شاعری

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے

شیشے کے نازک برتن میں صابن گھول رہی ہے ننھی گڑیا نرکل کی نازک پھکنی سے پھونک رہی ہے غبارے ہر غبارہ اک خواب سا بن کر تیر رہا ہے کمرے میں کمرے کی دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کر ٹوٹ رہا ہے میں خاموش اپنے کمرے میں یہ کھیل تماشا دیکھ رہا ہوں اس کے نازک ہونٹوں کی نازک سی شرارت دیکھ رہا ہوں یہ ...

مزید پڑھیے

غم کا بادل

غم کا بادل گر برس جائے تو ابھرے آفتاب غم سمندر موتیوں کی کان ہے یا رگ سنگ گراں مایہ کی اک پہچان ہے غم وہ آئینہ کہ جس میں عکس زلف عنبریں صورت ارض و سما جلوہ نما خواب زار زندگی کے واسطے غم کا پرتو پرتو خورشید ہے غم کا بادل گر برس جائے تو ابھرے آفتاب

مزید پڑھیے

فن کار اور موت

جب مجھے یہ خیال آتا ہے ایک فن کار مر نہیں سکتا اس کی تخلیق زندہ رہتی ہے اس کا کردار مر نہیں سکتا یاد آتے ہیں مجھ کو وہ فن کار زندگی بھر جو زہر پی کے جئے غم کی تصویر بن کے زندہ رہے دہر فانی میں اپنے فن کے لئے اور اس دہر کے نکموں نے ان کی راہوں میں خار بکھرائے جب یہ دشت جنوں میں اور ...

مزید پڑھیے

اپنے دریا کی پیاس

صداقتوں کے جنوں کا ہم ایسا آئینہ ہیں جو اپنے عکسوں کا مان کھو کر شکستگی کا عذاب سہنے میں مبتلا ہے ہم ایسے طوفاں کا ماجرا ہیں جو ٹوٹتے پھوٹتے چٹختے سے اپنے اعصاب کے بکھرنے کی آس میں ہیں جو تشنہ لب ساحلوں کی مانند اپنے دریا کی پیاس میں ہیں جو دشت امکان کی ہواؤں کی برگزیدہ مگر دریدہ ...

مزید پڑھیے

تعارف

وہ زندگی کا عجیب و غریب موسم تھا بہاریں ٹوٹ پڑی تھیں سہانے جسموں پر نفس نفس میں فسوں تھا نظر نظر میں جنوں تصور مئے عصیاں سے چور چور بدن نجوم فکر و نظر ٹمٹما کے ڈوب گئے خمار ذہنوں پہ چھایا تو جسم جاگ اٹھے اندھیرا گہرا ہوا کائنات بہری ہوئی ابھر کے سایوں نے اک دوسرے کو پہچانا

مزید پڑھیے

ادھورے خواب

یہ غنیمت ہے کہ وہ خواب ادھورے ہی رہے وہ جو اک عمر تلک میری بے خواب نگاہوں کا اڑاتے تھے مذاق وہ جنہیں سادہ دلی سمجھی جنوں کا تریاک جو کبھی بام پہ چمکے کبھی در سے جھانکے کبھی روزن کبھی چلمن سے نمودار ہوئے جو کبھی زلف کا جادو تو کبھی شعلۂ رخسار ہوئے جو کبھی چشم فسوں کار ہوئے کھول کر ...

مزید پڑھیے

حرف نارسا

کھلی کتاب کے حروف شرمگیں نگاہ سے دیکھتے ہیں یوں مجھے کہ جیسے یہ نئے پڑوسی جانے کب سے میری الجھنوں کے رازدار ہیں ہر ایک لفظ درد بن کے خلوتوں میں گونجتا ہے رات بھر یہ خط بھی اجنبی نہیں یہ حرف بھی نہیں کہ ان کی ہر نگہ میں ہر ادا میں بولتے بدن کی ہر صدا میں میرے انگ انگ کے لیے کرب کی ...

مزید پڑھیے

خطرے کا نشان

دائروں میں چلتے چلتے ہم کہاں تک آ گئے اونگھتے ہی اونگھتے خواب گراں تک آ گئے گہرے پانی میں اتر کر پار ہونے کے بجائے ڈرتے ڈرتے اب تو خطرے کے نشاں تک آ گئے

مزید پڑھیے

چوٹ لگتی ہے اگر

کتنے ہی صاحب دل اہل نظر اہل قلم اک زمانے سے یوں ہی لکھتے چلے آئے ہیں وہی اک قصۂ دل دوز کہ جو صدیوں سے ہے رواں مفلس و زردار کے بیچ ایک اک حرف لکھا خون جگر سے لیکن کچھ نہیں بدلا بجا کہتے ہو کچھ نہ بدلے گا میں جو بھی لکھوں ہاں یہ سچ ہے میں اسے مانتی ہوں لیکن اے دوست سنو اتنا حق مجھ کو ...

مزید پڑھیے

تمہیں آزاد کرتی ہوں

سنو کوئی عذر مت ڈھونڈو نہ ہی نظریں چراؤ تم مجھے معلوم ہے میں سب سمجھتی ہوں تمہارے عہد الفت سے تمہیں آزاد کرتی ہوں اب ایسا ہے کہ پتھر کا زمانہ پھر سے لوٹ آیا وہی قانون جنگل کا جبلت کا غلام انساں فراز عشق سے پاتال تک کا ہے سفر یعنی فراق و ہجر کے موسم ہوئے پارینہ قصے اب بہ کثرت ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 675 سے 960