شاعری

جہاں نورد

چاک تخلیق پر ایک جیسی ہی آدم کی شکلیں بنیں روح کی آبیاری بھی یکساں ہوئی بے کراں زندگی کی دعائیں لیے کتنے شمس و قمر روز اگنے لگے سبز چارہ گری کے صحیفے دماغوں کی بنجر تہوں میں فروزاں ہوئے موسموں کے جزیرے زمیں کے بدن سے نکالے گئے روشنی کے ذخیرے چھپائے گئے آسماں میں کہیں پھر تعفن زدہ ...

مزید پڑھیے

انہدام

دستاویزی پراسس مکمل ہوا کاہنوں غیب دانوں کی فتنہ گری کے زمانے فنا ہو گئے اور انجم شناسی کے ماہر فلک پہ بدلتی ہوئی زندگی کھوج کرتے ہوئے مٹ گئے نینوا کی کھدائی سے مے کی بھری بوتلیں مل گئیں ذائقے تو سوا تھے مگر جانے کیوں کالعدم ہو گئے مذہبی آشرم کیف کی کپکپاہٹ سے عریاں ہوئی 300 ھڈز ...

مزید پڑھیے

مراجعت عشق

ایشیائی محبت میں تازہ شمارہ نکلتا نہیں دیس والوں نے ایسی مروت سکھائی کہ ترتیب سے جل رہے ہیں چراغ اور چقماق سے روشنی کا نیا اک شرارہ نکلتا نہیں اس اذیت بھری زندگی میں عبوری ضمانت کی کوئی سہولت نہیں آبشاروں کے جھرنے سروں کو جھکائے ہوئے گر رہے ہیں زمیں اپنی گردش کے تابوت میں قید ...

مزید پڑھیے

سیلانی روح

میں تھرکتی ہوں سارنگیوں کی نئی جاودانی دھنوں پر مرے بابلا تیری دھرتی ترا یہ محلہ کشادہ رہے تیرے سیار کی ساری گلیوں میں رونق رہے تیرے کھلیان میں سبز خوشبو رہے تیرے اشجار پر نو شگفتہ گلوں کی بجے بانسری تو پرندوں کی چہکار سے گیت بنتا رہے بارشوں کے ترنم جو منسوخ ہوں تو ترے دشت ذروں ...

مزید پڑھیے

وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم دوست کہتے ہیں

وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم دوست کہتے ہیں نہ کوئی خون کا رشتہ نہ کوئی ساتھ صدیوں کا مگر احساس اپنوں سا وہ انجانے دلاتے ہیں وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم دوست کہتے ہیں خفا جب زندگی ہو تو وہ آ کے تھام لیتے ہیں رلا دیتی ہے جب دنیا تو آ کر مسکراتے ہیں وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم ...

مزید پڑھیے

تعارف

مرا تعارف ارے نہ پوچھو پرانے زخموں کو مت کریدو مرا تعارف جو تم سمجھتے ہو وہ نہیں ہے میں اپنی گلیوں کی دھول میں کھیل کر بڑھی ہوں میں خواب کی عمر میں بھی حالات سے لڑی ہوں میں اپنے آبا کی قبر پر کھلنے والی وہ خوش نما کلی ہوں جو اپنے ہونے کے جرم میں ہر سزا کو ہنس ہنس کے کاٹتی ہے مرا ...

مزید پڑھیے

ہجرت

وہ پتھروں کے قبیلے کی ریشمی لڑکی روایتوں کی فصیلوں میں خود کو قید کئے فریب ذات کی اک خوش نما حویلی میں اکیلے پن کی کتھا سن رہی تھی پھولوں سے اور اپنے آپ کو بہلائے تھی پرندوں سے کہ اس کی روح کی وادی میں اک ہرن جذبہ قلانچیں بھرتا ہوا کھائیوں میں دوڑ گیا یہ پتھروں کے قبیلے کی شاہزادی ...

مزید پڑھیے

مینو پاز

عجیب سی اطلاع تھی وہ جسے میں خود سے نہ جانے کب سے چھپا رہی تھی عجب خبر تھی کہ جس کی بابت میں خود سے سچ بولتے ہوئے ہچکچا رہی تھی عجیب دکھ تھا کہ جس کا احساس جاگتے ہی میں اپنے محرم سے اپنے ہمدم سے ایسے نظریں چرا رہی تھی کہ جیسے مجھ میں کہیں کوئی جرم ہو گیا ہو عجب خبر تھی جسے مرا دل ...

مزید پڑھیے

تمہیں لکھنا نہ آتا تھا

سنا ہے تم منوں مٹی تلے آرام کرتی ہو تم اور آرام نا ممکن سنا ہے موت سے بھی آخری دم تک لڑائی کی مجھے معلوم ہے تم کتنی ضدی تھیں قسم ان کھردرے ہاتھوں کی میں جن میں قلم پکڑے ہوئے ہوں نہایت بے ایمانی سے تمہیں ہر بار میں تم سے چرا کر نظم بنتی ہوں کہانی کاڑھتی ہوں اور سب سے جھوٹ کہتی ...

مزید پڑھیے

اگلے جنم موہے بٹیا ہی کیجو

مری بٹیا تجھے بھی میں نے جنما تھا اسی دکھ سے کہ جس دکھ سے ترے بھائی کو جنما تجھے بھی میں نے اپنے تن سے وابستہ رکھا اتنی ہی مدت تک کہ جب تک تیرے بھائی کو مرے تن کے ہر اک دکھ سکھ میں تم دونوں کا حصہ ایک جیسا مادر فطرت نے رکھا تھا مگر تو جس گھڑی دھرتی پہ آئی وراثت بانٹنے والوں نے اپنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 585 سے 960