شاعری

سونے والو جاگو

جاگو سونے والو جاگو وقت کے کھونے والو جاگو باغ میں چڑیاں بول رہی ہیں کلیاں آنکھیں کھول رہی ہیں پھول خوشی سے جھوم رہے ہیں پتوں کا منہ چوم رہے ہیں جاگ اٹھے دریا اور نہریں جاگ اٹھیں موجیں اور لہریں ناؤ چلانے والے جاگے پار لگانے والے جاگے ساری دنیا جاگ رہی ہے کام کی جانب بھاگ رہی ...

مزید پڑھیے

گوٹے کی چنری

دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری آ ہا جی گل ناری چنری رنگ رنگیلی پیاری چنری ململ کی اک تاری چنری نازک نازک ساری چنری دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری امی کے کچھ جی میں آیا گوٹے کا اک تھان منگایا چنری پر سارا چپکایا ہر کونے پر پھول بنایا دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری لچکا ہے ہاتھوں میں لچکتا گوٹا ہے ...

مزید پڑھیے

طوفانی کشتی

دریا چڑھاؤ پر ہے اور بوجھ ناؤ پر ہے پہنائے آب سارا ہے کوچ کا اشارا ہوش آزما نظارا موجوں کے منہ میں کف ہے اک شور ہر طرف ہے مرگ آفریں ہے دھارا اور دور ہے کنارا کوئی نہیں سہارا تیغ آزما ہیں لہریں تیغیں ہیں یا ہیں لہریں توبہ ہوا کی تیزی موج فنا کی تیزی ہے کس بلا کی تیزی تدبیر ناخدا ...

مزید پڑھیے

آج کی رات

چاندنی رات ہے جوانی پر دست گردوں میں ساغر مہتاب نور بن بن کے چھن رہی ہے شراب ساقیٔ آسماں پیالہ بدست میں شراب سرور سے سرمست فکر دوزخ نہ ذکر جنت ہے میں ہوں اور تیری پیاری صورت ہے رس بھرے ہونٹ مدبھری آنکھیں! کون فردا پہ اعتبار کرے کون جنت کا انتظار کرے جانے کب موت کا پیام آئے یہ ...

مزید پڑھیے

مجھے ڈھونڈنا بڑا آسان ہے

میں جلتا رہتا ہوں دو حصوں میں میں جینے کی کوشش نہیں کرتا لوگ مجھے جینا چاہتے ہیں یوں ہی بکھرے وجودوں میں وہ مجھے چن چن کر اوڑھ لیتے ہیں بھوکے پیٹوں بے حیات پوروں میں کوئی لفظ نہیں ہوتا جانے کیوں میں ان کی زبان کی گالی بن جاتا ہوں میں ننگ نفس میں اٹھتا ہوں بیٹھتا ہوں کوئی غیر مرئی ...

مزید پڑھیے

شاعر کی زندگی کا تجزیہ کرنا انتہائی مشکل ہے

ایک شاعر کی زندگی کا تجزیہ کرنا انتہائی مشکل ہے کہ وہ خوش ہے یا نا خوش ہنستا ہے یا روتا ہے یا روتے میں ہنستا ہے کچھ بھی فیصلہ انداز انداز میں کہا جا سکتا کہ کچھ کہنے سے پہلے کیا سوچتا ہے کمرے کی چار دیواری میں مرنا نہایت آسان ہے مگر لفظوں کی اس گونا گوں دنیا میں ایک شاعر کی زندگی ...

مزید پڑھیے

یقین کی کوئی حد نہیں ہوتی

میرے اطمینان کے لئے نیلے سمندر حسین جھیل یا کسی گھاس سے لپٹے ہوئے تالاب کا ذکر ضروری نہیں میرا یقین سمندر جھیل اور ایک تالاب سے زیادہ سادہ ہے یہ آنکھوں پہ ہی اعتبار کر لیتا ہے آنکھیں چاہے سوکھی ہوں یا پر آشوب ان کی گہرائی کا مقابلہ پانی سے نہیں کیا جا سکتا آنکھیں خوش ہوں یا ...

مزید پڑھیے

ہوا ایک قلم ہے

میں نے ہواؤں کا گیت سننا چاہا مگر سن نہ سکا گیت بازاری بھاؤ تاؤ سے کتراتے ہیں اور یہاں وحشت زدہ آوازوں میں سے ترنم کی علیحدگی کا کوئی بندوبست نہیں جب میں سویا ہوا تھا ہوا بھوکے بچوں کی لوری بن گئی تھی میں ہوا کو معطر محسوس کرنا چاہتا ہوں مگر یہ ہمیشہ جھلسی ہوئی لاشیں ڈھونڈ لیتی ...

مزید پڑھیے

خواب اور کونپلیں

رات کے لمبے سائے پیروں سے آ لپٹتے ہیں اے میرے ہم سفر ہمہ تن گوش رہنا رقص سے ذرا دیر پہلے گرم خون کی لو ناچتی ہے اور بیتابی ہمیشہ چاند کو پاؤں لگا دیتی ہے ہم کسی دن یا سورج کی بات نہیں کر رہے کیا تمہیں پتا نہیں خواب اور کونپلیں رات کو اگتی ہیں اور دن میں کاٹی جاتی ہیں

مزید پڑھیے

خواب سے نکلی ہوئی نظم

اپنی جوانی میں بکھری ہوئی قوس قزح غرور میں پھولے ہوئے پھول اہرام مصر یا ایک خوب صورت محبوبہ کے اندر ایک حاکم پنپتا ہے ہر دور میں ایک چالاک شخص ضرور ہونا چاہئے جو لوگوں کو بد صورتی سے ڈرا کر محظوظ ہوتا رہے اب میں خوبصورتی کے لیے کیا لکھوں یہی کہ تخلیقی میلان سے ذرا پہلے اور بہت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 633 سے 960