اداسی ایک لڑکی ہے
دسمبر کی گھنی راتوں میں جب بادل برستا ہے لرزتی خامشی جب بال کھولے کاریڈوروں میں سسکتی ہے تو آتش دان کے آگے کہیں سے وہ دبے پاؤں مرے پہلو میں آتی ہے اور اپنے مرمریں ہاتھوں سے میرے بال سلجھاتے ہوئے سرگوشیوں میں درد کے قصے سناتی ہے جولائی کی دوپہریں ممٹیوں سے جب اتر کر آنگنوں میں ...