رد عمل
دور جنگل کے گھنے پیڑوں پر شام کے سرمئی اندھیرے میں جب بھی پنچھی پلٹ کے آتے ہیں میرا تنہا اداس ویاکل من غم کے سائے میں ڈوب جاتا ہے
دور جنگل کے گھنے پیڑوں پر شام کے سرمئی اندھیرے میں جب بھی پنچھی پلٹ کے آتے ہیں میرا تنہا اداس ویاکل من غم کے سائے میں ڈوب جاتا ہے
چھت پر بارش برس رہی ہے دیواروں پر دھول جمی ہے کھڑکی کے پٹ اب بھی کھلے ہیں چڑیا اندر جھانک رہی ہے اندر شور ہے سناٹے کا باہر شور کا سناٹا ہے عجب سا اک بازار لگا ہے گونگے بولیاں بیچ رہے ہیں اندھے یہ سب دیکھ رہے ہیں شاید کچھ ہونے والا ہے جانے کیا ہونے والا ہے چڑیا اندر جھانک رہی ہے
ایک پر ایک پانچ چھ اسٹول اپنے کاندھے پہ گاڑ کر بڑھئی شہر بھر میں گھماتا رہتا ہے دل میں خوابوں کی چاندنی لے کر گلیوں گلیوں پھراتا رہتا ہے ناامیدی لہو رلاتی ہے اسے پھر کو بہ کو پھراتی ہے روز یہ کاروبار جاری ہے
لرزنے والے لرز رہے ہیں لرزتے جھونکے گزرتے بل کھاتے رینگتے سرسراتے جھونکے نسائی ملبوس کی طرح سرسرانے والے کڑکنے والی کی چابکوں سے اگرچہ دور رواں کے آنسو ٹپک رہے ہیں مگر نظر جس طرف بھی اٹھتی ہے دیکھتی ہے گزر رہے ہیں گزرنے والے یہ کون دبکا ہوا اس آوارہ راستے میں کھڑا ہوا ہے کہ جیسے ...
سنی سنی سی لگی ہے مجھ کو وہ سردیوں میں لحاف اوڑھے ہوئے کہانی کہیں الاؤ کے گرد چلتے ہوئے وہ قصے سروں پہ اپنے انگوچھے باندھے ہوئے وہ قصے الاؤ کے گرد جلتے بجھتے ہوئے وہ قصے کہیں پہ شہزادیوں کے قصے کہیں پرندوں کی کھچڑیوں کی وہی کہانی وہ ایک چڑا جو کھا گیا تھا تمام کھچڑی کہیں نمک سی ...
نہ جانے کتنے ہی ماضی کے خواب بکھرے ہیں فسردہ بھیگی ہوئی سوگوار پلکوں پر جنوں ہے یا کہ خرد اس نگاہ کا مفہوم خلا میں ڈھونڈ رہا ہے کوئی نہ جانے کیا نگاہ دیکھ رہی ہیں پرے زمانے سے ہے کھویا کھویا ہوا رمز زندگی گویا فسانۂ غم جاناں ہے یا غم دنیا مچل رہے ہیں ان آنکھوں میں آرزو کے ...
زندگی بھیس بدل کر جہاں فن بنتی ہے میرؔ و غالبؔ کا وہ انداز بیاں ہے اردو کبھی کرتی ہے ستاروں سے بھی آگے منزل چشم اقبال سے گویا نگراں ہے اردو ساتھ انشا کے کبھی ہنستی ہے دل کھول کے وہ بہر فانی کبھی مصروف فغاں ہے اردو حاصل بزم ہے اور بزم کو تڑپاتی ہے جان مے خانہ ہے میخانۂ جاں ہے ...
تم جو مغرب کی جگالی سے کبھی تھکتے نہیں تم کو کیا معلوم ہے تخلیق کا جوہر کہاں فلسفی بنتے ہو اپنے آپ سے پوچھو کبھی کھو گیا ہے روح کا گوہر کہاں تم دل و جاں سے مشرق کی پرستاری کرو کیا برہمن کے سوا کچھ اور ہو کیا کسی کی مشرق و مغرب میں دل داری ہوئی بھوک سے بے حال ہیں جو ان کی غم خواری ...
درد کی سوغات تھی راہ کے ملبوس تھے کانٹوں کے ہار موڑ بہت آئے ہیں نام رکھا دشت و در اور اسی دشت میں تو بھی تھی خانہ خراب میں بھی خانہ خراب ٹل ہی گئی ساعت قحط دمشق ہوش سوا ہے مگر ہوش نہیں آئے گا جیسے بہم شبنم و گل ہوں یوں ہی خواب عشق شبنم تعبیر سے موج جنوں خیز ہے چشم فسوں ساز نے ایک ...
دل کی دھڑکن سے عیاں ذہن کے پردوں میں نہاں دھندلا دھندلا سا وہ اک عکس ترے چہرے کا ایک مدت ہوئی دیکھا تھا تجھے خال و خط یاد نہ آئے مجھ کو صبح دم جیسے کوئی سوچ رہا ہو بیٹھا رات کیا خواب نظر آیا تھا اور اک عمر گزر جانے پر دفعتاً میری تمنا کی طرح آئینہ خانۂ تصویر میں آج جل اٹھیں تیرے خط ...