شاعری

وقت کی قدر

اے کہ تو غفلت میں ہے ڈوبا ہوا کام کرنا سیکھ تجھ کو کیا ہوا آدمی ڈٹ کر اگر محنت کرے پھر کما لے اپنا زر کھویا ہوا غور سے دوبارہ پڑھ لینے کے بعد یاد ہو جائے سبق بھولا ہوا اور کمزوری میں ورزش کے طفیل خوب موٹا ہو بدن سوکھا ہوا لیکن اس دنیا میں ایسا کون ہے وقت واپس لائے جو گزرا ہوا جس نے ...

مزید پڑھیے

علم اور جہالت

وہ بشر جو پڑھ کے بھی کہتا ہو یوں بن کے طالب اور کچھ حاصل کروں کوئی شک اس کی فضیلت میں نہیں اس کا رتبہ ہے فرشتوں سے فزوں وہ بشر کچھ بھی نہ آتا ہو جسے لیکن اس کو شوق ہو عالم بنوں اپنی بے علمی کا اس کو علم ہے نا مناسب ہے اسے جاہل گنوں وہ بشر جو ہو نرا احمق مگر خود سمجھتا ہو کہ دانش‌‌ ...

مزید پڑھیے

عیدی کا مطالبہ

عید مبارک آئی ہے سچی خوشیاں لائی ہے امی ہم کو عیدی دو عید ہنسانے والی ہے جیب ہماری خالی ہے ابا ہم کو عیدی دو سارے روزے ختم ہوئے پہلے پیسے ہضم ہوئے آپا ہم کو عیدی دو عیدی ہے یہ بھیک نہیں ٹال کے جانا ٹھیک نہیں بھیا ہم کو عیدی دو امی کی ماں جائی ہو صرف سویاں لائی ہو خالہ ہم کو عیدی ...

مزید پڑھیے

تجدید عمل

اٹھ از سر نو دہر کے حالات بدل ڈال تدبیر سے تقدیر کے دن رات بدل ڈال پھر درس مساوات کی حاجت ہے جہاں کو آقائی و خدمت کے خطابات بدل ڈال کالا ہو کہ گورا ہو خدا ایک ہے سب کا قومیت بے جا کی روایات بدل ڈال چینی ہو کہ ہندی ہو برابر کے ہیں بھائی وطنیت محدود کے وہمات بدل ڈال کل چھوٹے بڑے آدم ...

مزید پڑھیے

کتاب

ہر دم علم سکھاتی ہے عقل کے راز بتاتی ہے پیارا نام کتاب ہے اس کا معلومات بڑھاتی ہے کوئی بچہ ہو یا بوڑھا سب کو یکساں بھاتی ہے دادا ابا مول اگر لیں پوتے کے کام آتی ہے گھر بیٹھے ہی دنیا بھر کی ہم کو سیر کراتی ہے اگلے وقتوں کے لوگوں کا سارا حال سناتی ہے اس کی دانائی تو دیکھو جو پوچھو ...

مزید پڑھیے

استاد

نیک بچے دل سے کرتے ہیں ادب استاد کا باپ کی الفت سے بہتر ہے غضب استاد کا عام لوگوں کی جہالت دور کرنے کے لیے حق تعالی نے بنایا ہے سبب استاد کا اس کی برکت سے جہاں میں پھیلتی ہیں نیکیاں کیوں نہ پھر استاد سے راضی ہو رب استاد کا کچھ نہ کچھ عمدہ سبق دیتی ہے اس کی زندگی خلق سے خالی نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

آخری آدمی

بجھا دو لہو کے سمندر کے اس پار آئنہ خانوں میں اب جھلملاتے ہوئے قمقموں کو بجھا دو کہ دل جن سے روشن تھا اب ان چراغوں کی لو بجھ چکی ہے مٹا دو منقش در و بام کے جگمگاتے چمکتے ہوئے سب بتوں کو مٹا دو کہ اب لوح دل سے ہر اک نقش حرف غلط کی طرح مٹ چکا ہے اٹھا دو لہو کے جزیرے میں بپھری ہوئی موت ...

مزید پڑھیے

آہستہ سے گزرو

گزرنا ہی اگر ٹھہرا تو آہستہ سے گزرو کوئی آہٹ نہ ہو پائے ابھی رستے میں رستہ سو رہا ہے ابھی ویرانی کے پہلو میں خوابیدہ ہے خاموشی ابھی تنہائی سے لپٹی مسافت سو رہی ہے کہیں ایسا نہ ہو دشت تحیر جاگ جائے لہو میں بے کراں غم کا سمندر جاگ جائے ابھی تو پہلے ڈر ہی سے رگوں میں خامشی ہے ابھی تو ...

مزید پڑھیے

حادثہ

رات ہی رات میں راستے شہر سے جنگلوں کو مڑے نیند گم ہو گئی خوب صورت حسیں خوب رو لڑکیاں عورتیں بن گئیں بہتے پانی میں ان کو بہایا گیا خواب زادے ہوئے داستانوں میں گم رات ہی رات میں اژدھے نوجوانوں کا دل کھا گئے نیٹی جیٹی پہ سب لاپتہ ہو گئے آن کی آن میں شہر کیسے مٹا خواب کیسے جلا

مزید پڑھیے

دیر ہو گئی

عالم پناہ خیر سے بے دار ہو گئے عالم پناہ!.... خیر..... کہاں آپ چل دیے رستے تمام بند ہوئے دیر ہو گئی اور کیسی دوپہر میں گھنی رات ہو گئی فانوس جھاڑ قمقمے روشن نہیں ہوئے اور طاقچوں میں باقی نہیں کوئی بھی چراغ اور بیگمات حجرے سے باہر نکل پڑیں اور شاہزادیوں کے سروں پر نہیں ردا یہ رنگ و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 690 سے 960