اک حرف مدعا
اک حرف مدعا تھا لبوں پہ کھٹکتا تھا پھانس سا اک نام تھا زبان کا چھالا بنا ہوا لو میں زباں تراش کے خاموش ہو گئی لو اب تو میری آنکھ میں آنسو نہیں کوئی بس ایک میرا گنگ مرا حرف مدعا
اک حرف مدعا تھا لبوں پہ کھٹکتا تھا پھانس سا اک نام تھا زبان کا چھالا بنا ہوا لو میں زباں تراش کے خاموش ہو گئی لو اب تو میری آنکھ میں آنسو نہیں کوئی بس ایک میرا گنگ مرا حرف مدعا
میں عازم مے خانہ تھی کل رات کہ دیکھا اک کوچۂ پر شور میں اصحاب طریقت تھے دست و گریباں خاکم بدہن پیچ عماموں کے کھلے تھے فتووں کی وہ بوچھاڑ کہ طبقات تھے لرزاں دستان مبارک میں تھیں ریشان مبارک موہائے مبارک تھے فضاؤں میں پریشاں کہتے تھے وہ باہم کہ حریفان سیہ رو کفار ہیں بد خو زندیق ...
بیٹھا ہے میرے سامنے وہ جانے کسی سوچ میں پڑا ہے اچھی آنکھیں ملی ہیں اس کو وحشت کرنا بھی آ گیا ہے بچھ جاؤں میں اس کے راستے میں پھر بھی کیا اس سے فائدہ ہے ہم دونوں ہی یہ تو جانتے ہیں وہ میرے لیے نہیں بنا ہے میرے لیے اس کے ہاتھ کافی اس کے لیے سارا فلسفہ ہے میری نظروں سے ہے پریشاں خود ...
کب تک مجھ سے پیار کرو گے کب تک؟ جب تک میرے رحم سے بچے کی تخلیق کا خون بہے گا جب تک میرا رنگ ہے تازہ جب تک میرا انگ تنا ہے پر اس کے آگے بھی تو کچھ ہے وہ سب کیا ہے کسے پتہ ہے وہیں کی ایک مسافر میں بھی انجانے کا شوق بڑا ہے پر تم میرے ساتھ نہ ہوگے تب تک
آج بھی جب میں بائیک پہ بیٹھوں آج بھی میرے پہلو پہ اک ہاتھ دکھائی دیتا ہے آج بھی میرے کانوں کو اک گیت سنائی دیتا ہے آج بھی کوئی زلف مرا دل خوشبو سے مہکاتی ہے یاد کسی کی آج بھی میرے پیچھے بیٹھ کے جاتی ہے
اے نئے سال بتا تجھ میں نیاپن کیا ہے ہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے روشنی دن کی وہی تاروں بھری رات وہی آج ہم کو نظر آتی ہے ہر ایک بات وہی آسمان بدلا ہے افسوس نا بدلی ہے زمیں ایک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہیں اگلے برسوں کی طرح ہوں گے قرینے تیرے کسے معلوم نہیں بارہ مہینے ...
تیز سی تلوار سادہ سا قلم بس یہی دو طاقتیں ہیں بیش و کم ایک ہے جنگی شجاعت کا نشاں ایک ہے علمی لیاقت کا نشاں آدمی کی زندگی دونوں سے ہے قوم کی تابندگی دونوں سے ہے جو نہیں ڈرتے قلم کی مار سے زیر کرتے ہیں انہیں تلوار سے جب قلم پاتا نہیں کوئی سبیل اس گھڑی تلوار ہے روشن دلیل حکمرانی کو ...
کچھ کام کرو کچھ کام کرو دنیا میں پیدا نام کرو دن بھر محنت میں شاد رہو جب رات پڑے آرام کرو انجام خدا کے ہاتھ میں ہے تم کوشش صبح و شام کرو تکلیف سے راحت ملتی ہے یہ سودا لو وہ دام کرو ہمت سے آگے بڑھ جاؤ بڑھ کر حاصل انعام کرو ہمدردی سے غم خواری سے ہر شخص کے دل کو رام کرو لوگوں میں تمہاری ...
غور کے قابل ہے دنیا کا نظام اس کا ہر ذرہ ہے عبرت کا مقام جنگ سے ہوتی ہے پیدا مفلسی مفلسی سے امن ہو جاتا ہے عام امن میں قومیں کہاں لیتی ہیں مال مال سے بڑھتا ہے کبر اے نیک نام کبر ہے پھر پیش خیمہ جنگ کا بس یہی چکر ہے جاری صبح و شام آئے دن ہوتی ہیں یوں تبدیلیاں کوئی آقا بن گیا کوئی ...
جس قدر دنیا میں مخلوقات ہے سب سے اشرف آدمی کی ذات ہے اس کی پیدائش میں ہے الفت کا راز اس کی ہستی پر ہے خود خالق کو ناز اس کی خاطر کل جہاں پیدا ہوا یہ زمیں یہ آسماں پیدا ہوا عقل کا جوہر اسے بخشا گیا علم کا زیور اسے بخشا گیا اس کے سر میں ہے نہاں ایسا دماغ جس میں روشن ہے لیاقت کا چراغ سوچ ...