شاعری

ایک رات کی کہانی

بڑی سہانی سی رات تھی وہ ہوا میں انجانی کھوئی کھوئی مہک رچی تھی بہار کی خوش گوار حدت سے رات گلنار ہو رہی تھی روپہلے سپنے سے آسماں پر سحاب بن کر بکھر گئے تھے اور ایسی اک رات ایک آنگن میں کوئی لڑکی کھڑی ہوئی تھی خموش تنہا وہ اپنی نازک حسین سوچوں کے شہر میں کھو کے رہ گئی تھی دھنک کے ...

مزید پڑھیے

باکرہ

آسماں تپتے ہوئے لوہے کی مانند سفید ریگ سوکھی ہوئی پیاسے کی زباں کی مانند پیاس حلقوم میں ہے جسم میں ہے جان میں ہے سر بہ زانو ہوں جھلستے ہوئے ریگستاں میں تیری سرکار میں لے آئی ہوں یہ وحش ذبیح! مجھ پہ لازم تھی جو قربانی وہ میں نے کر دی اس کی ابلی ہوئی آنکھوں میں ابھی تک ہے چمک اور ...

مزید پڑھیے

تہنیت

کتنے بخت والے ہو زندگی میں جو چاہا تم نے پا لیا آخر عزم اور ہمت سے فہم سے ذکاوت سے ہے تمہارے دامن میں پھول کامرانی کا اور تمہارے ماتھے پر فخر کا ستارہ ہے اب تمہارے چہرے پر ایسی شادمانی ہے کوئی کہہ نہیں سکتا درد سے بھی واقف ہو اور تمہارے پاؤں میں دیر سے کھٹکتا ہے آرزو کا اک کانٹا جس ...

مزید پڑھیے

عشق آوارہ مزاج

عشق آوارہ مزاج وہ مسافر تو گیا نہ کوئی اس کی مہک ہے کہ جو دے اس کا پتہ نہ کوئی نقش کف پا نہ کوئی اس کا نشاں کوئی تلخی بھی تہہ جام نہ چھوڑی اس نے زندگی باقی ہے ایک سنجیدہ ہنسی سوچ سی دل میں بسی تیز آئی ہوئی سانس ذہن میں تھوڑے سے وقفے سے کھٹکتی ہوئی پھانس اور دکھتا ہوا دل چوٹ تھی جس پہ ...

مزید پڑھیے

تفصیل مسافت کی

اک دن جو بہم ہوں گے تجھ سے ترے درماندہ کیا عرض گزاریں گے کیا حال سنائیں گے موہوم کشیدہ ہے تصویر قیامت کی شاید نہ سنا پائیں تفصیل مسافت کی لب بستہ رہیں شاید یہ دن جو گزارے ہیں محرم ہے کوئی کس کا یا زخم کی سرگوشی یا ہمارے ہیں آنکھوں پہ کئے سایہ کب دور تلک دیکھا لرزاں تھی زمیں کس ...

مزید پڑھیے

طفلاں کی تو کچھ تقصیر نہ تھی

اے دوست پرانے پہچانے ہم کتنی مدت بعد ملے اور کتنی صدیوں بعد ملی یہ ایک نگاہ مہر و سخا جو اپنی سخا سے خود پر نم بیٹھو تو ذرا بتلاؤ تو کیا یہ سچ ہے میرے تعاقب میں پھرتا ہے ہجوم سنگ زناں؟ کیا نیل بہت ہیں چہرے پر؟ کیا کاسۂ سر ہے خون سے تر؟ پیوند قبا دشنام بہت پیوست جگر الزام بہت یہ نظر ...

مزید پڑھیے

تجارت

اس میں کیا شک ہے تجارت بادشاہی کاج ہے غور کر کے دیکھ لو تاجر کے سر پر تاج ہے ہند کی تاریخ پڑھ کر ہی سبق حاصل کرو جو تجارت کرنے آئے تھے اب ان کا راج ہے زندہ رہ سکتا نہیں ہرگز تجارت کے بغیر ہم نے یہ مانا کہ یورپ مرکز افواج ہے ہر دکان اپنی جگہ ہے ایک چھوٹی سلطنت نفع کہتے ہیں جسے دراصل ...

مزید پڑھیے

اب سو جاؤ

اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے والے ہو اور اچھی قسمت رکھتے ہو بچے کی سو بھولی صورت اب تک ضد کرنے کی عادت کچھ کھوئی کھوئی سی باتیں کچھ سینے میں چبھتی یادیں اب انہیں بھلا دو سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو سو جاؤ تم شہزادے ہو اور کتنے ...

مزید پڑھیے

میرے ہاتھ

دل میں کب سے رم جھم کرتی کیسی برکھا برس رہی ہے اس برکھا کے امرت رس سے بھیگ چکی میں بھیگ چکی میں لگتی چھپتی دھوپ اور بادل یہ آکاش کے ننھے بالک کھیل رہے ہیں ہنستے ہنستے کلکاری بھرتے سبزے کو شوخ ہوائیں چھیڑ رہی ہیں میں بھی اپنے پنکھ جھٹک کر پر تولوں اور بھروں اڑانیں اپنے بدن میں خود ...

مزید پڑھیے

دلی تری چھاؤں…

دلی! تری چھاؤں بڑی قہری مری پوری کایا پگھل رہی مجھے گلے لگا کر گلی گلی دھیرے سے کہے'' تو کون ہے ری؟'' میں کون ہوں ماں تری جائی ہوں پر بھیس نئے سے آئی ہوں میں رمتی پہنچی اپنوں تک پر پریت پرائی لائی ہوں تاریخ کی گھور گپھاؤں میں شاید پائے پہچان مری تھا بیج میں دیس کا پیار گھلا پردیس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 688 سے 960