شاعری

وقت کی صدیاں

نہ جانے کتنی صدیوں سے زمانہ مثال موج بہتا آ رہا ہے سکوں کا رنگ اس کو کب ملا ہے پریشاں ہے یہ کیوں کس کو پتا ہے یہ بیتابی ہر اک لمحے کی کیا ہے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دریا لئے طوفاں ہزاروں اپنے اندر سکوں سے پر نظر آتا ہے باہر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے زمانہ کشاکش سے بھرا ہوتا ہے ...

مزید پڑھیے

تجھے خود سے الگ کیسے کروں میں

تجھے خود سے الگ کیسے کروں میں تجھے جب کھینچتا ہوں خود سے باہر کھنچا آتا ہوں میں بھی ساتھ تیرے عجب سا جسم میرا ہو گیا ہے ہے جس میں پاؤں میرے ہاتھ تیرے زباں اپنی اگر خاموش کر دوں تری باتیں اشارے بولتے ہیں جگر جاں دل نظر جس کو بھی دیکھو ترا ہی نام سارے بولتے ہیں ہوئی ہے جذب مجھ میں اس ...

مزید پڑھیے

سنا ہے خود کو

اکثر دکھائی دے جاتے ہیں کہیں نہ کہیں خوشی کے آنسو لیکن کیا کبھی کسی نے غم کی ہنسی بھی سنی ہے میں نے سنی ہے اکثر سنتی ہوں بے ساختہ کھلکھلاتے ہوئے سنا ہے خود کو میں نے کتنی ہی بار ہر بار ہنسی میں اڑ جاتا ہے سارا غم کچھ پل کے لئے بس کچھ پل کے لئے

مزید پڑھیے

سنہری مچھلی

بات ہے تو کچھ عیب سی لیکن پھر بھی ہے ہو گئی تھی محبت ایک مرد کو ایک سنہری مچھلی سے لہروں سے اٹکھیلیاں کرتی بل کھاتی چمچاتی مچھلی بھا گئی تھی مرد کو ٹکٹکی باندھے پہروں دیکھتا رہتا وہ اس شوخ کی اٹھکھیلیاں مچھلی کو بھی اچھا لگتا تھا مرد کا اس طرح سے نہارنا بندھ گئے دونوں پیار کے ...

مزید پڑھیے

چاہت

تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں تمہارے لئے چاہوں کیوں بھلا کیا کبھی تم نے مجھے میرے لئے چاہا نہیں نا دراصل یہ چاہنے اور نہ چاہنے کی خواہش ہی بے معنی ہے با معنی ہے تو بس چاہت میری چاہت تمہاری چاہت یا پھر کسی اور کی چاہت

مزید پڑھیے

پیاس

سچ ہے پیاسی ہوں میں بے حد پیاسی لیکن تم سے کس نے کہا کہ تم میری پیاس بجھاؤ کہیں زیادہ خالی ہو تم مجھ سے کہیں زیادہ ریتے اور تمہیں احساس تک نہیں بھرنا چاہتے ہو تم اپنا خالی پن میری پیاس بجھانے کے نام پر تعجب ہے مجھے مکمل بنانا چاہتا ہے ایک آدھا ادھورا انسان

مزید پڑھیے

ڈائری

ردی اخبار کی طرح مجھے بیچ دیا گیا ایک کباڑی کے ہاتھوں ترازووں میں تول کر اس نے میری قیمت آنک دی خوبصورت جلد جس پر میرا عنوان لکھا تھا اس نے نوچ پھینکی وزن بڑھانے والا گتے کا ٹکڑا اسے قبول نہیں تھا میں بے نام ہو گئی میرے اوراق پھڑپھڑا اٹھے کسمسا اٹھے تب ایک بھاری باٹ دھر دیا گیا ...

مزید پڑھیے

لوٹ چلیے

سوختہ جاں سوختہ دل سوختہ روحوں کے گھر میں راکھ گرد آتشیں شعلوں کے سائے نقش ہیں دیواروں پر مفروق چہرے لوٹ چلیے اپنے سب ارمان لے کر جھوٹ ہے گزرا زمانہ اور کسی اجڑے قبیلے کی بھٹکتی روح شاید اپنے مستقبل کا دھندلا سا تصور بحر غم کے درمیاں ہے ایک کالے کوہ کی مانند یہ امروز اپنا کوہ جس ...

مزید پڑھیے

آوارہ گرد لمحے

آوارہ گرد لمحے یوں بے قرار بھٹکیں جیسے پرند پیاسے دیوانہ وار بھٹکیں بے جان و بے تکلم اک آرزو ہے تنہا جنگل میں جیسے کوئی ویران سی عمارت بستی سے دور جیسے خاموشیوں کا پربت تانے کھڑا ہو خود کو جامد صدی کی صورت احساس اپنی لو پر یوں تمتمائے جیسے شعلوں پہ چل رہا ہو اک بے لباس ...

مزید پڑھیے

کوشش رائیگاں

سب کچھ یاد کر رہا ہوں میں کوئی بات بھلا دینے کو اور یہ کیسی سچائی ہے آج بھولنے کی کوشش میں صدیوں کی تاریخیں ازبر کر بیٹھا ہوں میں حیراں ہوں میں ہوں پریشاں کیسے چھپاؤں حالت اپنی ہر کوشش لا حاصل میری اور یہ کمرا یہ دیواریں کھونٹی سے لٹکی شلواریں یہ بے رونق بوڑھی راتیں فرش پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 716 سے 960