شاعری

احسن تقویم

بستان‌ وفا دہر میں آباد ہے ہم سے دن رات زمانے کو خدا یاد ہے ہم سے تاریخ جنوں خون سے کی ہم نے نگارش آفاق ہیں ہر مسند ارشاد ہے ہم سے روشن کیا ظلمات میں قندیل ہنر کو صحرا میں چمن نور کا آباد ہے ہم سے ہم جنت پرویز کے ہیں حسن تفاخر شیریں کی طلب تیشۂ فرہاد ہے ہم سے سانچے میں غم و درد کے ...

مزید پڑھیے

حکمت کا بت خانہ

شراب شور سے لبریز ہے دنیا کا پیمانہ حریف‌ دین و دانش ہے مذاق پیر مے خانہ بشر ابلیس کو تزویر نو کا درس دیتا ہے مزین ہے گناہ گوناگوں سے ہر پری خانہ علوم‌ نو سے روشن بزم ہے تہذیب حاضر کی ید تجدید نے ڈھالا ہے دل آویز بت خانہ یہ مانا مغربی تعلیم نے پرواز بخشی ہے یہ ماہ و خور بھی بن ...

مزید پڑھیے

رقاصۂ اوہام

اصنام‌ امارت کا پرستار ہے عالم سرمایۂ غفلت کا خریدار ہے عالم کٹتی ہیں سدا صدق مقالوں کی زبانیں حق گو کے لئے عرصہ گہ دار ہے عالم درویش خدا نان شبینہ کو ہے محتاج گو نعمت و اکرام کا بازار ہے عالم شاداب ہے دن رات غریبوں کے لہو سے ارباب زر و سیم کا گلزار ہے عالم خود زاہد صد سالہ ...

مزید پڑھیے

خنجر تلاش کرتا ہے

بشر رموز مقدر تلاش کرتا ہے قضاوقدر کا محور تلاش کرتا ہے فقیہ شہر صنم‌ خانۂ سیاست میں صراط دین کا رہبر تلاش کرتا ہے خدا کو چھوڑ کے جمہور کا ہوس پیشہ سکون قلب فلک پر تلاش کرتا ہے مذاق‌ عدل سے بیگانہ ہے مگر انسان فساد خانہ میں یاور تلاش کرتا ہے پئے نجات وطن میں بہ فیض آزادی شریف ...

مزید پڑھیے

تم سے شکایت کیا کروں

ہوتا جو کوئی دوسرا کرتا گلہ میں درد کا تم تو ہو دل کا مدعا تم سے شکایت کیا کروں دیکھو ہے بلبل نالہ زن کہتی ہے احوال چمن میں چپ ہوں گو ہوں پر محن تم سے شکایت کیا کروں مانا کہ میں بے ہوش ہوں پر ہوش ہے پرجوش ہوں یہ سوچ کر خاموش ہوں تم سے شکایت کیا کروں تم سے تو الفت ہے مجھے تم سے ...

مزید پڑھیے

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہو جب صحن چمن میں کلیاں کھل کر پھول کی صورت ہوتی ہیں اور اپنی مہک سے ہر دل میں اک تخم لطافت بوتی ہیں تم یاد مجھے آ جاتے ہو تم یاد مجھے آ جاتے ہو جب برکھا کی رت آتی ہے جب کالی گھٹائیں اٹھتی ہیں جس وقت کہ رندوں کے دل سے ہو حق کی صدائیں اٹھتی ہیں تم یاد مجھے آ ...

مزید پڑھیے

بیاض دل

بیاض دل کو جو کھولیں تو جستجو ہوگی ہر ایک صفحۂ ہستی کی گفتگو ہوگی انہیں یہ ضد کہ نہ آؤ ہماری محفل میں ہمیں گماں رہا کچھ تو وفا کی خو ہوگی اسی سبب سے تھا اے نامہ بر تجھے روکا کہ اب تو بات جو ہوگی وہ روبرو ہوگی مزاج ان کا سمجھنا کسی کے بس میں نہیں وفا کی بات پر ایسی بھی تم سے تو ...

مزید پڑھیے

جستجو

تصور میں سارے جہاں دیکھتی ہوں مکیں دیکھتی ہوں مکاں دیکھتی ہوں بھٹکتی پھری سارے عالم میں ہر سو جہاں میں نہیں ہوں وہاں دیکھتی ہوں چمکتے ستاروں میں دیکھا ہے اس کو میں جھرنوں میں اس کو نہاں دیکھتی ہوں کبھی چاند سورج کی کرنوں میں ڈھونڈا وہاں رنگ برنگ کہکشاں دیکھتی ہوں کبھی اس کو ...

مزید پڑھیے

ہند کے جاں باز سپاہی

سر بکف ہند کے جاں باز وطن لڑتے ہیں تیغ نو لے صف دشمن میں گھسے پڑتے ہیں ایک کھاتے ہیں تو دو منہ پہ وہیں جڑتے ہیں حشر کر دیتے ہیں برپا یہ جہاں اڑتے ہیں جوش میں آتے ہیں دریا کی روانی کی طرح خون دشمن کا بہا دیتے ہیں پانی کی طرح جب بڑھاتے ہیں قدم پیچھے پھر ہٹتے ہی نہیں حوصلے ان کے جو ...

مزید پڑھیے

پکار وقت کی

چلو کہ پہلے نفرتوں کی آن بان توڑ دیں یہ وقت کی پکار ہے الگ الگ یہ راستوں پہ رینگتے سے قافلے قدم قدم مسافروں کے ٹوٹتے سے حوصلے یہ رینگتے سے قافلوں کو ٹوٹتے سے حوصلوں کو اک ڈگر سے جوڑ دیں یہ وقت کی پکار ہے یہ شہر شہر خون کے بہاؤ میں بسا ہوا یہ گاؤں گاؤں آپسی تناؤ میں کسا ہوا یہ خون کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 731 سے 960