نظم کو نظم کے حال پر چھوڑ دو
ابتدا سے کبھی نظم ہوتی نہیں اور کبھی ابتدا سے بھی پہلے کہیں نظم ہونے کے آثار ملتے ہیں جیسے کہیں قبل از زندگی زندگی کے تصور سے پہلے مگر زندگی سے بھی بہتر بر آمد ہوئی کوئی تہذیب تہذیب ملتی تو ہے پر کبھی ابتدا اس کی ملتی نہیں ابتدا سے بھی پہلے تلک ذہن جاتا نہیں اور تہذیب سے لینا دینا ...