شاعری

شدت پسند

مجھے یقیں تھا کہ مذہبوں سے کوئی بھی رشتہ نہیں ہے ان کا مجھے یقیں تھا کہ ان کا مذہب ہے نفرتوں کی حدوں کے اندر مجھے یقیں تھا وہ لا مذہب ہیں یا ان کے مذہب کا نام ہرگز سوائے شدت کے کچھ نہیں ہے مگر اے ہمدم یقیں تمہارا جو ڈگمگایا تو کتنے انساں جو ہم وطن تھے جو ہم سفر تھے جو ہم نشیں تھے وہ ...

مزید پڑھیے

ابھی آئنہ مضمحل ہے

ابھی کچھ خراشیں ہیں چہرے پہ میرے ابھی وقت کے سخت ناخن کی یادیں ستاتی ہیں مجھ کو ڈراتی ہیں مجھ کو میاں موم خوابوں کی میرے پگھلتی نہ کیسے مری سمت سورج اچھالا گیا تھا میں شعلوں کی دلدل میں دھنسنے لگا تھا مرے دست و پا سب جھلسنے لگے تھے بہت شور مجھ میں اٹھا تھا ہر اک شے سماعت سے ...

مزید پڑھیے

خوشبو

میں کرب میں مبتلا تھی زندگی کی اذیتوں سے دو چار زندگی کے فاصلے اور موت کے قریب میں اپنی رگوں کی قیدی اپنے دکھوں کے حصار میں تھی زندگی سے دور ہوتی رہی تھی کہ میرے جسم میں ایک تناؤ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ میرے جسم کا ایک حصہ بن گیا میری پہچان میرے پیار کی تخلیق میرے خون کا ...

مزید پڑھیے

بات کا دوسرا رخ

روشنی روشنی روشنی ہر طرف روشنی سے کہو چھوڑ جائے مجھے وقت کا کارواں جا رہا ہے مگر ابھی ساتھ لے کر نہ جائے مجھے مری آرزو ہے کہ تو بھی کبھی دل کی جانب وہ رستہ سجھائے مجھے مری روشنی کو مرے نور کو میری آنکھوں سے لے کر دکھائے مجھے ظلمت و موت کی وادیوں میں کبھی اندھیروں کی خاطر لٹائے ...

مزید پڑھیے

صدا بہ صحرا

یہ دور دور مرادوں کے ریتیلے ٹیلے سرک سرک کے جو دامن بدلتے رہتے ہیں یہ مردہ اونٹ جو صحرا کے زرد رنگوں میں کسی نے دشت طلب میں سجا کے رکھے ہیں کہ جو بھی بھیس بدل کر ادھر روانہ ہو پلٹ ہی جائے وہ لے کر پھٹی پھٹی آنکھیں یہ کس کی وادی ہے یہ اونٹ کس کے ہیں یہ کون زرد نگارش کا اتنا شائق ہے یہ ...

مزید پڑھیے

کرم یوگی

کرم یوگی ہے پیکر جسم میں رہتا ہے مرے ساتھ اس کی آواز مرے دل سے نکل کر پھونکتی ہے مری روح میں نغموں کا خمار پھول کھلتے ہیں ستاروں کے مرے آنگن میں میری سکھیاں میری ہمجولیاں آتی ہیں مجھے ملنے تو وہ مل بیٹھتا ہے اس کی آسودگیٔ دل در و دیوار سے باہر کسی مہکی ہوئی خوشبو کی طرح پھیلتی ...

مزید پڑھیے

یہ پھولوں کی دنیا

ذرا اپنی آنکھیں تو دینا کہ دیکھوں تمہاری نظر سے جہان تمنا جہاں لوگ کہتے ہیں نرگس نے اک پھول پھر سے جنا ہے ہزاروں برس کی سزا جھیل کر گماں اور افشاں کے رنگوں میں پھر سے بہاروں کی خوشبو سفر کر رہی ہے کہ لمحوں کی لہروں پہ ہر سو نئی آرزو پر فشاں ہے تمنا کی تنہائیاں منتظر ہیں کہ شاید وہی ...

مزید پڑھیے

چشم تمنا

چشم تمنا جسے نیند آئی تھی صدیوں کی بیماریوں کی تھکن سے جاگ اٹھی ہے شاید بدن میں نیا دن شگوفے کی مانند ابھرا شفق زار بن کر دل کی آغوش میں آ بسا ہے نظارے میں مسحور رہنے کی خواہش جنم لے رہی ہے بسا کر اسے اپنی نظروں میں شاداب آنکھوں میں رہنے کو جی چاہتا ہے وہی رنگ و بو کی حرارت کی ہلکی ...

مزید پڑھیے

خوشبو کی خوشیاں

درختوں سے پتے تو ہر سال گرتے ہیں مٹی میں ملنے کی خواہش لیے مگر ان کو گن گن کے رکھتا ہے کون سفر کی تھکن سے سراسیمہ پتا جو گرتا ہے لمحے کی دیوار کرکے عبور بہت دور سے آ کے لیتا ہے مٹی کی خوشبو کی خوشیاں مگر زرد رنگوں کے زیور سے آراستہ یہ خزاں کی دلہن جس کی قسمت کے تارے شب و روز گرتے ...

مزید پڑھیے

چلو ہوا کے ساتھ چلیں

چلو ہوا کے ساتھ چلیں اور دیکھیں رخ ان لوگوں کا جو ہم سے روٹھ کے بیٹھے ہیں آؤ ان کی بات سنیں اور سن لیں شاید اپنی بات رکھ کر ان کے ہاتھ پہ ہاتھ کبھی تو دل کی بات سنیں اور رہیں ہم ان کے پاس شاید وہ بھی ہوں اداس چلو ہوا کے ساتھ چلیں

مزید پڑھیے
صفحہ 646 سے 960