شاعری

میری موت کے مسیحا!

میری موت کے مسیحا! تین بر اعظموں پہ تم نے میرا پیچھا کیا ہے موسم بدلتے رہے تقدیر کی طرح میں شہر شہر پھرا دھوپ کی طرح میں نے خاموشیاں لفظوں کے سپرد کیں زبان کے لفظ بدلے مگر تم اک تاریک سرنگ کی طرح سایہ سایہ میرے شعور میں اترتے چلے گئے ہو میرے ذہن میرے جسم میرے قلب کے معکوس ...

مزید پڑھیے

فاصلوں کی بات

تم نے فاصلوں کی بات سمجھ لی تو تمہیں یاد آئے گا کہ فنا ہم سب کی تقدیر ہے تمہیں معلوم ہے؟ تمہارے گھر کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میں نے ہزار بار چپ چاپ زینے کی سفید دیواروں پہ انگلیاں پھیری ہیں اس امید میں کہ شاید لمس کے ایسے ذائقے وہاں رہ جائیں جو تم ہمیشہ بدن کے گنجلک اور بے لفظ ذائقوں ...

مزید پڑھیے

احساس

احساس کی زمیں پر سوچوں کے قافلے رواں ہیں چپ کا دم گھٹ رہا ہے الفاظ اندر ہی اندر جل رہے ہیں کہ چیخوں کی منزل ابھی آنسوؤں کی منتظر ہے

مزید پڑھیے

چپ

تو نے سرد ہواؤں کی زباں سیکھی ہے تیرے ٹھنڈے لمس سے دھڑکنیں یخ بستہ ہوئیں اور میں چپ ہوں میں نے وقت صبح چڑیوں کی سریلی چہچہاہٹ کو سنا ہے اور میرے ذہن کے ساگر میں نغمے بلبلے بن کر اٹھے ہیں تیرے کڑوے بول سے ہر سو ہیں آوازوں کے لاشے اور میں چپ ہوں میں نے وہ معصوم پیارے گل بدن دیکھے ...

مزید پڑھیے

باپ

وہ ایک پل تھا مرے اور اجداد کے زمانوں کا نقطۂ اتصال اس کی گزر گاہوں سے روایتوں اور حکایتوں کے ہزارہا قافلے نکل کر نئے زمانے کی یورشوں سے مری بکھرتی انا میں الفت یقین اور اعتماد کے رنگ بھر گئے ہیں وہ ایک پل آج ٹوٹ کر گہری گھاٹیوں میں گرا ہے اب میں کھڑا ہوں ان گہری گھاٹیوں پر میں ...

مزید پڑھیے

پانی

پانی پانی ہر سو پانی پانی بے ہیئت بے صورت ساغر میں ساغر بن جائے پھولوں پر یہ شبنم آنکھوں میں یہ آنسو اڑ جائے تو بادل بہہ جائے تو دریا پھیلے تو اک ساگر پانی بے ہیئت بے صورت پانی دیوتاؤں کا ایک مقدس رس ہے زیست کا بہتا دھارا چاندی کی کشتی کا جھولا میں بھی پانی ندی بن کر بہتا جاؤں سخت ...

مزید پڑھیے

احیا

عصائے موسیٰ اندھیری راتوں کی ایک تجسیم منجمد جس میں حال اک نقطۂ سکونی نہ کوئی حرکت نہ کوئی رفتار جب آسمانوں سے آگ برسی تو برف پگھلی دھواں سا نکلا عصا میں حرکت ہوئی تو محبوس ناگ نکلا وہ ایک سیال لمحہ جو منجمد پڑا تھا بڑھا جھپٹ کر خزاں رسیدہ شجر کی سب خشک ٹہنیوں کو نگل گیا

مزید پڑھیے

ایک احساس

اجاڑ سڑکوں کی دونوں جانب گھنے درختوں کے لمبے سائے تلے زمانے کی دھوپ سے تپتے دن گزارے گھنیری زلفوں کی ٹھنڈی چھاؤں تلے جوانی کی گرم جلتی دوپہریں کاٹیں گھنے درختوں کا سایہ قائم گھنیری زلفوں کی چھاؤں دائم مگر مرے سر سے ڈھل چکی ہے

مزید پڑھیے

حرف

وادی وادی صحرا صحرا پھرتا رہا میں دیوانہ کوہ ملا تو دریا بن کر اس کا سینہ چیر کے گزرا صحراؤں کی تند ہواؤں میں لالہ بن کر جلتا رہا دھرتی کی آغوش ملی تو پودا بن کر پھوٹا جب آکاش سے نظریں ملیں تو طائر بن کے اڑا غاروں کے اندھیاروں میں میں چاند بنا اور آکاش پہ سورج بن کر چمکا پھر بھی ...

مزید پڑھیے

گیان

یہ چٹئیل سرزمیں تم کو ملی تو تم نے بے برگ و گیاہ ٹیلے پر اک معبد بنا ڈالا اور اس میں ایک بت رکھا جسے تم نے تراشا آدمی کے استخواں سے جس کے چرنوں میں چڑھاوا لائے تم تو اپنے بھائی کا اور اس کے ہونٹ اب تک خون کی لالی سے رنگیں ہیں زباں اب تک لہو کے ذائقے سے تر ہے لاؤ اور نذرانہ کہ یہ معبد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 703 سے 960