مرا درد نہ جانے کوئی
ایک طرف بیٹی ہے میری ایک طرف مری ماں دونوں مجھ کو عقل بتاتی رہتی ہیں باری باری سبق پڑھاتی رہتی ہیں دو نسلوں کے بیچ کھڑی میں خود پر ہنستی رہتی ہوں اپنی گرہیں آپ ہی کستی رہتی ہوں میرے دونوں ہاتھ بندھے مرا درد نہ جانے کوئی
ایک طرف بیٹی ہے میری ایک طرف مری ماں دونوں مجھ کو عقل بتاتی رہتی ہیں باری باری سبق پڑھاتی رہتی ہیں دو نسلوں کے بیچ کھڑی میں خود پر ہنستی رہتی ہوں اپنی گرہیں آپ ہی کستی رہتی ہوں میرے دونوں ہاتھ بندھے مرا درد نہ جانے کوئی
ایک طرف بیٹی ہے میری ایک طرف مری ماں دونوں مجھ کو عقل بتاتی رہتی ہیں باری باری سبق پڑھاتی رہتی ہیں دو نسلوں کے بیچ کھڑی میں خود پر ہنستی رہتی ہوں اپنی گرہیں آپ ہی کستی رہتی ہوں میرے دونوں ہاتھ بندھے میرا درد نہ جانے کوئی
عجیب سی اطلاع تھی وہ جسے میں خود سے نہ جانے کب سے چھپا رہی تھی عجب خبر تھی کہ جس کی بابت میں خود سے سچ بولتے ہوئے ہچکچا رہی تھی عجیب دکھ تھا کہ جس کا احساس جاگتے ہی میں اپنے محرم سے اپنے ہمدم سے ایسے نظریں چرا رہی تھی کہ جیسے مجھ میں کہیں کوئی جرم ہو گیا ہو عجب خبر تھی جسے مرا دل ...
ہجر و وصال کے بیچ بھی اک موسم ہوتا ہے جیسے تمہاری گم صم آنکھیں جیسے مری ادھوری نظمیں جیسے چھاچھ کا خالی پیالہ جیسے چاک پہ آدھا برتن جیسے کسی سیارے پر چھ ماہ کی رات جیسے کسی تخلیق کے لمحے کرب کی لذت جیسے خواب میں وصل کا نشہ جیسے لہو میں وحشی گیتوں کی سرشاری جیسے بنجر کور زمیں کی ...
اے حسن کوزہ گر تو نے جانا کہ میں جسم و جاں کے تعلق کی روشن گزر گاہ سے اک جہاں کا سفر جھیل کر اس رفاقت کی دہلیز تک آئی ہوں اے حسن کاش تو جان سکتا کہ اس صحن خانہ سے دہلیز تک کے سفر میں جہاں زاد کو کیوں زمانے لگے ہیں حسن اس سفر میں جہاں زاد کو ایک اک گام پر وقت کے تازیانے لگے ہیں حسن ...
اسیر لوگو اٹھو اور اٹھ کر پہاڑ کاٹو پہاڑ مردہ روایتوں کے پہاڑ اندھی عقیدتوں کے پہاڑ ظالم عداوتوں کے ہمارے جسموں کے قید خانوں میں سیکڑوں بے قرار جسم اور اداس روحیں سسک رہی ہیں وہ زینہ زینہ بھٹک رہی ہیں ہم ان کو آزاد کب کریں گے ہمارا ہونا ہماری ان آنے والی نسلوں کے واسطے ہے ہم ان ...
میرا پیار اس بستی کے نام جہاں مرے بچپن کی ننھی منی یادیں سوتی ہیں جہاں مری معصوم تمناؤں نے گھروندے کھینچے تھے میرا پیار اس ٹھنڈے گہرے نیلم تالاب کے نام جس کی اجلی مٹی مرے کھلونوں کے کام آتی تھی میرا پیار اس گھر کے نام جس کی سبز منڈیروں پر میرے ہاتھ کی رنگی ہوئی گوریا اب بھی چہکتی ...
ماسی دہی بلونا خالی ناند کی باسی خوشبو سونا باڑا بھوکی گائے تمہیں بلاتی ہے میلی اوڑھنی اور ستلی کے جھولے میں سویا ہوا پوتا جاگ اٹھا ہے اور اپنے مخصوص راگ میں ریں ریں کرتا ہے گہری نیند میں سوئی ہوئی تمہاری نوں جاگ اٹھی تو چلائے گی چولہا اب تک ٹھنڈا ہے اپلے اوس میں بھیگ رہے ...
کھیت میں کام کرتی ہوئی لڑکیاں جیٹھ کی چمپئی دھوپ نے جن کا سونا بدن سرمئی کر دیا جن کو راتوں میں اوس اور پالے کا بستر ملے دن کو سورج سروں پر جلے یہ ہرے لان میں سنگ مرمر کی بینچوں پہ بیٹھی ہوئی ان مورتوں سے کہیں خوب صورت کہیں مختلف جن کے جوڑے میں جوہی کی کلیاں سجیں جو گلاب اور بیلے ...
چوڑی والے کے یہاں میں ابھی اسٹول پر بیٹھی ہی تھی ساتھ کی دوکان کے آگے اک اسکوٹر رکا گولی چلی سب نے فق چہروں کے ساتھ مڑ کے دیکھا ایک لمحے کے لیے بازار ساکت اور اسکوٹر روانہ ہو گیا ہلکی ہلکی بھنبھناہٹ سی ہوئی کچھ دیر تک اور ان آنکھوں نے دیکھا بیچ چوراہے پہ اوندھی لاش کے نزدیک ...