امید
زیست یوں ہی نہ رہے گی مغموم زندگانی کو بدلنا ہوگا لاکھ آمادۂ سازش ہے یہ شب اس شب تیرہ کو ڈھلنا ہوگا موت کا سایہ لرزتا ہے تو کیا وقت آلام کو لایا ہے تو کیا نامۂ درد جو آیا ہے تو کیا غم کو سہہ جائیں دلاور بن کر پی لیں دریا کو سمندر بن کر غم تو آتے ہی رہیں گے پیہم آتے جاتے ہی رہیں گے ...