شاعری

میرا جی صاحب

''میرا جی کو ماننے والے کم ہیں لیکن ہم بھی ہیں فیضؔ کی بات بڑی ہے پھر بھی اب ویسا کون آئے گا'' تزئین سخن کی فکر نہ کر بے ساختہ چل اٹھ آنکھیں مل وہ کامل دیوان آ ہی گیا دنیا بھر کو دہلا ہی گیا ہاں مان لیا پر بحر کا کیا بدلے بدلی ہر بحر بدلنے والی ہے جس رو میں سمندر لاکھ بھرے وہ رو پھر ...

مزید پڑھیے

میں چھوٹا سا اک لڑکا ہوں

میں چھوٹا سا اک لڑکا ہوں پر کام کروں گا بڑے بڑے جتنے بھی لڑکی لڑکے ہیں میں سب کو نیک بناؤں گا جو بکھرے ہوئے ہیں ہمجولی ان سب کو ایک بناؤں گا سب آپس میں مل جائیں گے جو رہتے ہیں اب لڑے لڑے یہ علم کی ہیں جو روشنیاں میں گھر گھر میں پھیلاؤں گا تعلیم کا پرچم لہرا کر میں سر سید بن جاؤں ...

مزید پڑھیے

آسودہ حالی کے جتن

ذات کی آسودگی کے سب جتن کرتا رہوں طائروں کے سنگ اڑ کر آسماں کی جھلملاتی نیلگوں سی گود میں اخلاص کی گرمی محبت کی تپش کو ہر گھڑی میں ڈھونڈھتا پھرتا رہوں یا کبھی اپنے خیالوں کی ردا اوڑھے میں دھرتی کے کھلے سینے پہ سر رکھ کر اور اپنی بانہیں اس کے گرد لپٹانے کی کوشش میں جہاں بھر کے گلے ...

مزید پڑھیے

بے خبری

خوف ابھی جڑا نہ تھا سلسلۂ کلام سے حرف ابھی بجھے نہ تھے دہشت کم خرام سے سنگ ملال کے لیے دل آستاں ہوا نہ تھا اقلیم خواب میں کہیں کوئی زیاں ہوا نہ تھا نکہت ابر و باد کی مستی میں ڈولتے تھے گھر صاف دکھائی دیتے تھے اس کی گلی کے سب شجر گرد مثال دستکیں در پہ ابھی جمی نہ تھیں رنگ فراق و وصل ...

مزید پڑھیے

مجھے مجھ سے لے لو!

دوزخی ساعتوں کے سبھی خواب آسیب بن کر مرے دل سے لپٹے ہوئے ہیں مری روح انجانے ہاتھوں میں جکڑی ہوئی ہے مجھے، مجھ سے لے لو کہ یہ زندگی ان عذابوں کی میراث ہے لمحہ لمحہ جو میرا لہو پی رہے ہیں زمانوں سے میں مر چکا ہوں مگر ان گنت وحشی عفریت میرے لہو کی توانائی پر آج بھی پل رہے ہیں

مزید پڑھیے

پندرہ اگست

فرد فرد مست ہے پندرہ اگست ہے جوش ہے ابال ہے رنگ ہے گلال ہے گلی گلی ہیں رونقیں عجیب سی ہیں رونقیں ہم کبھی غلام تھے بھارتی غلام تھے زندگی کی شام تھی سانس تک غلام تھی فرنگیوں کے جور سے بھارتی نڈھال تھے ظلم جب بہت ہوا اپنی حد سے بڑھ گیا بھارتی بپھر گئے ہم سبھی بپھر گئے جان و مال تج ...

مزید پڑھیے

چراغ محبت

سیاہی کدورت کی دل سے نکالو نظر کو محبت کے سانچے میں ڈھالو وطن کے تعین سے بالا ہے مومن زمانے کا نظم گلستاں سنبھالو نگار چمن کے تشخص کی خاطر اخوت صداقت کو شیوہ بنا لو محبت کا بھوکا ہے سارا زمانہ زمانے کو بڑھ کر گلے سے لگا لو کسی کا سہارا سر راہ بن کر اگر ہو سکے تو یہ نیکی کما لو نظر ...

مزید پڑھیے

وعدہ

وہ وعدہ آپ کا وعدہ نہ اب تک ہو سکا پورا زمیں بدلی زماں بدلا مگر وہ وعدۂ فردا ابھی تک اک معمہ ہے اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ رنگ خسروی بدلا جہان خود فراموشی کے بادل چھٹ گئے سارے شفق پھوٹی کرن پھوٹی دھنک ابھری مگر سورج جو نکلا صبح دم تو خود اپنی تیرہ بختی پر پشیماں اور مگر وہ وعدۂ فردا ابھی ...

مزید پڑھیے

سہارے

جھکی جھکی سی نظریں کیوں ہیں اڑی اڑی سی رنگت کیوں ہے چپ چپ کیوں ہیں خوف کے مارے گم سم کا کیوں روپ ہیں دھارے یہ گھر تو ہم سب کا گھر ہے کھلا ہوا جس گھر کا در ہے شاہوں کا دربار نہیں ہے پیروں کی درگاہ نہیں ہے مانگیں ہم بے روک جو چاہیں سب پر یہ دربار کھلا ہے گورے کالے ایک ہیں سارے راجا ...

مزید پڑھیے

چشم تر

گھٹا چھائی ہے ساون کی جھڑی ہے دل مغموم کی کھیتی ہری ہے چھلک اٹھا ہے پیمانہ نظر کا بخار دل کی آشفتہ سری ہے رخ مہتاب پر تاروں کے ہالے یہ تارے ہیں کہ موتی کی لڑی ہے اجالے کے لئے شمع فروزاں اندھیرے میں سر مژگاں دھری ہے گل نرگس پہ ہیں شبنم کے قطرے کہ سیپی ہے جو موتی سے بھری ہے امنڈ آیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 566 سے 960