شاعری

تہذیب کی آیت

جب انسان نے پڑھنا سیکھا پڑھنے لگا تہذیب کی آیت مٹی آگ ہوا اور پانی دشمن سارے بن گئے یار اس کی آیت کی تفسیریں اب اتنی ہیں کہ عقل ہے دنگ لیکن اک ایسی ہے بات جس سے کہ بنتی ہے بات ان بے گنتی تفسیروں کی ہر اک انساں انساں ہے جب انسان نے پڑھنا سیکھا پڑھنے لگا تہذیب کی آیت گرنے لگیں ...

مزید پڑھیے

لوگ کہتے ہیں

لوگ کہتے ہیں کہ یہ عالم ہے اک عالم نیا ساز نو ہاتھوں میں ہے پیدا ہے زیر و بم نیا لوگ کہتے ہیں کہ اب قسمت ہمارے ساتھ ہے لوگ کہتے ہیں کہ اب عظمت ہمارے ساتھ ہے لوگ کہتے ہیں کہ اب جدت ہمارے ساتھ ہے لوگ کہتے ہیں مگر کہنے سے کچھ ہوتا نہیں یہ جو عالم ہے نگاہوں میں نہیں عالم نیا ہاں مگر ہر ...

مزید پڑھیے

خلا

چار سو اک اداس منظر ہے زیست ہے جیسے ایک ویرانہ جانے کیوں پھٹ رہا ہے آج دماغ ہو نہ جاؤں کہیں میں دیوانہ دوست کہتے ہیں سیر کر آئیں موج کر آئیں دل کو بہلائیں کوئی دلبر نہ دل نشیں کوئی کوئی گل رو نہ مہ جبیں کوئی جی مچل جائے جس سے ملنے کو ہائے اس دہر میں نہیں کوئی چاند تاروں کی روشنی ...

مزید پڑھیے

چارہ گر

اب کسے چارہ گر درد کہیں درد ہوتا ہے ہر اک آن سوا درد پہلے بھی تو ہوتا تھا بہت سخت اور ایسا کہ جاں کا دشمن موت آنے کے یقیں کا ہمدم زندہ رہنے کے گماں کا دشمن لیکن اس درد کی کچھ اور تھی بات درد اٹھتا بھی ہے دل میں کہ نہیں اٹھتا ہے ہونے پاتا ہی نہ تھا اس کا کسی پل احساس ہونے پاتا نہ تھا ...

مزید پڑھیے

مزدور

شاہد دہر کی تصویر بنانے والے اپنی تصویر کی جانب بھی ذرا ایک نظر اے ہر اک ذرے کی تقدیر بنانے والے اپنی تقدیر کے خاکوں کو فراموش نہ کر تیری تقدیر ہے آئینۂ تقدیر جہاں خوب معلوم ہے تیرا غم تنہا مجھ کو تجھ میں اٹھنے کے نشاں تجھ میں سنبھلنے کے نشاں تیری صورت میں نظر آتا ہے فردا مجھ ...

مزید پڑھیے

پہچان

اک لاش کو اک چوراہے پر کچھ لوگ کھڑے تھے گھیرے ہوئے لگتا تھا تماشا ہو جیسے سب اپنی اپنی کہتے تھے مردے کا پتا بتلانے لگے اف قوم کا اک معمار ہے یہ سب جھوٹ بڑا عیار ہے یہ رہبر ہے یہ اک سالار ہے یہ بکواس کہ اک غدار ہے یہ افسوس کہ اک فن کار ہے یہ کیا خوب ارے بیکار ہے یہ ناگاہ کہیں سے اک ...

مزید پڑھیے

دیوار

کارواں بڑھتا رہا بڑھتا رہا پے بہ پے جادہ بہ جادہ اپنی منزل کی طرف صف بہ صف شانہ بہ شانہ رہروؤں کو لے چلا جہد پیہم کا ہر اک اقدام حاصل کی طرف پھر نہ جانے کیا ہوا کیسی چلی الٹی ہوا دفعتاً قدموں کے نغمے سرد سے ہونے لگے تھک گیا عزم سفر امید کا دم گھٹ گیا شوق کے سرگرم جذبے راہ میں کھونے ...

مزید پڑھیے

علم

کون جانے کہ یہ خورشید ہے نا‌ خوب کہ خوب چاند اچھا کہ برا کون بتا سکتا ہے خوش کہ نا خوش ہیں یہ شمعیں یہ ستارے یہ شفق کون یہ پردۂ اسرار اٹھا سکتا ہے ہاں یہ ممکن ہے شعاعیں ہوں ضرر کا باعث کون کہتا ہے اجالوں سے کرو کسب زیاں روشنی آگ سے نکلی ہے جلا سکتی ہے بات اتنی بھی سمجھ سکتے نہیں ہم ...

مزید پڑھیے

روح آوارہ

یاس خیز صبحوں سے بے سکون شاموں سے بھاگنے کی کاوش نے کتنی رہ گزاروں کے پیچ و خم کے جلووں سے آشنا کرایا ہے در بدر پھرایا ہے جانے کب یہ ہوش آیا صبح و شام بے معنی بے سکون و بے امید پھر تو سلسلہ نکلا لمحہ ہائے کاوش کا چین کھو گیا دن کا نیند اڑ گئی شب کی جستجو کا یہ چکر کھینچ لے گیا ...

مزید پڑھیے

رات

رات کے اندھیرے میں کتنے پاپ پلتے ہیں پوچھتا پھرے کوئی کس سے کون پاپی ہے پوچھنے سے کیا حاصل پوچھنے سے کیا ہوگا محشر اک بپا ہوگا شور ناروا ہوگا درد کم تو کیا ہوگا اور کچھ سوا ہوگا کون کس کی سنتا ہے کس کو اتنی فرصت ہے داد خواہ بننا بھی فعل بے فضیلت ہے داد سم قاتل ہے مرنا کس کو بھاتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 715 سے 960