شاعری

خمستانِ ازل کا ساقی

پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطف عام اس کا گواہی دے رہی ہے اس کی یکتائی پہ ذات اس کی دوئی کے نقش سب جھوٹے ہیں سچا ایک نام اس کا ہر اک ذرہ فضا کا داستان اس کی سناتا ہے ہر اک جھونکا ہوا کا آ کے دیتا ہے پیام اس کا میں اس کو کعبہ و بت خانہ میں ...

مزید پڑھیے

ہندوستان

ناقوس سے غرض ہے نہ مطلب اذاں سے ہے مجھ کو اگر ہے عشق تو ہندوستاں سے ہے تہذیب ہند کا نہیں چشمہ اگر ازل یہ موج رنگ رنگ پھر آئی کہاں سے ہے ذرے میں گر تڑپ ہے تو اس ارض پاک سے سورج میں روشنی ہے تو اس آسماں سے ہے ہے اس کے دم سے گرمئی ہنگامۂ جہاں مغرب کی ساری رونق اسی اک دکاں سے ہے

مزید پڑھیے

قسم اس بدن کی

قسم اس بدن کی اور قسم اس بدن پر کھلے پھولوں کی رت بہار کی ہے اور ہوا کی رانوں میں مہک کھلی ہے اب تک۔۔۔ بریزئیر میں تنی ان چھاتیوں سے پرندے اپنی چونچوں میں شیر بھر کے لاتے ہیں اور محبت کی ابدیت کے گیت گاتے ہیں۔'' لے میں جن کی حرارت ان شبوں کی ہے گزریں جو قربت میں تیرے بدن کی گہری ...

مزید پڑھیے

تم روح کے ساز پہ

تم روح کے ساز پہ گیت گاتی رہو میں تن کی خیر مانگتا ہوں ہمیں آزادی کی یہ صدی عاریتاً ملی ہے اس کا اسراف احتیاط مانگے گا تم کچھ احتیاط بچا رکھنا میں جنگلوں کے سفر سے سلامت لوٹ آیا تو تم سے مستعار لے لوں گا یہ احتیاط تم اپنے گھر کی انگیٹھی میں کڑکڑاتی لکڑیوں کے کوئلوں سے راکھ ...

مزید پڑھیے

قیام یک شبانہ

وہ چلی گئی وہ چٹاخ چڑیا چلی گئی مرے آشیاں میں گذشتہ شب وہ رکی مگر دم صبح پھر سے وہ اڑ گئی اسے اڑتے رہنا پسند تھا سو چلی گئی بڑی شوخ تھی بڑی تیز رو بڑا چہچہاتی تھی مسکراتی تھی اس کے پنکھوں میں کوئی دام وصال تھا مجھے اس کا نام پتا نہیں وہ کہاں سے آئی نہیں خبر وہ یہیں کہیں پہ چھپی ...

مزید پڑھیے

فصل استادہ

ہماری نسل دشت نا مراد کی وہ فصل ہے جسے اندھیروں سے نمو ملی یہ وحشتوں کا نم کشید کر جڑوں کو سینچتی رہی یہ خوف کی فضاؤں میں بھی پھلتی پھولتی رہی یہ فصل نا ترس جو اب تمام ہے کمال ہے جہان خوش معاش کے کسی نئے فریب کی ہے منتظر

مزید پڑھیے

سپنولے

بنی آدم تمہیں کچھ یاد بھی ہے جب تمہیں روشن نشانی دی گئی تھی گھمنڈی تیرگی کو جب گپھاؤں میں جلا کر مرغزاروں کو بہاروں سے سجایا جا رہا تھا تم اپنے ساتھ اک روشن نشانی اور گپھاؤں کی وراثت لے کے آئے تھے تمہارے ساتھ تھوڑے سانپ بھی تھے جنہوں نے اپنے ورثے کو گپھاؤں سے مہکتے مرغزاروں ...

مزید پڑھیے

آزادی

جب ہم نے چلنا سیکھا ہمیں دوڑنا سکھایا گیا جب ہم دوڑنے لگے ہمیں بیساکھیاں تحفہ میں ملیں جب ہم نے سوچنا شروع کیا ہمارے چہرے مسخ کر دئے جب ہم نے بولنا چاہا ہمیں موت دے دی گئی

مزید پڑھیے

یمن اور شام کے بچوں کے لئے

نماز وحشت قبر سفید خون والے لوگ سیاہ دشت میں اجل کی روشنی بکھیرتے رہے ہم اپنی قبر میں پڑے ہوئے اجل کی روشنی سے بچ گئے مگر نئے کھلے ہوئے گل آفتاب اس کی بھینٹ چڑھ گئے ہم اپنی قبر میں پڑے پڑے یہ سوچتے ہیں اب امید کیا کریں کہ اپنے واسطے کوئی پڑھے نماز وحشت قبر

مزید پڑھیے

کیا ہے

گیہوں کیا شے ہے باجرا کیا ہے اور چاول ہے کیا چنا کیا ہے اف یہ بستہ مرے خدا کیا ہے مری تقدیر میں لکھا کیا ہے یہ اسکول اور مدرسہ کیا ہے ان کے کھلنے کا مدعا کیا ہے آج تک یہ سمجھ میں آ نہ سکا لکھنے پڑھنے سے فائدہ کیا ہے یہ کتابیں یہ کاپیاں یہ قلم ان میں کچھ تو کہو دھرا کیا ہے بس کتابوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 54 سے 960