شاعری

خوش آمدید

آج اس بزم میں آئے ہو بڑی دھوم کے ساتھ بے خودی محو نظارہ ہے تمہاری خاطر یاد آتے ہیں وہ ایام جدائی ہم کو جنہیں ہنس ہنس کے گزارہ ہے تمہاری خاطر گو مع لطف سے خالی نہیں پندار جنوں یاں غم عشق کا یارا ہے تمہاری خاطر رنج اٹھانا تو کوئی بات نہیں ہے لیکن زہر پینا بھی گوارا ہے تمہاری ...

مزید پڑھیے

کئی صد ہزار برس کے خواب

ترے در سے گزرا تھا بارہا وہ کھلا نہیں وہاں در پہ پہرہ لگا تھا گردش حال کا میں ترے طلسم میں بند تھا مجھے تھا کسی سے نہ اپنے آپ سے واسطہ فقط ایک نوحہ بے اماں تھا سکوت میں وہ سکوت جس میں بھنور صداؤں کے بے شمار وہی گونجتے تھے وجود میں کوئی چشم شوق کو واقعے سر راہ اب بھی ملا نہیں تو گلہ ...

مزید پڑھیے

دیوداس

زندگی عشق کی وحشت بھرا افسانہ تھی میرے ہاتھوں میں وہ اک زہر کا پیمانہ تھی روح کا غم مع گلفام سے کم کیا ہوتا کوئی تریاک بجز وصل صنم کیا ہوتا کھو گئی پاربتیؔ روتی رہی چندر مکھیؔ زندگی لٹتی رہی راہ گزاروں میں مری غمگساروں کی بھی یاد آئی مگر بھول گیا اس کی بانہوں کے سوا کچھ نہ ...

مزید پڑھیے

کراچی

اک ہجوم بے کراں شہر کی سڑکوں پہ گلیوں میں رواں دن کے ہنگاموں کو رکھتا ہے جواں ایک جانب سلسلہ ہائے عمارات بلند جن کے مینارے فلک سے مل گئے ہیں جا بجا شہر کی سطوت کے عظمت کے نشاں دوسری جانب ہے بوسیدہ مکانوں کی قطار مدتوں سے گردش لیل و نہار ہے اس آبادی میں جن کی نوحہ خواں اے کراچی ...

مزید پڑھیے

علی گڑھ یونیورسٹی

مرکز علم و ہنر میکدۂ سوز و ساز سجدۂ شوق سے آباد ہے رندوں کا حرم جام در جام ہے صہبائے جنون حکمت دیکھنا ہو تو کوئی دیکھ لے ساقی کا کرم مے گساری کا یہ انداز نہ دیکھا ہم نے سب کے دکھ درد کا احساس نشے کا عالم ایک ہی آگ سے ہر روح جلا پاتی ہے ہو گئے ایک ہی شعلے میں شرارے مدغم اپنے ہر ...

مزید پڑھیے

سال نو

اب رات ڈھل رہی ہے کوئی دو کا وقت ہے آنکھوں میں نیند جھول رہی ہے ابھی تلک لیکن میں سال نو کے لئے جاگتا رہوں امید کے چراغ جلاؤں نئے نئے بیٹھا ہوں خامشی کی نواؤں کو چھیڑ کر اپنے غموں سے آج بھی فرصت نہیں مجھے پلکوں پہ آج بھی تو لرزتے ہیں یہ دیے لیکن انہیں غموں سے نیا آستاں بنا وجہ ...

مزید پڑھیے

شرابی

یہ مے کدہ ہے ترا اور میں شرابی ہوں سنبھال ساقیا مینا کو اپنے ہاتھوں میں مجھے بھی آج مع ارغواں کی حاجت ہے سرک رہے ہیں رخ کائنات سے پردے دل و دماغ میں اک روشنی سی در آئی ہر ایک گھونٹ پہ کچھ زندگی کے راز کھلے محیط ہو گئی کون و مکاں کی گیرائی مگر یہ جام کے اندر بھی کیسی تاریکی بہت ...

مزید پڑھیے

شکست زنداں کا خواب

شکست زنداں کا خواب میں نے کبھی نہ دیکھا کہ سچ یہی ہے جو بیڑیاں پاؤں میں پڑی ہیں وہی اثاثہ ہے زندگی کا وہیں سے میرے شعور نے پائیں آگہی کی نئی ترنگیں وہیں سے اظہار کے وسیلے وہیں سے فن کے نئے تقاضے وہیں سے جینے کے حوصلے بھی وہیں سے رندی کے ولولے بھی ہر ایک آہٹ پہ سانحہ اک نیا گزرتا ہے ...

مزید پڑھیے

اعتراف

اے دل زندہ سچ بتا کہ تجھے آخرش انتظار کس کا ہے کون سی صبح تیری نظروں میں ہو سکی صبح انتخاب کبھی کون سا لمحہ تیرے آنگن میں لمحۂ جاوداں نظر آیا کس کرن نے ترے لہو کو چنا کب ہوا نے تراش لیں راہیں کن نگاہوں نے تجھ کو پرکھا ہے کن صلیبوں نے تیرا قد ناپا کب ترا نغمہ جان محفل تھا کب ترے ...

مزید پڑھیے

بیداری

یہ سناٹا یہ تاریکی کا عالم کوئی ہم راز نہ کوئی ہے ہمدم کہاں ہے رنگ کی بو کی وہ دنیا کہاں ہیں گل کہاں نغموں کی سرگم الٰہی کیا یہی ہے تیرا برزخ نہیں نفس و جسم جس جا پہ باہم صبر کر تو ذرا بے تابئ دل ابھی تک ہے طبیعت کا یہ عالم ابھی طائر نفس کا قید میں ہے ابھی تو ہیں ہیولیٰ کے پس وہم تیرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 819 سے 960