شاعری

کتابیں تم سے اچھی ہیں

کتابیں تم سے اچھی ہیں سرہانے کے بہت نزدیک جو اس طرح میری منتظر رہتی ہیں جیسے کوئی لڑکی خواب کی دہلیز سے انجان شہزادے کی راہیں دیکھتی ہو کتابیں تم سے اچھی ہیں کہ جب میں شام کو دن بھر مشقت کر کے ان کے پاس آتا ہوں تو یہ اپنی قبائیں کھول کر الفاظ کی خوشبو بساتی میری بانہوں میں سماتی ...

مزید پڑھیے

قالین

یہ مانا بہت خوب صورت ہے لیکن یہ قالین پھر بھی نہ میں لے سکوں گا بہت نرم ہے اور جاذب نظر بھی کہ نازک سے پھولوں نے اس کو بنا ہو ذرا اس کے ان سرخ رنگوں کو دیکھو کہ گالوں کی سرخی ہو جیسے نچوڑی یہ گولائی یہ نقش اور زاویے سب بہت نرم ہاتھوں سے جیسے بنے ہوں یہ اس کے کناروں کی رنگین جھالر کہ ...

مزید پڑھیے

ماں

جس کے چہرے پہ نظر آئے خدا کا پرتو جس کی آنکھوں میں چمکتی ہو فقط پیار کی لو جس کی پلکوں پہ نظر آئے وفا کی شبنم جس کے ہونے سے نہ ہوتا ہو کسی طرح کا غم جس کو تخلیق کے جوہر پہ ہو قدرت حاصل جس کی دھڑکن ہو ہر اک لحظہ لہو میں شامل جس کی آغوش میں احساس تحفظ کا رہے جس کی مسکان سے مرجھا ہوا دل ...

مزید پڑھیے

ڈور

مجھے احساس ہے اب بھی اس اک پل کا جو میری زندگی کی انگلیوں سے اس طرح نکلا کہ جیسے ڈور ہاتھوں سے نکل کر انگلیوں کو کاٹ جاتی ہے پتنگیں رقص کرتی ہیں ہوا کے دوش پر اور کوئی اپنی زخم خوردہ انگلیوں کو اپنے ہونٹوں میں دبائے زندگی کا ذائقہ محسوس کرتا ہے پتنگوں کی بجائے آسماں کی وسعتوں میں ...

مزید پڑھیے

مجھے جزدان سے باہر نکالو

مجھے جزدان میں تم نے لپیٹا پھر اس کے بعد طاقوں پر سجایا مری آیات کے تعویذ کر کے تمہی نے مجھ کو جسموں پر سجایا کبھی سچ قتل کر دینے کی خاطر سروں پر اپنے جھوٹوں نے اٹھایا مجھے سمجھے بنا پڑھتے رہے تم مری توہین یوں کرتے رہے تم مرے الفاظ کو تصویر کر کے سجایا گھر کی دیواروں کو تم نے مبلغ ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

آسماں سر پر اگانے میں مرا حصہ نہیں ہے یہ زمیں بھی کل تلک جس گائے کے سینگوں ٹکی تھی وہ مری کوئی نہیں تھی اور اب جس بے بدن ننگے خلا میں تیرتی ہے وہ خلا بھی میں نہیں ہوں ہر طرف پھیلی ہوئی بے رنگ چہرہ زندگی کو میں بھلا کیا ڈھالتا گوشت کا جو لوتھڑا لکھا ہے میرے نام وہ بھی اور کا ڈھالا ...

مزید پڑھیے

جب جنگل بستی میں آیا

میرے چاروں اور مکانوں سے آتی آوازیں سڑکوں پر لہراتی ان گنت موٹر کاریں اسکولوں سے چھنتی زندہ ہنستی بھن بھن لیمپ پوسٹ سے بہتی جگمگ دھارا ہنستے لوگوں سے بھرپور دوکانیں سڑکیں اخباروں میں چھپنے والی اونچے انسانوں کی باتیں جو برسوں میں پورے ہوں گے ایسے منصوبوں کی باتیں کہتی ہیں ہم ...

مزید پڑھیے

آ کے ہو جا بے لباس

دن جو کہتا ہے مت سن دھوپ کاندھوں پر اٹھانے سے بھی ہٹ جا ڈھیر سے غصے کو اپنی مٹھیوں میں بھر کے لے آ شہر بھر کے منہ پہ مل دے ہر طرف کالک ہی کالک پوت دے دیوار و در پر دن کے سب آثار ڈھا دے نوچ لے آکاش سے جلتے ہوئے خورشید کو دھوپ کی چادر کو کر دے تار تار اور پھر گھر آ کے ہو جا بے لباس بند ہو ...

مزید پڑھیے

موت ماں کی طرح ساتھ ہے

اس گلی کا سرا بھی کہیں کی سڑک پر ہی اگلے گا تاریک منہ پھاڑتی اس گلی میں اتر جاؤ گہرے اتر جاؤ بدبو دماغوں میں بھرتی ہے بھر جائے غم مت کرو پیپ خون اور معدے کی سب گندگی صاف کپڑوں پہ آتی ہے آ جائے غم مت کرو اس گلی میں اڑ کر بھٹکنا ہے ٹکراتے پھرنا ہے کھو جاؤ ٹکراؤ غم مت کرو موت ماں کی طرح ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

سنو ہم درختوں سے پھل توڑتے وقت ان کے لیے ماتمی دھن بجاتے نہیں سنو پیار کے قہقہوں اور بوسوں کے معصوم لمحوں میں ہم آنسوؤں کے دیوں کو جلاتے نہیں اور تم لمس بوسوں سلگتی ہوئی گرم سانسوں میں آنسو ملانے پہ کیوں تل گئی ہو سنو آنسوؤں کا مقدر تمہارا مقدر نہیں تم ابھی موسموں سے پرے اپنی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 659 سے 960