شاعری

سفر

رات جب ہر چیز کو چادر اڑھا دے ڈھانپ لے کالے پروں میں آگ لپٹوں سی زبانیں اژدھے جب اپنے اندر بند کر لیں تب اسی کالے سمے میں تم گھروں کی قبر سے باہر نکلنا اور بستی کے کنارے خواب میں خاموش بہتے آدمی سے آ کے مجھ کو ڈھونڈھنا میں وہیں تم سب سے کچھ آگے ملوں گا اور اندھیرا سا تمہارے آگے آگے ...

مزید پڑھیے

آؤ مل کر کھیلیں کھو کھو

بندر بولا ساتھی آؤ ہم سب مل کر کھیلیں کھو کھو لیکن چوہیا کچھ نہ بولی چپکے چپکے کھیلے گولی بارہ سنگھے کا کہنا ہے کرکٹ سب سے کھیل اچھا ہے گیدڑ بھی ہو گیا نکھٹو چھوڑ پڑھائی کھیلے لٹو بھالو کی مضبوط ہے ہڈی روز کھیلتا خوب کبڈی ہاتھی اپنا نام ہے کرتا ہے مسٹر خرگوش کا کہنا دوڑ بھاگ کا ...

مزید پڑھیے

زندگی کے افسانے

صبح کا جواں سورج چہچہے پرندوں کے آنکھ کھولتی کلیاں ہنستے کھیلتے بچے زندگی کی رونق ہیں زندگی کے میلے میں ہر خوشی انہیں سے ہے ان کی مسکراہٹ سے چاندنی بکھرتی ہے دلہنوں سی یہ دھرتی اور بھی نکھرتی ہے بھر کے مانگ میں تارے رات بھر سے آتی ہے درد و غم کے ماروں کو گود میں سلاتی ہے شب کے ...

مزید پڑھیے

ایک نظم ماں کے لیے

پہلی بار میں کب تکیے پر سر رکھ کر سوئی تھی ان کے بدن کو ڈھونڈا تھا اور روئی تھی دو ہاتھوں نے بھینچ لیا تھا گرم آغوش کی راحت میں کیسی گہری نیند مجھے تب آئی تھی کب دور ہوئی تھی پہلی بار اپنے پیروں پر چل کر بستر سے الگ پھر گھر سے الگ اک لمبے سفر پر نکلی تھی دھیرے دھیرے دور ہوئی کب نرم ...

مزید پڑھیے

مناظر خوبصورت ہیں

مناظر خوبصورت ہیں چلو چھو کر انہیں دیکھیں انہیں محسوس کرنے کے لیے آنکھوں کو رکھ دیں نرم سبزے پر لبوں کو سرخ پھولوں پر ہوا میں خوشبوؤں کا لمس جو گردن کو چھوتا ہے اسے سارے بدن پر پھیل جانے دیں جہاں پر پاؤں پڑتے ہیں وہاں تلووں سے شبنم کی نمی آنکھوں تلک آئے تو پھر سبزے پہ رکھی آنکھ سے ...

مزید پڑھیے

موسم کی پہلی بارش

ایک جھونکے نے پروا کے چھیڑا انہیں پیڑ رقصاں رہے رات بھر بھیگی مٹی کی خوشبو ابھرتی رہی کارواں بادلوں کا ٹھہر سا گیا گرتی بوندوں نے جادو کچھ ایسا کیا ہر تصور حقیقت میں ڈھلنے لگا میں بھی رقصاں رہی رات بھر ان ہی پیڑوں کے سنگ تو کہیں پاس تھا

مزید پڑھیے

اچھا لگتا ہے

مجھے پھولوں کا موسم پیڑ پودے اور پرندے اور بچے اچھے لگتے ہیں مجھے اک دور تک جاتی سڑک پر چلتے رہنا اچھا لگتا ہے مجھے پانی پہ مچھلی کا اچھلنا اچھا لگتا ہے مجھے تتلی کا پھولوں پر بھٹکنا اچھا لگتا ہے مجھے برسات میں پھیلی دھنک بھی اچھی لگتی ہے مجھے ہاتھوں میں چوڑی کی کھنک بھی اچھی ...

مزید پڑھیے

نظم

الاماں تازیانے گنہ گار ہاتھوں میں ہیں بے گناہوں کی خیر وہ جو قاضی عدالت گواہ و سند علم و دانش اور تحریر سے منسلک اک روایت کی تہذیب تھی وہ کہیں کھو گئی ایک لمبا سفر رک گیا کس لیے رک گیا الحذر! الحذر! یہ درندہ صفت نیم وحشی مبتلائے جنوں تازیانے لیے تازیانوں کی زد میں تڑپتا بدن خوں ...

مزید پڑھیے

زخمی انگلیوں سے ایک نظم

وہ لڑکی کسی اور بستی کی رہنے والی تھی جو پتھر پہ پھول اگانے کی خواہش میں انگلیاں زخمی کر بیٹھی سنا ہے اس کی بستی میں پھول اور محبت جیون کا لازمی حصہ تھے وہاں لفظوں میں پھول کھلتے تھے اور آنکھوں سے محبت کی کرنیں پھوٹتی تھیں جو کوئی اس بستی میں آتا چند اچھے لفظوں کے بدلے ڈھیروں ...

مزید پڑھیے

آخری لفظ

پتھر جسم کے اندر ٹوٹے پانی روح میں آگ جگائے کیسی محبت کیسی نفرت ساری باتیں لفظ کی ریت سے بنے گھروندے ہیں لفظوں کے اس کھیل میں سب کچھ کھونے سے اچھا ہے پچھلے زخم ادھیڑو اور رستے خون سے اپنا نام لکھو

مزید پڑھیے
صفحہ 660 سے 960