پیش و پس
اس کے آگے سناٹا ہے وہ کالا ہے اس کے پیچھے اک چہرہ ہے وہ پیارا ہے وہ اپنی پیٹھ پہ اپنی آنکھیں باندھے جاتا ہے ایک پاؤں آگے کی جانب دوسرا پیچھے جاتا ہے
اس کے آگے سناٹا ہے وہ کالا ہے اس کے پیچھے اک چہرہ ہے وہ پیارا ہے وہ اپنی پیٹھ پہ اپنی آنکھیں باندھے جاتا ہے ایک پاؤں آگے کی جانب دوسرا پیچھے جاتا ہے
ڈاکیہ سارے جہاں کی خبریں لے کر آتا ہے مگر میرے لیے کتنی آوازیں مرے ساتھ چلا کرتی ہیں کبھی ماں باپ کے رونے کی صدا کبھی احباب کے پھٹتے ہوئے جوتوں کی دکھن کبھی دنیا کے چٹختے ہوئے اعضا کی پکار صبح تا شام وہی ایک شب کا آہنگ در و دیوار پہ اڑتی ہوئی راہوں کا غبار راکھ دانی میں وہی سیکڑوں ...
میں ایک لہر کا ٹھہراؤ جمے ہوئے خون کا دوران کٹے ہوئے ہاتھوں کی پنجہ آزمائی میرا جہاد نوجوان بوڑھوں کی ناخود نوشت میری عصریت تاریخ میرے گھر کا بجھا ہوا چولہا روٹیوں سے زیادہ بھوک پکاتا ہے میرا شہر اس عورت کا حمل جو استقرار سے زیادہ اسقاط ڈھالتا ہے برسوں پہلے نطشے نے کہا تھا'' خدا ...
میرا پیلا کتا میرے سامنے والے زرد پہاڑ کو جانتا ہے ہر پتھر کو پہچانتا ہے صبح سویرے میرے ہاتھوں اور پاؤں کو اپنی پیٹھ پہ لادتا ہے میری دونوں آنکھوں کو اپنے بالوں سے ڈھانپتا ہے پھر اپنی پونچھ کو میرے دل کے کھٹکے میں اٹکا کر زرد چڑھائی ناپتا ہے
انہیں ازل کی تتلیوں کے رنگ کی تلاش تھی خدا کے چھوٹتے ہوئے خدنگ کی تلاش تھی تو وہ ہر اک محاورے کے اس طرف چلے گئے زمیں کے ہر معاشرے کے اس طرف چلے گئے وہاں جہاں سے جنگلوں کے راستے قریب تھے وہاں جہاں سے زندگی کے حافظے قریب تھے
سورج کے گولے کو مٹھی میں بھینچ کر وعدہ کرتا ہوں جب تک پورے کا پورا انگار تمہارے چہرے میں نہیں بدلتا تب تک دنیا میں شام ہی ہوگی اور نہ میری ہتھیلی کے گھاؤ ہی بھریں گے
اپنی دعاؤں کے زخمی پیروں سے چلتا جاتا ہوں اور یہ کانٹے دار راستہ اس ویران مسجد تک جاتا ہے جس کے تمام گنبد و محراب میرے گناہوں کی دھند میں ڈوبے ہوئے ہیں
اک مسافر ہوں بڑی دور سے چلتا ہوا آیا ہوں یہاں راہ میں مجھ سے جدا ہو گئی صورت میری اپنے چہرے کا بس اک دھندلا تصور ہے مری آنکھوں میں راستے میں مرے قدموں کے نشاں بھی ہوں گے ہو جو ممکن تو انہیں سے مرے آغاز کی تاریخ سنو
سوچو پھر ایک بار غور سے جب تم پیدا ہوئے تھے تمہاری ماں کتنا پھوٹ کر روئی تھی لیکن تم نہیں مانے
میں جب بھی سوچتا ہوں اپنے بارے میں کوئی قوت مجھے میرے مخالف کھینچتی ہے مجھے محسوس ہوتا ہے مرا ہر عضو مرکز سے بغاوت کر چکا ہے خون کے دوران کے ہمراہ بکتر بند گاڑی میں مسلح فوجیوں کے ساتھ کوئی قید ہو کر جا رہا ہے کھل گئے ہیں سب مشام جاں کے پھاٹک کھڑی ہیں سر جھکائے صف بہ صف ہارے ہوئے ...