وقت کی صدیاں
نہ جانے کتنی صدیوں سے زمانہ مثال موج بہتا آ رہا ہے سکوں کا رنگ اس کو کب ملا ہے پریشاں ہے یہ کیوں کس کو پتا ہے یہ بیتابی ہر اک لمحے کی کیا ہے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دریا لئے طوفاں ہزاروں اپنے اندر سکوں سے پر نظر آتا ہے باہر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے زمانہ کشاکش سے بھرا ہوتا ہے ...