شاعری

اداسی ایک لڑکی ہے

دسمبر کی گھنی راتوں میں جب بادل برستا ہے لرزتی خامشی جب بال کھولے کاریڈوروں میں سسکتی ہے تو آتش دان کے آگے کہیں سے وہ دبے پاؤں مرے پہلو میں آتی ہے اور اپنے مرمریں ہاتھوں سے میرے بال سلجھاتے ہوئے سرگوشیوں میں درد کے قصے سناتی ہے جولائی کی دوپہریں ممٹیوں سے جب اتر کر آنگنوں میں ...

مزید پڑھیے

آفٹر شاکس

اب کے برس چومکھ میں ایک عظیم فراق کی برف پڑی ہے کہساروں نے کافوری قبریں اوڑھی ہیں کسی قدم کا نقش کوئی دھنستا ہوا پاؤں کوئی پھسلتا خندہ کوئی کلکاری کچھ بھی نہیں کچھ بھی تو نہیں سارے میں اک مرمر ایسی بے حس یخ کی شوک دہک رہی دھرتی کے سینے اوپر مرہم ایسی منفی دس کی مری پڑی خاموشی ایک ...

مزید پڑھیے

بھاری پیڑوں تلے

کشتی اندر گھور سمندر لہر لہر لہرائے پوروں اندر نیلا امبر گھمر گھمر چکرائے جس کو دیکھوں ڈوبتا جائے لوٹ کے پھر نہیں آئے گم ہو جائے کوئی نہیں پائے

مزید پڑھیے

اداسی ایک لڑکی ہے

دسمبر کی گھنی راتوں میں جب بادل برستا ہے لرزتی خامشی جب بال کھولے کاریڈوروں میں سسکتی ہے تو آتش دان کے آگے کہیں سے وہ دبے پاؤں مرے پہلو میں آتی ہے اور اپنے مرمریں ہاتھوں سے میرے بال سلجھاتے ہوئے سرگوشیوں میں درد کے قصے سناتی ہے جولائی کی دوپہریں ممٹیوں سے جب اتر کر آنگنوں میں ...

مزید پڑھیے

باتیں پاگل ہو جاتی ہیں

میری بند گلی کے سارے گھر کتنے عجیب سے لگتے ہیں محرابی دروازے جیسے مالیخولیا کی بیماری میں دھیرے دھیرے مرتے شخص کی کیچ بھری آنکھیں ہوں آگے بڑھی ہوئی بلکونیاں جیسے احمق اور ہونق لوگوں کی لٹکی ہوئی تھوڑیاں ہوتی ہیں اک دوجے میں الجھے بیٹھک آنگن سونے والے کمرے اور رسوئیاں سارا یوں ...

مزید پڑھیے

زینے تو بس زینے ہیں

جس نے جنم کی گھٹی چکھی اس کو زینے طے کرنا ہیں اندر باہر نیچے اوپر آگے پیچھے زینے ہر ہر اور جتنا جانو چڑھ آئے اتنا سمجھو اتر چکے ہو اس نے کہا زینے عجب فریب ہیں بابا آج تلک یہ کھل نہیں پائے زینے یہ بل کھاتے زینے جنم جنم کے پھیر ازل گھڑی سے انت سمے تک زینے اپرم پار اس نے کہا زینہ ...

مزید پڑھیے

غصیلا پرندہ ایک دن اسے کھا جائے گا

اک موجود میں خوف کا بے حد رات سمندر چھل چھل چھلکے ناموجود کی اک موہوم سی روشن مچھلی پھڑکے ابھرے ڈوبے ایک غصیلے سچ کا بے رنگ طائر نامعلوم سے نامعلوم تلک اپنے پر پھیلائے سائیں سائیں اس پر جھپٹے ننھی مچھلی کب تک خود کو بچائے

مزید پڑھیے

دوسرے سائرن سے پہلے

اندھیرا ہے ابھی تم اپنے ہونٹوں کو یونہی میرے لبوں سے متصل رکھو ابھی اس وقت تک تھامے رہو میرے بدن کو اپنی بانہوں سے کہ جب تک اک دھماکے سے پھٹے آتش فشاں جسموں کا اور کتنے ہی قرنوں کی چھپی حدت بہے لاوے کی صورت میں کہ جب تک سائرن کی چیختی مکروہ موسیقی فضا کو پھاڑ دے اور جگمگائیں ...

مزید پڑھیے

آگ

سلگتے ہوئے میٹھے جذبات کی آگ سے جسم کچھ اس طرح تپ رہا ہے کہ جی چاہتا ہے نظر جو بھی آئے اسے اپنی بانہوں میں کچھ ایسے بھینچوں کہ میرے بدن میں سما جائے وہ یوں نظر تک نہ آئے ہٹاؤں جو بانہیں میں اس کے گلے سے تو ڈھیر ایک مٹی کا قدموں میں پاؤں

مزید پڑھیے

مگر میری آنکھوں میں

مینہ برستا ہے آنگن میں بوندوں کی رم جھم میں چڑیاں چہکتی ہوئی چار سو گھومتی ہیں چھتوں پر گھنے کالے بادل بنے دیوتا جھومتے ہیں ستونوں سے لپٹی ہوئی سرخ پھولوں کی بیلیں برستے ہوئے مینہ کی بوچھار میں اپنا جوبن نکھارے مچلتی ہیں آنگن میں کھلتے ہوئے خالی کمرے اندھیرے کی بکل میں سمٹے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 816 سے 960