خمستانِ ازل کا ساقی
پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطف عام اس کا گواہی دے رہی ہے اس کی یکتائی پہ ذات اس کی دوئی کے نقش سب جھوٹے ہیں سچا ایک نام اس کا ہر اک ذرہ فضا کا داستان اس کی سناتا ہے ہر اک جھونکا ہوا کا آ کے دیتا ہے پیام اس کا میں اس کو کعبہ و بت خانہ میں ...