھے یوں لگا زندگی آسمانوں پہ گایا ہوا گیت دہرا رہی ہے سر شام سورج کی ڈھلتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 156 سے 5858