ہمارا ورثہ
یہ تند و تیز ہوا تری گلی مرے جنگل کو جو ملاتی ہے ہمارا ورثہ ہے
یہ تند و تیز ہوا تری گلی مرے جنگل کو جو ملاتی ہے ہمارا ورثہ ہے
اپنی تعبیر کے صحرا میں جلے خوابوں کی اس راکھ کو تم راکھ کے ڈھیر ہی کیوں کہتے ہو بڑھ کے اس راکھ کے سینے میں اتر کر ڈھونڈھو اس کا امکان ہے تم راکھ کے اس ڈھیر میں بھی چند چنگاریاں رہ رہ کے دمکتی دیکھو اور شاید تم کو پھر سے جینے کا بہانہ مل جائے
لفظ و معنی میں سنگھرش جاری ہے صدیوں سے جاری ہے جاری رہے خامشی بے حسی کیوں ہے
رات بھر اس خریدے ہوئے جسم سے تم حرارت نچوڑو پیاس حرص و ہوس کی بجھاؤ اور جب صبح کے آئینے میں ابھرتا ہوا عکس دیکھو تو منہ موڑ لو کہ یہ تعلق تمہارے لئے باعث ننگ ہے
گزشتہ رات میں خوابوں کی دنیا سے پلٹ آیا تو رستے میں تمہاری کھوج میں نکلی مری آواز رہ رہ کر سنائی دی
تیرا احساس ہے کہ صحن خموشی میں ابھرتی ہوئی آہٹ کوئی
جب بھی دھرتی کا کوئی حصہ تمہیں چپ سا دکھائی دے تو اس کی خامشی کو بے حسی کو نام مت دو سرد گہری خامشی کا کرب سمجھو اس کے سینے میں دبے لاوے کی زندہ دھڑکنوں کا عکس ممکن ہے تمہیں خود اپنے آدرشوں میں رہ رہ کر نظر آئے
صبح سورج کی کرن کوچہ کوچہ تری امید میں بھٹکاتی ہے شام ہوتے ہی اندھیروں میں بکھر جاتی ہے ٹوٹتی آس کی مانند ترے درد کی لو رات بھر آنکھوں میں رہ رہ کے ابھر آتی ہے صبح سے پہلے دھلی آنکھوں میں بجھ کے رہ جاتی ہے گرم سانسوں کی طرح تجھ سے ملنے کی خلش آج بھی میری رگ و پے میں سلگتی ہے ...
پانی عورت اور غلاظت اکثر خوابوں میں آتے ہیں مجھ کو پریشاں کر جاتے ہیں عورت ایک ہیولیٰ صورت کبھی اجنتا کی وہ مورت کبھی کبھی جاپانی گڑیا کبھی وہ اک ساگر شہزادی آب رواں کے دوش پہ لیٹی موجوں کے ہلکورے کھاتی سانپ کی آنکھوں میں انگارا اس کی ہر پھنکار میں وحشت اپنے ہر انداز میں ...
بینائی بھی اپنی میری خواب بھی میرے اپنے ہیں بینائی بھی سچی میری خواب بھی میرے سچے ہیں ان دونوں کی لذت سچی اور اذیت بھی سچی مجھ کو یہ معلوم تو ہے کہ تم میرے اور مجھ جیسے لاکھوں لوگوں کے خوابوں سے نفرت کرتے رہتے ہو اور اس کی تعبیر کے بدلے بھوک افلاس غریبی اور محرومی کے دروازے وا ...