شاعری

خواب کا رقص

کیوں مرے خواب کو دھندلاتے ہو خواب انگڑائی ہے تھرتھراتے ہوئے پاؤں بیتی آوازوں کی لہریں اور بل کھاتا ہوا سیمیں بدن جس کے اک اک انگ میں میرے لہو کی دھڑکن آسمانوں کی طرف اٹھتے ہوئے وہ مرمریں بازو کسی شاہین کی پرواز اور ہاتھوں کی پوروں سے شعاعوں کی پھوار خواب کو انگڑائیوں کی ایک بل ...

مزید پڑھیے

اپنا اپنا رنگ

تو ہے اک تانبے کا تھال جو سورج کی گرمی میں سارا سال تپے کوئی ہلکا نیلا بادل جب اس پر بوندیں برسائے ایک چھناکا ہو اور بوندیں بادل کو اڑ جائیں تانبا جلتا رہے وہ ہے اک بجلی کا تار جس کے اندر تیز اور آتش ناک اک برقی رو دوڑے جو بھی اس کے پاس سے گزرے اس کی جانب کھینچتا جائے اس کے ساتھ چمٹ ...

مزید پڑھیے

ہوا

ہوا کے یہ نقش نیلے ساگر کی اٹھتی موجیں لہکتے پیڑوں کی نرم شاخیں گلوں کے کھلتے مہکتے لب کوہسار کی چوٹیوں پہ یہ برف کے دئے آبشار کا نغمۂ دل نشیں آسماں کے دامن میں بادلوں کے رواں دواں نرم نرم گالے وہ کوک کوئل کی وہ پپیہے کی پی یہ سب نقش ہیں ہوا کے یہ جسم بھی نقش ہے ہوا کا مگر کہاں ہے ...

مزید پڑھیے

حقیقت سے پرے

یہ کائنات ایک آئنہ ہے یہ صاف پانی کی جھیل جس میں میں ڈوب کر حیرت و تحیر بنا سراپا جو لوٹتا ہوں تو زندگی ہے نہ موت ہے اک سرور ہوں بے خودی ہوں سچائی ہوں مجسم

مزید پڑھیے

یادیں

یادیں ناگن ڈس جائیں تو جیون رس میں زہر ملے شاخیں سوکھ کے کانٹا ہوں موت کا سایہ گہرا ہو یادیں کلیاں کھل جائیں تو صحرا صحرا مہک اٹھے ٹہنی ٹہنی پتا پتا امرت رس ٹپکائے جیون کا اجیالا ہو تیری آنکھیں ناگن جیسی تیرے ہونٹ ہیں کلیاں ایک میں موت کا گہرا سایہ ایک میں رس جیون کا

مزید پڑھیے

سنگ میل

وہ ایک پتھر وہ سخت کالا سیاہ پتھر لہو سے تر جس کی تیرگی ناگ بن کے ڈستی تھی جس کی سختی سے کوہساروں کے دل دہلتے تھے جس کی خوں تشنگی سے کومل شجر فقط ٹہنیوں کی حسرت کے زاویے تھے وہ ایک پتھر جو تو نے پھینکا مرے سمندر میں حرکت لا زوال کا ایک تازیانہ بنا وہ لہریں اٹھیں کہ خاموش چاندنی کی ...

مزید پڑھیے

تنہائی

صبح کا ہنستا ستارہ تنہا کون جانے رات بھر کس کرب سے گزرا ہے ان گھنے پیڑوں سے لمبے تیز دانتوں والے عفریت نکل کر ٹیڑھی ٹانگوں بد نما پیروں سے کومل چاندنی کے فرش پر ناچے کھردرے ہاتھوں سے پھولوں کے جگر چاک کئے اپنی نظروں کی سیاہی سے نکھرتے ہوئے رنگوں کے چراغوں کو بجھایا اپنے نفرت ...

مزید پڑھیے

اجنبی شہر

وہ پیڑ اب کٹ گیا ہے جس کے تلے جوانی کے گرم لمحوں کو ٹھنڈے سائے ملے جو اک موڑ کا نشاں تھا جہاں سے ہم اک نئی جہت کو چلے تھے اب وہ نشان بھی مٹ گیا وہاں کولتار کی اک سڑک ہے جو گرمیوں میں پگھلی ہوئی سی رہتی ہے آدمی بھی پگھل رہا ہے وہاں پر اب موٹروں کا دریا سا بہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے ...

مزید پڑھیے

تکمیل

وہ تیرگی بھی عجیب تھی چاندنی کی ٹھنڈی گداز چادر سے سارا جنگل لپٹ رہا تھا گلوں کے صد رنگ دھندلے دھندلے سے جیسے اک سیم تن کے چہرے کے شوخ غازے پہ آنسوؤں کا غبار ہو پیڑ، منتظر اپنی نرم شاخوں کے ہاتھ پھیلائے اور کبھی کوئی شاخ چٹکی تو سائے نکلے ملوک پھولوں کو چوم کر چاندنی کی چادر پہ ...

مزید پڑھیے

ماں

تیری تربت تیری آوازوں کا گنبد ایک وظیفہ جس سے گنبد کا پوشیدہ در کھل جاتا بھول گیا تھا اس کی خاطر جانے کتنے ویرانے اور کتنے بسیرے میں نے چھانے پر وہ مقدس پاؤں کی مٹی نہ مل سکی جس کو اس مورت پر ملتا تو تیری ہی آواز نکلتی تیری چاند سی آوازوں پر پتھر جیسا بادل برس برس کر گھل جاتا تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 704 سے 960