بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
شیشے کے نازک برتن میں صابن گھول رہی ہے ننھی گڑیا نرکل کی نازک پھکنی سے پھونک رہی ہے غبارے ہر غبارہ اک خواب سا بن کر تیر رہا ہے کمرے میں کمرے کی دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کر ٹوٹ رہا ہے میں خاموش اپنے کمرے میں یہ کھیل تماشا دیکھ رہا ہوں اس کے نازک ہونٹوں کی نازک سی شرارت دیکھ رہا ہوں یہ ...