آسیب
مجھے ڈرایا گیا تھا بچپن میں ایک آسیب سے وہ آسیب! جس کا پھولوں کے بیچ گھر تھا وہ شوخ پھولوں کی چھاؤں میں پلنے والی خوشبو کا ہم سفر تھا مجھے ڈرایا گیا تھا لیکن طویل گرمی کی ہر سہانی سی دوپہر کو میں اپنی ماں کی نظر بچا کر گلابی نیندوں کی ریشمی انگلیاں چھڑا کر دہکتے پھولوں کے درمیاں ...