شاعری

سچ بتا

اے خدا کیسے میں مانوں کہ مٹی سے بنی ہے ماں بھی خاک تو فانی ہے مٹ جاتی ہے اور لا فانی کو فانی میں کیسے مانوں سچ بتا کون چھپا ہے اس میں ظرف انسان میں وسعت یہ کہاں سے آئے وہی الفت وہی شفقت وہی پردہ پوشی یہ تو صفتیں ہیں تری میں تو حیران ہوں اک سادہ سی لڑکی کیوں کر ہفت افلاک کو چھو لیتی ...

مزید پڑھیے

پیار

کچھ کہتے کہتے رہ جانا اور رکتے رکتے کہہ جانا یہ پیار تو ایسا ہوتا ہے جو دل میں درد سموتا ہے اب بھیگی بھیگی شاموں میں اک چہرہ ہر پل آنکھوں میں ہنستا بھی ہے روتا بھی ہے دل میں درد ڈبوتا بھی ہے کہ اک احساس مٹانے کو کہ دل میں درد بسانے کو ہر دھڑکن میں ہر آنگن میں کہ چھنکے ہاتھ کے کنگن ...

مزید پڑھیے

جنم جنم کی کہانی

کچھ دن پہلے تک میں کبوتر تھی آنکھیں بند کر کے سوچتی کہ دنیا سے بلیوں کا وجود مٹ چکا ہے اور اس سے بھی پہلے میں چکور اور تیتر کے درمیان کوئی شے تھی سبحان تیری قدرت کی بولی بولتی تھی اور چاندنی رات میں بے قرار رہتی تھی جب میں اس سے بھی پہلے کتیا تھی تو سارا سارا دن اپنے مالک کے پاؤں ...

مزید پڑھیے

لمحے کی بات

یہ اس لمحے کی بات ہے جب آنکھ جھپکنے سے ڈر لگتا اور اس ڈر میں لپٹی ہوئی ادھورا ہونے کی خواہش ٹہلتے ٹہلتے جھوٹ کی اس دیوار کے پاس پہنچ جاتی جس کی بنیادوں میں نوزائیدہ سچ دفن تھے تب میں خاموشی کے چٹئیل میدان میں تن کے کھڑا ہو جاتا اور انجانی منزلوں سے آتی ہوئی ہوا لفظوں کے پیراہن سے ...

مزید پڑھیے

خاموشی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرے ذہن کی گلیوں میں ایک عاشق ایک بچے کی انگلی پکڑ کر طلسمی گھروں کو حسرت سے دیکھتا کچھ گلوں کی خاموشی اور اس خاموشی کی سائیں سائیں کان کے پردوں سے گزر کر ناف میں اتر جایا کرتی تب آخری موڑ پر وہ بوڑھا مل جاتا جس کی آنکھوں میں زندگی سے پیچھا چھڑا لینے والی ...

مزید پڑھیے

پرانا گھر

یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھر کے ایک کمرے میں دکھ اور ملال منڈلی سجا کے بیٹھا کرتے اور مصروفیت بہانے بہانے سے وہاں تاک جھانک کرتی دوسرے کمرے میں دلوں میں نقب لگانے کے سب منصوبے آپس میں بیٹھ کر تاش کھیلا کرتے اور میں ہر تھوڑی دیر بعد تمہاری عادتیں ڈھونڈنے اسٹور کے چکر کاٹتا ...

مزید پڑھیے

پیٹو صاحب

ایک تھے پیٹو صاحب جن کی چھ فٹ تھی اونچائی بیٹھے بیٹھے پہلو بدلیں دس روٹی کھا جائیں اک دن پیٹو صاحب کو اس گھر سے دعوت آئی دن چھپنے سے پہلے پیٹو اس گھر پر جا دھمکے دسترخوان لگا تو بیٹھے کچھ تن کے کچھ جم کے پہلے روٹی سالن سارے گھر بھر کا کھا ڈالا پھر گھر کی باقی چیزوں کا نکلا خوب ...

مزید پڑھیے

چھوٹی چھوٹی بڑائیاں

قطرے قطرے سے بن گیا دریا ذرے ذرے سے ہو گیا صحرا ابر نیساں بنا ہے بوندوں سے زندگی مجموعہ ہے لمحوں کا بن گئی ہے کلی کلی ہی بہار کوئی چھوٹی سی شے نہیں بیکار اک ذرا کھل کے مسکرا دینا اک ذرا سر کہیں جھکا دینا ہو چکے ہیں جو لاغر و مجبور بوجھ ان کا ذرا اٹھا دینا بھٹکے راہی کو راہ بتلانا آس ...

مزید پڑھیے

جنگل کے راجہ کی شادی

جنگل میں منگل کروایا اک بارات سجائی جنگل کے راجہ نے اپنی شادی خوب رچائی مینڈک جی نے بینڈ بجایا بھالو جی نے ڈھول گیدڑ صاحب نے بھی گائے میٹھے میٹھے بول بھری سبھا میں بندر جی نے بندری کو نچوایا بن کر شاہی بھاٹ گدھے نے ڈھینچوں راگ سنایا بنے مہاشے بگلے پنڈت کوے صاحب نائی جھینگر جی نے ...

مزید پڑھیے

زخم

جب تک تمہارے چہرے پر خون کی روانی ہے میری آنکھوں کے زخم تازہ رہیں گے

مزید پڑھیے
صفحہ 676 سے 960