شاعری

نظم

اگر قوم کی ہے ترقی کی خواہش سنو کان دھر کے ہماری گزارش غرور و ہوس کا نمونہ امیری بڑی اس سے ہندوستاں میں فقیری تونگر وہی ہے جو رہتا ہے قانع غریبوں کی خدمت نہ ہو جس کو مانع غریبوں سے ہنس ہنس کے کرتے ہیں نفرت سمجھتے ہیں اپنے کو حق دار دولت سزا وار ان کو امیری نہیں ہے جنہیں عادت ...

مزید پڑھیے

ننھا پودا

قلب زمیں کی گہرائیوں میں نشو و نما کی انگڑائیوں میں سویا ہوا تھا آہنگ ہستی مٹی کی تہہ میں مانوس پستی باراں کے قطرے رس کر برس کر بولے لہک جا روئے زمیں پر سورج کی گرمی چھن چھن کے آئی بولی اٹھ جا لے روشنائی ٹھنڈی ہوائیں نزدیک جا کر کہنے لگیں یہ اس کو جگا کر اٹھ جا رے ننھے اٹھ لہلہا ...

مزید پڑھیے

پھرکی

آؤ آؤ پھرکی بنائیں اور ہوا میں خوب نچائیں آؤ چلیں اور کاغذ لائیں نیلا پیلا کاغذ لائیں لالو پیلا کاغذ لائے کالو نیلا کاغذ لائے لالو جا کر قینچی لائے کالو جا کر لیئی لائے لالو نے پھر کاغذ کاٹے آڑے ترچھے ٹیڑھے بانکے پھر ان سب ٹکڑوں کو موڑا اور سب کو لیئی سے جوڑا لو اب وہ تیار ہے ...

مزید پڑھیے

بڑھیا اور چڑیا کی کہانی

آؤ بچو گیت سنائیں گیت سنائیں خوب ہنسائیں اک بڑھیا نے چڑیا پالی ننھی منی بھولی بھالی بڑھیا بیٹھی کھیر پکاتی چڑیا اس کو گیت سناتی اک دن بڑھیا بھوکی آئی جلدی جلدی کھیر پکائی منہ دھو کر وہ کھانے بیٹھی چڑیا گیت سنانے بیٹھی بڑھیا نے سب کچھ کھا ڈالا چڑیا کو بھوکا ہی ٹالا چڑیا جب پنجرے ...

مزید پڑھیے

سب کا پیارا

ایک دن لالو روتے آئے آنسوؤں سے منہ دھوتے آئے ابا نے آ کر چمکارا کیوں روتے ہو کس نے مارا بھائی جان نے پوچھا آ کر آئے مار کہاں سے کھا کر دادی گرتی پڑتی آئیں لٹھیا کھٹ کھٹ کرتی آئیں لالو کو جو روتے دیکھا پوچھا بیٹا کس نے مارا آ جا میری گود میں آ جا میرا بنا میرا راجا اماں آئیں آپا ...

مزید پڑھیے

آتما ترنگ

اس دیس کی چاہت فانی ہے یاں حسن و وجاہت فانی ہے یاں جنگ و رقابت فانی ہے یاں امن و اقامت فانی ہے جس دیس میں آنی راج نہیں اس دیس میں چل سنسار کریں یاں جنس تغیر سستی ہے یاں خوف بلند و پستی ہے فطرت بھی رہین ہستی ہے یہ وہم و گماں کی بستی ہے جس دیس میں آنی راج نہیں اس دیس میں چل سنسار ...

مزید پڑھیے

نوائے تلخ

جذبات کے طوفاں میں یہ ضبط فغاں کب تک مجبور یہ دل کب تک مرعوب زباں کب تک یہ سود کے پردے میں آہنگ زیاں کب تک الفاظ کے پھندوں میں اعجاز بیاں کب تک آزاد ہواؤں میں پر تول نہیں سکتے اغیار کے ہاتھوں میں عمر گزراں کب تک اٹھ جذبۂ خودداری تا چند زیاں کاری اٹھ جوش حمیت اٹھ یہ خواب گراں کب ...

مزید پڑھیے

نقش بردیوار

متاع درد کو صاحب شعور کھو بیٹھے ثبات عزم کو مرد غیور کھو بیٹھے نظر سے محو ہے ام‌ الکتاب کی تفسیر حضور معنیٔ غیب و ظہور کھو بیٹھے گیا جو ہاتھ سے ایمان تو تحیر کیا وفور عیش میں تخت و قصور کھو بیٹھے دل و دماغ سے رخصت جہاد کا جذبہ سبیل حق کے ضروری امور کھو بیٹھے خودی سے باقی تھی مذہب ...

مزید پڑھیے

طرحدار کہاں سے لاؤں

جھوٹ کی گرمئ بازار کہاں سے لاؤں رقص‌ بے معنی کی جھنکار کہاں سے لاؤں ڈھونڈ کے حیلۂ تکذیب برائے انصاف بے محابا سر دربار کہاں سے لاؤں بے خبر عشق سے ہیں آج ریاکار شیوخ جذب منصور سر دار کہاں سے لاؤں بیچ کر چادر زہرا کو سجاتا فردوس ریشمی مکر کی دستار کہاں سے لاؤں موت کی گود میں ہے ...

مزید پڑھیے

حق کیش کی فریاد

تحسین کے طالب نہیں اوصاف خداداد آفاق ہلا دیتی ہے حق کیش کی فریاد آباد کہاں حلقۂ شعری کی فضا میں بت خانۂ مانی کہ صنم خانۂ بہزاد مٹ جائے گا ایوان تفاخر کا تکلف یک شعلہ‌ٔ جوالہ ہے آہ دل ناشاد ضرغام ہے روباہ کے زرین قفس میں آزاد ہیں پابند گرفتار ہیں آزاد غازی نے کہا لوٹ لو بت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 730 سے 960