بسم اللہ
کام کوئی جب کیا کریں ہم نام اللہ کا لیا کریں ہم پڑھ بسم اللہ پہلے سب سے مانگ دعا پھر اپنے رب سے
کام کوئی جب کیا کریں ہم نام اللہ کا لیا کریں ہم پڑھ بسم اللہ پہلے سب سے مانگ دعا پھر اپنے رب سے
کیوں ہوتا ہے نو دو گیارہ تین تیرہ اور نو اٹھارہ چھکا پنجہ اور پو بارہ ممی پاپا یہ بتلاؤ مکڑا کیوں ہے جالا بنتا سانپ کا پاؤں کیوں نہیں ہوتا مرغی پہلے ہے یا انڈا ممی پاپا یہ بتلاؤ تاڑ کے نیچے کیوں نہیں سایا رنگ حنا کیوں لال ہے ہوتا کیوں ہے گل کے ساتھ ہی کانٹا ممی پاپا یہ ...
تم بھی تارے ہم بھی تارے آؤ مل کے کھیلیں پیارے تم ہو اس آکاش کے تارے ہم ہیں دھرتی کے مہ پارے تم چندا ماما کے پیارے ہم ممی پاپا کے پیارے نیل گگن ہے تم سے روشن دھرتی ساری ہم سے روشن کام تمہارا جلتے رہنا کام ہمارا چلتے رہنا آؤ مل کے کھیلیں پیارے ہم بھی تارے تم بھی تارے
ٹک ٹک کرتی رہتی ہے دیکھو گھڑی کیا کہتی ہے چھوٹ نہ جائے وقت کی ریل پہلے پڑھائی پیچھے کھیل دیکھو گھڑی کیا کہتی ہے ٹک ٹک کرتی رہتی ہے
جھول ماموں جھول پگڑی میں تیری پھول پگڑی جو الٹی تو بکھرے سب پھر پھول دھکم دھکا باجا گاجا گھوڑا اک دم سرپٹ بھاگا
گرمی آئی چھٹی لائی دائیں بائیں آگے پیچھے شور مچاتے سارے بچے گرمی آئی چھٹی لائی باجا گاجا منا راجا بے سر سب نے راگ الاپا گرمی آئی چھٹی لائی اٹی کٹی چھوڑو پیاری آؤ پھر سے کر لو یاری
ڈمرو بولا ڈم ڈم ڈم گاندھی جی کے منتر تین چنٹو منٹو اور نوین دیکھا برا نہ دیکھا اچھا سنیے برا نہ سننا اچھا کہنا برا نہ کہنا اچھا بولے چنٹو منٹو نوین گاندھی جی کے منتر تین
جھیل کنارے اکثر شام کو دیکھا کرتا نیل گگن پر اڑتے گاتے چھوٹی چھوٹی اجلی کالی نیلی پیلی چڑیوں کا دل واپس جاتے کاش کہ میں بھی پنچھی ہوتا اپنے ساتھی لڑکوں کے سنگ آزادی سے ادھر ادھر میں گھومتا پھرتا اس دھرتی کے چاروں جانب جیسے نیل گگن پر اڑتا چڑیوں کا اک جھنڈ
چندا ماما کہتا ہے کہہ کر ہنستا رہتا ہے منا دیکھو روتا ہے روتا ہے چپ ہوتا ہے سونے کی تھالی میں یہ دودھ اور چاول کھائے گا موٹر پر اپنی چڑھ کے چندا نگری جائے گا ٹائر گیا پھٹ منا گیا الٹ
اٹکن بٹکن دہی چٹاکن آلو بیگن کھٹا چورن گھنگھرو باجے چھن چھن چھن چھن گھنٹہ بولا ٹن ٹن ٹن ٹن ہنستے گاتے چنن منن