شاعری

تلاش

غسل طہارت کے لیے ڈوبا افق میں آفتاب افروختہ قندیل اپنی ہاتھ میں اپنے لیے راہبانہ رات پھرتی ہے فلک پر سوگوار جستجو سے شل ہیں اب چپو چلاتے ہاتھ ماہ و سال کے بے صبر، جھک کر ہاتھ سے اپنے فنا وسط سمندر میں اٹھاتی ہے بھنور ہوتی ہے مہلت ختم اب تو پردۂ اخفا اٹھا میرے مقدس خواب کی تعبیر ...

مزید پڑھیے

جنگل

نسا جال کا پھیلتا سلسلا مکانوں کی چیخیں جکڑ کر شکنجوں میں بنیاد کو توڑتی ہیں جنہیں ہراول جڑیں زمیں بوس ہوتی ہیں اونچی چھتیں سبز ماہی مراتب اٹھائے ہوئے بندروں کی صفیں آب زیریں کے خوں سے ہے جس کی نمو سبز ہوتا ہے اب پھر وہی سرخ رو

مزید پڑھیے

زمیں کی رات

زمیں کی رات کی ہے حکمرانی اسی کا ایلچی سورج ہے آؤ! بجھی جو روشنی دیتی ہیں وہ شمعیں جلاؤ اسی کے یہ خزاں دیدہ چمن ہیں دمکتے آنسوؤں کے بیچ بو کر زمین خواب سے اپنا کوئی گلشن اگاؤ اسی کے ہیں یہ چشمے تلخ سارے ازل کی تشنگی کو ساتھ لے کر سر صحرا کھڑے ہو کر سرابوں کو بلاؤ

مزید پڑھیے

تخلیق

نابود کے کامل سناٹے میں ذہن آفاقی شور خیالوں کا اپنے سنتا ہے اعماق کی تاریکی سے ابھر کر نور کا ایک اعظم ذرہ شق ہو کے عدم کے سناٹے کو توڑتا ہے پیٹھوں پہ ہوائے شمسی مارتی ہے درے۔۔۔ دوری حرکت میں آتے ہیں ساکت کرے افکار کا ورطہ بین النجم خلاؤں میں آواز مہیب سے گھومتا ہے سورج کے ...

مزید پڑھیے

راز

شام و سحر کے منظر گہری اداسیوں کے پردے گرا رہے ہیں واقف تو تھیں ہمیشہ ان سے میری نگاہیں اوڑھے نہ تھیں فضائیں یوں کہر کی عبائیں کچھ تھا جو کھو گیا ہے? شاخ نظر پے دہکا برگ حنا کا شعلہ یوں کانپتا ہے جیسے مٹتا کوئی ہیولیٰ شام و سحر سے کوئی مفرور ہو گیا ہے؟ سینے میں میں ...

مزید پڑھیے

جرم

اترا تھا محبت سے باطن کے اندھیرے میں تم ہی نے مگر اس کو نہ دوست کبھی جانا روشن نہ کبھی مانا اب ٹھوکریں کھاتے ہو باطن کے اندھیرے میں اور ڈھونڈتے پھرتے ہو رفعت پہ مگر بہتا ظلمات کا دھارا ہے معدوم وہ تارا ہے یہ جرم تمہارا ہے

مزید پڑھیے

تذلیل

تم نے سنا موسم نے سبزے کی زبانی کیا کہا؟ ''یہ نہیں ان کی جگہ'' یہ بھی کہا کہ ''مطربوں کا طائفہ ان کے لیے ہے صرف جن کا سامعہ معتقد ہے صبح نو کے طربیہ الحان کا'' اور طائروں نے یک زباں اس بات کی تصدیق کی گردن ہلائی ساق پر ہر پھول نے اور پیٹھ دے کر اپنی خوشبو روک لی منہ موڑ کر شاخوں نے روکی ...

مزید پڑھیے

خوف

دائم تو فلک نزدیک نہیں رہتا تو اب تو ہاتھ بڑھاتا ہے اور تارے توڑتا جاتا ہے جب دور مگر اک دن یہ فلک ہو جائے گا تب کیا اس کو سمجھائے گا یہ بھی تو ممکن ہے لیکن اس وقت دریدہ خود اس کا بھی دامن ہو اور وہ خود بھی یہ جانتی ہو کہ آخر وہ دن آتا ہے جب دور فلک ہو جاتا ہے

مزید پڑھیے

گناہ

کچی مٹی کے آنگن میں طاق بدر پتھر پہ دھرا معصوم دیا آدھے روشن آدھے تاریکی میں ڈوبے اک انساں نے شب کی آمد پر ایک ستارے کا ایما پا کر اپنے اطاق تیرہ کے اک اونچے طاق میں اس کو اجالا تھا برفاب سیاہی نے شب کی کانوں میں اس کے ایسی کیا سرگوشی کی کہ اس کا دیا اس نے کالا کمبل اوڑھا اور طاق ...

مزید پڑھیے

راز

شام و سحر کے منظر گہری اداسیوں کے پردے گرا رہے ہیں واقف تو تھیں ہمیشہ ان سے میری نگاہیں اوڑھے نہ تھیں فضائیں یوں کہر کی عبائیں کچھ تو جو کھو گیا ہے شاخ نظر پہ دہکا برگ حنا کا شعلہ یوں کانپتا ہے جیسے مٹتا کوئی ہیولیٰ شام و سحر سے کوئی مفرور ہو گیا ہے سینے میں میں تقاطر

مزید پڑھیے
صفحہ 785 سے 960