شاعری

نظم کو نظم کے حال پر چھوڑ دو

ابتدا سے کبھی نظم ہوتی نہیں اور کبھی ابتدا سے بھی پہلے کہیں نظم ہونے کے آثار ملتے ہیں جیسے کہیں قبل از زندگی زندگی کے تصور سے پہلے مگر زندگی سے بھی بہتر بر آمد ہوئی کوئی تہذیب تہذیب ملتی تو ہے پر کبھی ابتدا اس کی ملتی نہیں ابتدا سے بھی پہلے تلک ذہن جاتا نہیں اور تہذیب سے لینا دینا ...

مزید پڑھیے

ٹچ اسکرین

میں اپنی شاعری اک ڈایری میں نوٹ کرتا تھا کوئی احساس مجھ میں نظم بھرتا یا کوئی مصرعہ اترتا تھا تو سب سے پہلے مجھ کو نوٹ بک درکار ہوتی تھی جہاں کاغذ کی حدت سے قلم کی روشنائی کی حرارت سے غزل تیار ہوتی تھی بنا اس دھیمی دھیمی آنچ کے میرے لیے ہر نظم ہی دشوار ہوتی تھی پھر اک دن مجھ کو ...

مزید پڑھیے

مری آنکھیں

تمہاری دید کی خواہش لیے جب بھی تمہاری جھیل آنکھوں تک پہنچتی ہیں وہاں پہلے سے ہی اک آنکھ یعنی تیسری موجود ہوتی ہے یہ سن رکھا تھا میں نے روزمرہ کی مثالوں میں کہ اندھوں میں جو کانا ہو اسی کا راج چلتا ہے مگر اندر ہی اندر ہر کوئی واقف ہے بھیتر جو کہانی ہے یہاں کانا تو بینا شخص پر بھی ...

مزید پڑھیے

اور جو دسترس میں نہیں

جب وہ غصے میں ہوتی ہے تو کچھ بھی کہہ جاتی ہے دکھ تو ہوتا ہے پر اصل میں مجھ کو تشویش رہتی ہے اس بارے جو اس کے ہونٹوں پہ آتا نہیں دل میں رہ جاتا ہے دوست کتنے ہیں جو دل میں آنے سے پہلے ہی بک دیتے ہیں کہتے رہتے ہیں اچھی بری اور وہ دوست جو ہر جگہ بیٹھا رہتا ہے خاموش بس سر ہلاتا ہے ہاں ...

مزید پڑھیے

دریا کے کنارے

پانی بہتا چلتا ہے کچھ دکھ سہتا چلتا ہے سناٹا سا کچھ چھایا ہے پانی کچھ مرجھایا ہے لہریں ہیں کچھ میلی میلی موجیں ہیں کچھ پھیلی پھیلی تارے جھک جھک پڑتے ہیں پتے چپ چپ جھڑتے ہیں ابر کے ٹکڑے اڑتے ہیں کٹتے ہیں پھر جڑتے ہیں تارے جھم جھم ہوتے ہیں طائر چپکے سوتے ہیں شاخیں سر بہ گریباں ...

مزید پڑھیے

رام

کوئی مست بادہ و جام ہے کوئی محو رقص و خرام ہے کوئی صرف شعر و کلام ہے کوئی محو تیغ و نیام ہے مجھے دو نہ رنگ کی دعوتیں مرے دل کی آنکھ میں رام ہے مجھے کوئی روگ ستائے کیوں مجھے کوئی رنج رلائے کیوں مرے دل کو آگ جلائے کیوں مری خاک چرخ اڑائے کیوں مجھے خوف گرد الم نہیں مرے دل کی آنکھ میں رام ...

مزید پڑھیے

یوم برق

تری روشن دماغی پر ہیں نازاں آسماں والے تری نازک خیالی پر ہیں حیراں گلستاں والے تری عظمت کے قائل دل سے ہیں سارے جہاں والے سخن دانوں کی محفل میں تو شمع حسن محفل ہے ستاروں میں ضیا افروز مثل ماہ کامل ہے سمجھتے ہیں تجھے سالار اپنا کارواں والے کہیں الفاظ میں حسن حقیقی کی ہیں ...

مزید پڑھیے

ہولی

ہر ایک پھول ہوا رنگ بار ہولی میں ہر ایک شاخ ہے صورت نگار ہولی میں گلوں سے موج شفق رنگ کھیلنے آئی عجب ہے ارض و سما پر بہار ہولی میں وہ سرخ پوش گلستاں میں رنگ کھیلا ہے گل و سمن پہ ہے طرفہ نکھار ہولی میں ہر ایک چیز سے رنگ وفا ٹپکتا ہے شہید عشق کی ہے یادگار ہولی میں کچھ اس طرح سے ہوئی گل ...

مزید پڑھیے

زندگی

زندگی خواب نہیں نقش بر آب نہیں سوچ کا دریا ہے عمل کا صحرا ہے وصل کا روپ ہے ہجر کی دھوپ ہے یار کی نشانی ہے پیار کی کہانی ہے درد کی خوشبو ہے اک سلگتی آرزو ہے زندگی شام بھی ہے شام بے نام بھی ہے

مزید پڑھیے

نظم

شہری ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا ہے یہ زمین ہماری یہ آسماں ہمارا ویدانت بھی ہمارا قرآن بھی ہمارا اللہ بھی ہمارا بھگوان بھی ہمارا دیوالی اور دسہرا عید الاضحیٰ محرم دنڈی کی یہ سواری اور یہ نشاں ہمارا یہ پوجا پاٹھ اپنا روزہ نماز اپنی اظہار عقیدت کا ہے یہ نشاں ہمارا اوتار اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 729 سے 960