میری موت کے مسیحا!
میری موت کے مسیحا! تین بر اعظموں پہ تم نے میرا پیچھا کیا ہے موسم بدلتے رہے تقدیر کی طرح میں شہر شہر پھرا دھوپ کی طرح میں نے خاموشیاں لفظوں کے سپرد کیں زبان کے لفظ بدلے مگر تم اک تاریک سرنگ کی طرح سایہ سایہ میرے شعور میں اترتے چلے گئے ہو میرے ذہن میرے جسم میرے قلب کے معکوس ...