شاعری

سلمیٰ کی گڑیا

یہ ہے وہ گڑیا آفت کی پڑیا سلمیٰ نے جس کو بیٹی بنایا یہ ہے وہ چوہا بھورا لنڈورا بھوکا چٹورا گڑیا کو جس نے چوٹیا سے کھینچا پنجوں میں بھینچا گڑیا وہ گڑیا آفت کی پڑیا سلمیٰ نے جس کو بیٹی بنایا یہ ہے وہ بلی موٹی مٹلی آنکھوں پہ جس کی چھائی تھی جھلی نو سو وہ چوہے کھا کر چلی تھی حج کر کے ...

مزید پڑھیے

مرغی کی مصیبت

ہم نے بطخ کے چھ انڈے اک مرغی کے نیچے رکھے پھوٹے انڈے پچیس دن میں بول رہے تھے بچے جن میں بچے نکلے پیارے پیارے مرغی کی آنکھوں کے تارے رنگ تھا پیلا چونچ میں لالی آنکھیں ان کی کالی کالی چونچ تھی چوڑی پنجہ چپٹا باقی چوزوں کا سا نقشہ بچے خوش تھے مرغی خوش تھی ہم بھی خوش تھے وہ بھی ...

مزید پڑھیے

پیا خموش ہے میرا

بہت گم سم بہت خموش ہے وہ چند عرصے سے سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ آخر ماجرا کیا ہے وہی موسم وہی چاہت وہی رنگت بھی پھولوں میں مگر اک اس کہ خموشی نے اس پر کیف موسم کو ہمارے واسطے موسم خزاں کا بنا ڈالا پرندے اب بھی باغوں میں چہکتے ہیں گھٹائیں اب بھی آتی ہیں ہوائیں اب بھی چلتی ہیں مگر پھر ...

مزید پڑھیے

منتظر

جب کبھی میں اداس ہوتی ہوں اک ہجوم آنسوؤں کا پلکوں پر منتظر اذن کو تڑپاتا ہے کیا کروں میں سمجھ نہیں آتا کس طرح سے تمہاری یادوں کو صورت اشک میں بہا ڈالوں کیا کہوں اک گھٹن کا عالم ہے میں ہوں تنہائی اور تری یادیں ہر گھڑی دل کو آرزو ہے یہی جو ابھی تک نہیں ہوا جاناں کاش ایسا کبھی ...

مزید پڑھیے

خاموشی

لو میں نے قلم کو دھو ڈالا لو میری زباں پر تالا ہے لو میں نے آنکھیں بند کر لیں لو پرچم سارے باندھ لیے نعروں کو گلے میں گھونٹ دیا احساس کے تانے بانے کو پھر میں نے حوالے دار کیا اس دل کی کسک کو مان لیا ایک آخری بوسہ دینا ہے اور اپنے لرزتے ہاتھوں سے خنجر کے حوالے کرنا ہے لو میں نے قلم ...

مزید پڑھیے

انسان کی فریاد

ہاں اے مصاف ہستی! مت پوچھ مجھ سے کیا ہوں اک عرصۂ بلا ہوں اک لقمۂ فنا ہوں مجبوریوں نے ڈالا گردن میں میری پھندا خود کردۂ وفا ہوں جاں دادۂ رضا ہوں صیاد حادثے کا کرتا ہے میرا پیچھا مرغ بریدہ پر ہوں صید شکستہ پا ہوں ہے ذات میری مجمع ساری برائیوں کا کہنے کو میں بڑا ہوں لیکن بہت برا ...

مزید پڑھیے

مقصود الفت

کیا مرے حسن دل آویز پہ تو مرتا ہے شعلہ روئی پہ مری جان فدا کرتا ہے یہ اگر سچ ہے تو جا مجھ سے محبت مت کر نگہ عشق رخ مہر جہاں تاب پہ ڈال حسن بے مثل کو جس کے نہ اجل ہے نہ زوال کم سنی پر مری مائل ہے طبیعت تیری حسن نوخیز سے وابستہ ہے الفت تیری یہ اگر سچ ہے تو جا مجھ سے محبت مت کر تیری الفت ...

مزید پڑھیے

گر ٹوٹ گئے تو ہار گئے

جب میرے وطن کی گلیوں میں ظلمت نے پنکھ پسارے تھے اور رات کے کالے بادل نے ہر شہر میں ڈیرا ڈالا تھا جب بستی بستی دہک اٹھی یوں لگتا تھا سب راکھ ہوا یوں لگتا تھا محشر ہے بپا اور رات کے ظالم سائے سے بچنے کا کوئی یارا بھی نہ تھا صدیوں میں تراشا تھا جس کو انسان کے انتھک ہاتھوں نے تہذیب کے ...

مزید پڑھیے

صبح

سنا ہے رات کے پردے میں صبح سوتی ہے سویرا اٹھ کے دبے پاؤں آئے گا ہم تک ہمارے پاؤں پہ رکھے گا بھیگے بھیگے پھول کہے گا اٹھو کہ اب تیرگی کا دور گیا بہت سے کام ادھورے پڑے ہیں کرنے ہیں انہیں سمیٹ کے راہیں نئی تلاش کرو نہیں یقین کرو یوں کبھی نہیں ہوتا سویرا اٹھ کے دبے پاؤں خود نہ آئے ...

مزید پڑھیے

میری تلوار ہے یہ میرا قلم

ایک نظم ایک غزل الجھا الجھا سا کوئی شعر کہیں ایک افسانہ کہانی یا کوئی ایک کتاب کوئی تصویر کوئی خاکہ کوئی ایک خیال دل کے ایک کونے میں کہیں کلیوں کے چٹکنے کی صدا صبح دم اس میں بھیگے ہوئے پھولوں کی مہک دور دھندھلائے ہوئے رنگوں کے پردے سے پرے ڈوبتے اور ابھرتے ہوئے نغموں کی صدا گہری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 645 سے 960