شاعری

عجیب لڑکی

عجیب لڑکی ہے وہ کہ اس کو خدا بنایا تو وہ خفا ہے چہار جانب عبادتوں کا حصار کھینچا مسافتوں کے شجر اگائے ہراس کی وسعتوں کو میں نے طلسم صوت و صدا سے باندھا ہواؤں کو سمت آگہی دی شبوں کے زخمی کبوتروں کو لہو پلایا فلک پہ نیلاہٹیں بکھیریں خلا میں قوس قزح کے رنگین پر اڑائے نگاہ و دل کی ...

مزید پڑھیے

خواہش

میں جب بھی اکیلا ہوتا ہوں دل میرا مجھ سے کہتا ہے اے کاش تو چپکے سے آ کر اپنے نازک ہاتھوں سے میری ان آنکھوں کو بند کرے میں جان کے بھی انجان بنوں کچھ نام یوں ہی بے معنی سے بیگانے سے گنوا ڈالوں تو آنکھ مری کھولے نہ کبھی جب تک میں تیرا نام نہ لوں میں نام نہ لوں

مزید پڑھیے

فانوس ہند کا شعلہ

زندہ باش اے انقلاب اے شعلۂ فانوس ہند گرمیاں جس کی فروغ منتقل جاں ہو گئیں بستیوں پر چھا رہی تھیں موت کی خاموشیاں تو نے صور اپنا جو پھونکا محشرستاں ہو گئیں جتنی بوندیں تھیں شہیدان وطن کے خون کی قصر آزادی کی آرائش کا ساماں ہو گئیں مرحبا اے نو گرفتاران بیداد فرنگ جن کی زنجیریں خروش ...

مزید پڑھیے

چو کی لفظی تحقیق

اشنان کرنے گھر سے چلے لالہ لال چند اور آگے آگے لالہ کے ان کی بہو گئی پوچھا جو میں نے لالہ للائن کہاں گئیں نیچی نظر سے کہنے لگے وہ بھی چو گئی میں نے دیا جواب انہیں از رہ مذاق کیا وہ بھی کوئی چھت تھی کہ بارش سے چو گئی کہنے لگے کہ آپ بھی ہیں مسخرے عجب اب تک بھی آپ سے نہ تمسخر کی خو ...

مزید پڑھیے

سنگم

پریاگ میں ملی ہے جمنا سے آ کے گنگا پگھلا ہوا یہ نیلم بہتا ہوا وہ ہیرا ان کی جدائیوں نے کھینچا ہے نقش جوزا ان کی روانیاں ہیں شان خدائے یکتا سنگم کی سیڑھیوں پر موتی لڑھک رہا ہے

مزید پڑھیے

انقلاب ہند

بارہا دیکھا ہے تو نے آسماں کا انقلاب کھول آنکھ اور دیکھ اب ہندوستاں کا انقلاب مغرب و مشرق نظر آنے لگے زیر و زبر انقلاب ہند ہے سارے جہاں کا انقلاب کر رہا ہے قصر آزادی کی بنیاد استوار فطرت طفل و زن و پیر و جواں کا انقلاب صبر والے چھا رہے ہیں جبر کی اقلیم پر ہو گیا فرسودہ شمشیر و سناں ...

مزید پڑھیے

سخنورانِ عہد سے خطاب

اے نکتہ وران سخن آرا و سخن سنج اے نغمہ گران چمنستان معافی مانا کہ دل افروز ہے افسانۂ عذرا مانا کہ دل آویز ہے سلمیٰ کی کہانی مانا کہ اگر چھیڑ حسینوں سے چلی جائے کٹ جائے گا اس مشغلے میں عہد جوانی گرمائے گا یہ ہمہمہ افسردہ دلوں کو بڑھ جائے گی دریائے طبیعت کی روانی مانا کہ ہیں آپ ...

مزید پڑھیے

سوراج

ہے کل کی ابھی بات کہ تھے ہند کے سرتاج دیتے تھے تمہیں آ کے سلاطین زمن باج کیا رنگ زمانے نے یہ بدلا ہے کہ تم کو دنیا کی ہر اک قوم سمجھتی ہے ذلیل آج دامان نگہ جس کی فضا کے لئے تھا تنگ وہ باغ ہوا دیکھتے ہی دیکھتے تاراج جب تک رہے تم دست نگر اپنے خدا کے ہونے نہ دیا اس نے تمہیں غیر کا ...

مزید پڑھیے

محبت

کرشن آئے کہ دیں بھر بھر کے وحدت کے خمستاں سے شراب معرفت کا روح پرور جام ہندو کو کرشن آئے اور اس باطل ربا مقصد کے ساتھ آئے کہ دنیا بت پرستی کا نہ دے الزام ہندو کو کرشن آئے کہ تلواروں کی جھنکاروں میں دے جائیں حیات جاوداں کا سرمدی انعام ہندو کو اگر خوف خدا دل میں ہے پھر کیوں موت کا ڈر ...

مزید پڑھیے

جنم اسٹمی

وزیر چند نے پوچھا ظفر علی خاں سے شری کرشن سے کیا تم کو بھی ارادت ہے کہا یہ اس نے وہ تھے اپنے وقت کے ہادی اسی لیے ادب ان کا مری سعادت ہے فساد سے انہیں نفرت تھی جو ہے مجھ کو بھی اور اس پہ دے رہی فطرت مری شہادت ہے ہے اس وطن میں اک ایسا گروہ بھی موجود شری کرشن کی جو کر رہا عبادت ہے مگر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 53 سے 960