شاعری

پالتو جانور

ایک چھوٹے سے قد کا ہتھوڑا لیے میں بھی اک پالتو جانور کی طرح ورکشاپ کی خندق میں پھینکا گیا میرے اجداد نے ان روایات کو زندہ رکھنے کی خاطر مرے جسم پر ٹائروں اور سڑکوں کی مٹی ملی ٹین کی چھت کے نیچے بدن پک گیا جسم و جاں بے اماں الجھنوں میں گھرا اب مشینوں کے پرزوں میں دن رات یوں موبل ...

مزید پڑھیے

موت

وہ جنہیں آتا نہ تھا دنیا میں جینے کا شعار مر گئے تو بڑھ گیا ان کا وقار موت کتنی خوب صورت چیز ہے

مزید پڑھیے

پچھتاوا

میں نے دیکھے ہیں وہ مرحلے کہ جہاں زندگی موت کا باہمی فاصلہ دو قدم بھی نہ تھا ایسے لمحوں کی ساری اذیت کو میں کس قدر حوصلوں سے سنبھالے رہا جب تلک مجھ میں جینے کے آزار سے منسلک سانس لینے کی خواہش رہی میری فکر و نظر کی سبھی کاوشیں تیرہ و تار موجوں سے لڑتی رہیں اور میں موت کی سیڑھیوں پہ ...

مزید پڑھیے

زندگی

زندگی کیا ہے میں کچھ سوچ کے خاموش سا ہوں لوگ کہتے ہیں عناصر کا ظہور ترتیب میں سمجھتا ہوں کہ اک وہم مسلسل کے سوا زندگی کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں لیکن اجداد کی حکمت سے تفاوت توبہ اپنے افکار کی جدت مجھے منظور نہیں لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے

مزید پڑھیے

باخبر لڑکیاں

کبھی لڑکیوں کے تنومند جسموں میں سورج کی تابانیاں دیکھنے کو مکانوں کی چھت پر کھڑے ہو کے یارو جو ہم ننگے پاؤں کے تلوے جلاتے تو اپنے بدن کی حرارت سے ساری نسیں پھڑپھڑاتیں مگر لڑکیوں کو خبر تک نہ ہوتی اگر اب مکانوں کی اونچی چھتوں پر کھڑے ہو کے تم نے تنومند جسموں میں سورج کی تابانیاں ...

مزید پڑھیے

شہر سے دور

آؤ دور چلیں پیپل کی ہری ہری چھاؤں میں بیٹھ کے دل بہلائیں شہر کی اس گہما گہمی میں اب تو جی گھبراتا ہے رانی دیکھو اس نگری میں نہ کوئی کرشن نہ رادھا ہے یہ تو شہر ہے پیاری کاروباری دنیا ہے من سے خالی تن والے ہیں دھن ہی ان کا گہنا ہے جھوٹی رسمیں جھوٹے بندھن جھوٹا ان کا پیار کاروباری ...

مزید پڑھیے

اپنی ذات کی چوری

کل شام نہر کی پٹری کے ساتھ ساتھ میں اپنے ناتواں کندھوں پر ایک شکستہ بوری اٹھائے جا رہا تھا کہ چیخ و پکار شروع ہوئی پکڑو پکڑو قاتل قاتل نہر پر متعین پولیس چوکی کے مستعد عملے نے سنگینوں سے میرا تعاقب کیا میں اپنی تمام تر قوت سے بھاگنے کے باوجود چند ہی لمحوں میں ان کی آہنی گرفت میں ...

مزید پڑھیے

ازل سے ابد

میرے ہاتھوں نے تجھ کو چھوا تک نہیں مجھ کو سورج کی اس روشنی کی قسم تو کہیں بھی رہے میں کہیں بھی رہوں دل ترے پاس ہے میں ازل سے ابد تک ترے ساتھ ہوں تو مرے ساتھ ہے

مزید پڑھیے

اس نے مجھ سے کہا تھا

ملگجی عرض غم زرد سا آسماں اور افق تا افق اور شفق در شفق سرمئی بادلوں میں اداسی کے رنگ اس کے کمرے کے ماحول میں اک ملال آفریں کیفیت اس کی نرگس سی آنکھوں میں لرزاں حنائی نشاں الاماں اس کا غنچہ دہن ادھ کھلے پھول سا اس کے رخسار پر سرخیوں کی پھبن اور براق ہاتھوں پہ رکھی ہوئی زندگی وہ ...

مزید پڑھیے

قدر و قیمت

سنا ہے ریشم کے کیڑوں نے پتوں کی ہریالی چاٹی شبنم کے قطروں کی دمک بھی پھولوں کے رنگوں کو چرایا چاند کی کرنوں کے لچھوں سے ریشم کاتا اور اک تھان کیا تیار جس کو پا لینے کی خاطر شیریں نے فرہاد کو بیچا ہیر نے ہیرے لیلیٰ نے زلفوں کی سیاہی لیکن سودا ہو نہ سکا اب پھولوں میں رنگ نہیں ہے شبنم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 59 سے 960