لوگ کہتے ہیں
لوگ کہتے ہیں کہ یہ عالم ہے اک عالم نیا
ساز نو ہاتھوں میں ہے پیدا ہے زیر و بم نیا
لوگ کہتے ہیں کہ اب قسمت ہمارے ساتھ ہے
لوگ کہتے ہیں کہ اب عظمت ہمارے ساتھ ہے
لوگ کہتے ہیں کہ اب جدت ہمارے ساتھ ہے
لوگ کہتے ہیں مگر کہنے سے کچھ ہوتا نہیں
یہ جو عالم ہے نگاہوں میں نہیں عالم نیا
ہاں مگر ہر اک نفس میں ہے پیام غم نیا
جس کے چرچے ہیں جہاں میں وہ مسرت ہے کہاں
لوگ جس عظمت پہ نازاں ہیں وہ عظمت ہے کہاں
کون ان پھولوں پہ قابض ہے وہ راحت ہے کہاں
ڈھونڈتے ہیں در بدر انجام محنت ہے کہاں
یہ جو عالم ہے نگاہوں میں نہیں عالم نیا
زخم گہرے ہیں بہت لاؤ کوئی مرہم نیا
غم کے مارو ڈھونڈھ لو اک چارہ ساز غم نیا
میرے دامن میں نہیں ہیں تیرے دامن میں نہیں
شاخ گلشن سے جو گل پھوٹے وہ گلشن میں نہیں