شاعری

دلی

دلی کہ اس جہاں میں عظیم و قدیم ہے علم و فن و ہنر کی سدا سے نعیم ہے اللہ اس کی عظمت دیں کا علیم ہے تفسیر دل حدیث خودی کا فہیم ہے گیتا پران کے بھی فسانے میں ذکر ہے تاریخ سے بھی قبل زمانے میں ذکر ہے دلی کا پانڈوؤں کے ترانے میں ذکر ہے اندر پرستھ تک کے سجانے میں ذکر ہے دلی سدا سے مرکز ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

بظاہر اجنبی ہو تم مگر بوسوں کی بے کیفی بتاتی ہے کہ یہ وہ زہر ہے چکھا ہے جس کو بارہا میں نے نہ جانے جذب ہے میرے لبوں میں کتنے رخساروں کی کڑواہٹ یہ سب خمیازہ ہے اس بوسۂ اول کا دل بھولا نہیں جس کی حلاوت کو میں اس کو بارہا سمجھا چکا ہوں ماضیٔ مرحوم کا ماتم تو کر سکتے ہیں، واپس لا نہیں ...

مزید پڑھیے

صبح کاذب

یہ جو اک نور کی ہلکی سی کرن پھوٹی ہے کون کہتا ہے اسے صبح درخشاں اے دوست مجھ کو احساس ہے باقی ہے شب تار بھی لیکن اے دوست مجھے رقص تو کر لینے دے کم سے کم نور نے الٹا تو ہے اک بار نقاب ایک لمحے کو تو ٹوٹا ہے طلسم شب تار اس سے ثابت تو ہوا صبح بھی ہو سکتی ہے پردۂ ظلمت شب چاک بھی ہو سکتا ...

مزید پڑھیے

نظم

تم نے دیکھا تھا اس کے چہرے کو تھے کہیں کرب کے کوئی آثار تم اسے موت کہہ رہے تھے مگر خواب راحت میں وہ تو سوتا تھا اور پسماندگان کے سینے میں جس جہنم کی آگ جلتی تھی جز خدا کون جان سکتا ہے سخت حیرت ہے لوگ اس پر بھی ماتم مرگ کر رہے ہیں مگر ماتم زندگی نہیں کرتے

مزید پڑھیے

نظم

دیر ویراں ہے حرم ہے بے خروش برہمن چپ ہے مؤذن ہے خموش سوز ہے اشلوک میں باقی نہ ساز اب وہ خطبے میں نہ حدت ہے نہ جوش ہو گئی بے سود تلقین ثواب اب دلائیں بھی تو کیا خوف عذاب اب حریف شیخ کوئی بھی نہیں ختم ہے ہر ایک موضوع خطاب آج مدھم سی ہے آواز درود آج جلتا ہی نہیں مندر میں عود کیا قیامت ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

وہ اک آوارہ و مجنوں وہ اک شاعر جسے اپنی شرافت کے تحفظ میں کیا تھا قتل اک مدت ہوئی میں نے وہی آوارہ و مجنوں وہی شاعر عدم کے گوشۂ تاریک سے باہر نکل کر قہقہے مجھ پر لگاتا ہے وہ کہتا ہے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سعیٔ خودکشی ناکام رہتی ہے

مزید پڑھیے

کہ در گفتن نمی آید

مری جاں گو تجھے دل سے بھلایا جا نہیں سکتا مگر یہ بات میں اپنی زباں پر لا نہیں سکتا تجھے اپنا بنانا موجب راحت سمجھ کر بھی تجھے اپنا بنا لوں یہ تصور لا نہیں سکتا ہوا ہے بارہا احساس مجھ کو اس حقیقت کا ترے نزدیک رہ کر بھی میں تجھ کو پا نہیں سکتا مرے دست ہوس کی دسترس ہے جسم تک ...

مزید پڑھیے

نظم

حقیر و ناتواں تنکا ہوا کے دوش پر پراں سمجھتا تھا کہ بحر و بر پہ میری حکمرانی ہے مگر جھونکا ہوا کا ایک البیلا تلون کیش بے پروا جب اس کے جی میں آئے رخ پلٹ جائے ہوا آخر ہوا ہے کب کسی کا ساتھ دیتی ہے ہوا تو بے وفا ہے کب کسی کا ساتھ دیتی ہے ہوا پلٹی بلندی کا فسوں ٹوٹا حقیر و ناتواں ...

مزید پڑھیے

طلوع شب

نہ فلک پر کوئی تارا نہ زمیں پر جگنو جو کرن نور کی ہے مات ہوئی جاتی ہے کارگر یورش ظلمات ہوئی ہے کتنی کیا ہمیشہ کے لیے رات ہوئی جاتی ہے

مزید پڑھیے

ایک حسن فروش لڑکی کے نام

مری جاں گو تجھے دل سے بھلایا جا نہیں سکتا مگر یہ بات میں اپنی زباں پر لا نہیں سکتا میں تجھ کو چاہتا ہوں والہانہ پیار کرتا ہوں میں گاتا رہتا ہوں پر یہ نغمہ گا نہیں سکتا تجھے اپنا بنانا موجب راحت سمجھ کر بھی تجھے اپنا بنا لوں یہ سمجھ میں آ نہیں سکتا بنا سکتا ہوں شب کو اپنے بستر کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 634 سے 960