جہاں نورد
چاک تخلیق پر ایک جیسی ہی آدم کی شکلیں بنیں روح کی آبیاری بھی یکساں ہوئی بے کراں زندگی کی دعائیں لیے کتنے شمس و قمر روز اگنے لگے سبز چارہ گری کے صحیفے دماغوں کی بنجر تہوں میں فروزاں ہوئے موسموں کے جزیرے زمیں کے بدن سے نکالے گئے روشنی کے ذخیرے چھپائے گئے آسماں میں کہیں پھر تعفن زدہ ...