شاعری

امید

زیست یوں ہی نہ رہے گی مغموم زندگانی کو بدلنا ہوگا لاکھ آمادۂ سازش ہے یہ شب اس شب تیرہ کو ڈھلنا ہوگا موت کا سایہ لرزتا ہے تو کیا وقت آلام کو لایا ہے تو کیا نامۂ درد جو آیا ہے تو کیا غم کو سہہ جائیں دلاور بن کر پی لیں دریا کو سمندر بن کر غم تو آتے ہی رہیں گے پیہم آتے جاتے ہی رہیں گے ...

مزید پڑھیے

غم حیات

غم حیات کے نغموں کا میں مغنی ہوں غم حیات کی لذت کا ہوں میں شیدائی یہ جذبہ جو دل بیتاب سے فزوں تر ہے کہیں سے گردش شام و سحر اڑا لائی نظر کو دیتا ہے یہ روشنی تجسس کی یہ غم بناتا ہے دل کو دل تمنائی یہ راز ہائے تگ و دو کو فاش کرتا ہے یہ راہرو کو سکھاتا ہے جادہ پیمائی اسی سے گرمیٔ بزم حیات ...

مزید پڑھیے

تہذیب

یہ تہذیب آخر بنائی ہے کس نے زمانے کی عزت بڑھائی ہے کس نے بنا کر بدلنے کا مختار ہے کون حیات مسلسل کا فن کار ہے کون مشینوں میں کس کا لہو چل رہا ہے یہ کس کے لہو پر جہاں پل رہا ہے بتا دو خدا کے لیے اب بتا دو حقیقت کے چہرے سے پردہ اٹھا دو

مزید پڑھیے

آغاز

اک نئے دور کا آغاز ہوا در آشفتہ سری باز ہوا نا شکیبائی کی چلتی ہے ہوا بے یقینی کی ابھرتی ہے صدا آئے منڈلاتے ہوئے ابر شعور لیے ہم راہ خیالات جسور منتظر شوق ہے بے چین نڈھال جانے کب موسم باراں آئے ہائے تبدیلی موسم کی امید رنگ لائے ہے بتدریج جنوں ٹوٹنے والا ہے ہر ایک فسوں ہاں خداؤں کی ...

مزید پڑھیے

ایک لمحے کی داستان

چمک میرا تصور خوشیوں کا جھونکا لمس رخ گل راحت شب مہتاب فرحت صبح بہار نغمگی بھوک درد کی کسک غم بے چارگی عزم جواں صورت ہائے یاران بے یار احساس سلسلہ ہائے مکر و فریب نقش ہائے کشمکش مرگ و زیست کرب خاک ہیروشیما ادراک رگ میں یہ چبھتے ہوئے لاکھوں نشتر شدت درد تو میں ہر کوئی جو نگہ‌ و دل ...

مزید پڑھیے

لب بام

تمہیں تو آئی ہو سج دھج کے جلوہ گر ہونے تمہیں کھڑی ہو لب بام دیکھتا ہوں میں کچھ اور دیر ذرا تم وہیں کھڑی رہنا نشاط دید کا ہنگام دیکھتا ہوں میں تمہارا حسن ہے گویا نکھار پھولوں کا ہر اک ادا پہ تمہاری نثار جان و دل وفا کے نام پہ مرنا بھی مجھ کو آتا ہے سہارا دے دو مجھے تم کہ دور ہے ...

مزید پڑھیے

سوغات

میں تو حیران ہوں کس طرح کٹے راہ حیات اک نیا موڑ بہر گام ابھر آتا ہے سر تاریکیٔ شب کھل جو گیا آخر شب پھر نیا راز بہ ہر صبح نکھر آتا ہے جانچتا پھرتا ہوں ماضی کے کھنڈر حسرت سے دیکھتا پھرتا ہوں ہر نقش حسیں حیرت سے سوچتا پھرتا ہوں کون آیا تھا کب آیا تھا اس جگہ ساتھ لئے کاوش تکمیل ...

مزید پڑھیے

مشورہ

میری محبوب یہ آنسو ہیں کہ موتی رخ پر ان کو اس طرح نہ بیکار گنوا مان بھی جا ابھی جلنے دے یہ سینہ ابھی پھٹنے دے دماغ آتش غم کو نہ اشکوں سے بجھا مان بھی جا یہ نہیں ہے کہ میں اس درد سے آگاہ نہیں تو غم دہر پہ روتی ہے پتا ہے مجھ کو جانتا ہوں میں کہ اس غم کی حقیقت کیا ہے یہی غم اور اسی شدت ...

مزید پڑھیے

ورثہ

میں بہت خوش ہوں کہ اس درجہ ملی دولت غم اتنی دولت کہ گنی جائے نہ رکھی جائے اور پھر کس کو خبر اس کی مگر میرے سوا اس کا مالک بھی نہیں کوئی مگر میرے سوا اور دولت بھی یہ ایسی کہ کہیں بیش بہا ایک اک موتی کا ہے رنگ الگ شان جدا کیوں نہ ہو کتنے ہی سالوں کی کمائی ہے یہ صرف میری نہیں پشتوں کی ...

مزید پڑھیے

یہ یقیں یہ گماں

کنار آب سر شام آ کے بیٹھا ہوں نظر میں صبر سے بیگانہ اک سمندر ہے ابھرتا دبتا مچلتا بپھر کے بڑھتا ہوا کبھی اترتا ہوا اور اتر کے چڑھتا ہوا تماشہ سعیٔ جنوں خیز کا دکھاتا ہوا طلسم فکر سے اپنی طرف بلاتا ہوا کنار آب سر شام آ کے بیٹھا ہوں نظر میں ایک ہجوم جگر فگار لیے دل و دماغ میں سو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 714 سے 960