شاعری

جدائی کے عذاب کا پہلا دن

گئی رتوں کے اداس لمحوں قریب آؤ قریب آؤ اتر کے میری اجاڑ آنکھوں میں اشک آسا ٹپکتے جاؤ میرے بدن کی پرانی پگڈنڈیوں پہ چلتے کسی مسافر کی پرانی پگڈنڈیوں پہ چلتے کسی مسافر کی تیز قدمی سے ریزہ ریزہ بکھرتے پتو یہ یاد رکھنا کہ اب ابد تک تمہارے بیمار زرد چہروں پہ پائمالی کی بے نشاں مہر لگ ...

مزید پڑھیے

اوس

رات میں جب صاف ہوتا ہے ہمارا آسماں تب زمیں کی سطح ہو جاتی ہے ٹھنڈی جان جاں جب ہوا چھوتی ہے اس ٹھنڈی ہوا کو شوق سے تب ہوا ٹھنڈک سے ہو جاتی نمی لبریز ہے جیسے ہی اس میں حرارت کی کمی آ جاتی ہے بھاپ وہ پانی کی چھوٹی بوند میں ڈھل جاتی ہے چھوٹی چھوٹی بوند کی شکلوں میں آ کر گھاس ...

مزید پڑھیے

نظام شمسی

گھومنا ہر ایک کی پہلی پسند اس لیے ڈالا ستاروں یہ کمند ہم ہیں بچے کیا ہمارا پوچھنا کس قدر ہم چاہتے ہیں گھومنا اس جگہ جو کوئی رہتا ہے پڑا اس کو کہیے بے کھٹک پاگل بڑا یہ زمیں یہ چاند یہ سورج سبھی گھومنا ہے ان کی اصلی زندگی روز پورا ایک چکر یہ زمیں کر لیا کرتی ہے کر لیجے یقیں اس ...

مزید پڑھیے

پارلے تٹ

رات کی پروا سوکھے پتے نیلے پیلے رتے اک محتاط سی چاپ کوئی طلسمی جاپ چاروں اور میں لہریں لیتی ایک پرانی خوشبو رات ہوئی آنچل کی سیاہی تن من نور کا پھول حوض کی مرمر والی کگر تاروں بھری کہانی شیشہ شیشہ پانی پانی میں دو عکس لرزاں لرزاں رقص دھیمے گیت فرشتوں والے پاک سرشتوں والے پارلے ...

مزید پڑھیے

درد عروج پر آ جائے تو

آ ری میل کچیلی بھوکی ننگی دنیا میں نے اک دن تیری قیمت اک کم بیش روپے رکھی تھی اپنے کہے پر آج بہت شرمندہ ہوں آ میں تیرے سنگ اک آخری رقص کروں آگ اور دھوئیں کی آمیزش سے سدرہ بوس درخت بنائیں اور پھر اس کے سائے تلے ہم گرجیلے گیتوں کی لے پر چھاتی سے چھاتی ٹکرائیں قدم سے قدم ملائیں کیا ...

مزید پڑھیے

تو بھی ایسا سوچتی ہوگی

وقت نے ہم کو کس رستے پر لا ڈالا ہے دونوں اک ان چاہی ہمراہی کی سولی لے کر بوجھل بوجھل پاؤں دھرتے جائیں چلتے جائیں تو بھی آخر انساں ہے تیرے پاس بھی ارمانوں کا ریشم ہوگا کبھی کبھی تو تو بھی درد کی سوئی لے کر کوئی لمحہ کاڑھتی ہوگی چلتے چلتے کبھی کبھی کوئی بھیگا پل گئے دنوں کے بحر میں ...

مزید پڑھیے

کشکول

فلک نے آگ برسائی زمیں نے کاٹھ کے اوتار اگلے غموں کی بارشیں برسیں چراغوں نے لہو اگلا چمن کی کیاریاں سوکھیں گلوں کے جسم کمہلائے کئی کوٹھے سجے کتنے گھروں میں وحشتیں جاگیں ذرا سی جھنجھلاہٹ سب کے چہرے پر ابھر آئی مگر پھر جانے کیا گزری کہ سب نے ہاتھ میں کشکول تھامے اور ان لوگوں سے ...

مزید پڑھیے

زمین کا بوجھ

ازل سے ارتقا کی رہ گزر میں ہزاروں قافلے ہیں جادہ پیما ابد کی منزلوں میں چلتے چلتے بہت سے لوگ کھو کر رہ گئے ہیں غبار راہ ہو کر رہ گئے ہیں جنہیں سرمایۂ عرفاں ملا تھا جنہیں عقل جنوں ساماں ملی تھی وہ اپنی منزلوں کی سختیوں کو سفر کی ناسزا بد بختیوں کو ادائے تمکنت سے پی گئے ہیں اور ان ...

مزید پڑھیے

نیا شہر

مجھے یاد ہے رائیگانی کے گہرے سمندر میں جب میں نے اکتارہ اپنا بجایا تو اس نغمۂ جاں فزا سے مقامات آہ و فغاں کے ابھارے مضامین نو کے شرارے جگائے مٹا ڈالا احساس سب رائیگانی کا سمندر کی تہہ سے نیا شہر ابھارا

مزید پڑھیے

ایک خواہش

یہ خواہش ہے کہ میں گیلی زمیں پر اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی سے اک بے حاشیہ تصویر کھینچوں جو مرے محبوب کے چہرے کے تجریدی تصور سے مزین ہو ہوا، گلشن کی دیواروں کے روزن سے ادھر آئے تو اس تصویر میں اپنے معطر رنگ بو دے مرے خاکے کی تجریدیں مٹا دے اٹھا کر گیلی مٹی سے سجا دے میری آنکھوں میں یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 817 سے 960