شاعری

قرۃالعین طاہرہؔ کے لیے ایک نظم

اے قتیل حرف لا اے ماہ‌ قزویں سن ترے اقبال کا مرقد چراغ عصر تھا اب طاق نسیاں میں سجایا جا چکا ہے نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاک کا شعر اک خواب تھا شاید بھلایا جا چکا ہے اور ہماری لوک دانش کا ہمارے مدرسوں میں داخلہ ممنوع ٹھہرا ہے زر خالص لٹایا جا رہا ہے کوئلوں پر سخت پہرا ہے پرانے ...

مزید پڑھیے

دشت اجنبیت میں

دشت اجنبیت میں آشنائی کی چھاؤں ساتھ چھوڑ جائے تو ہر طرف بگولوں کا رقص گھیر لیتا ہے دشت اجنبیت میں آشنائی کی چھاؤں ساتھ چھوڑ جائے تو یاس گھیر لیتی ہے آس کے جزیرے کو اور اس جزیرے کو کب کسی نے دیکھا ہے دشت اجنبیت میں آشنائی کی چھاؤں ساتھ چھوڑ جائے تو بادلوں کے سائے بھی سرگراں سے ...

مزید پڑھیے

کہ خواب تھا بس تمہارا آنا

تمہاری آنکھیں خوشی کی خواہش لیے ہوئی تھیں تمہاری سوچوں میں عہد ماضی کی سلوٹیں تھیں تمہارے گیسو گھمرتی گھرتی گھٹاؤں کے کچھ گھنیرے بادل بنے ہوئے تھے قدم بڑھائے نظر جھکائے بدن بدن چرائے آ رہی تھی ہوائیں بھی گنگنا رہی تھیں کلی کلی مسکرا رہی تھی خزاں رسیدہ چمن میں جیسے بہار چپکے سے ...

مزید پڑھیے

اگر تم بیچنا چاہو

اگر تم بیچنا چاہو ادائیں بھی وفائیں بھی حسیں خوابوں کے رنگوں کی ردائیں بھی یہ دنیا ہے یہاں آواز بکتی ہے یہاں تصویر بکتی ہے یہاں پر حرف کی حرمت یہاں تحریر بکتی ہے یہ بازار جہاں اک بیکراں گہرا سمندر ہے یہاں پر کشتیاں ساحل پہ آ کر ڈوب جاتی ہیں مسافر مر بھی جاتے ہیں مگر رونق نہیں ...

مزید پڑھیے

رینگے لمحوں کا خوف

میں ایٹم بم کے ڈھیر پہ بیٹھا سوچ رہا تھا یہ روشنیوں اور رنگوں کا سیلاب رواں یہ ریشم کے لچھوں ایسا نرم بدن یہ برف کے گالے سے اس ننھے سیب کی نیند یہ اس کی فرشتوں جیسی معصومانہ ہنسی یہ گندم کے دانوں سے ننھے ننھے دانت یہ کلیوں کی مانند تر و تازہ رخسار یہ گیسوں کی خوشبو سے ناواقف ناک یہ ...

مزید پڑھیے

ندی کی فریاد

یہ گندگی ہے کیسی آئی ہے یہ کہاں سے شہروں کی یہ غلاظت آئی ہے کیسے بہہ کے دم گھٹ رہا ہے میرا بدبو ہے جان لیوا گرتا ہے مجھ میں آ کے شہروں کا گندہ نالہ پاکیزہ مجھ کو کر دو کر کے مری صفائی میرا بھی فائدہ ہے انساں کی بھی بھلائی تم مجھ کو صاف رکھ کے خود بھی سکھی رہو گے پانی جو صاف ہوگا ...

مزید پڑھیے

چاند اور تارے سلامت

چاند اور تارے سلامت کہکشاں قائم رہے یہ زمیں قائم رہے یہ آسماں قائم رہے یا الٰہی دیش میں امن و اماں قائم رہے رقص ہستی کے لیے بزم جہاں قائم رہے حشر تک قائم رہے میرا چمن میرا وطن اور اس کی یہ بہار جاوداں قائم رہے یا الٰہی حشر تک مہکیں مرے گلشن کے پھول بلبلوں کا شاخ گل پر آشیاں قائم ...

مزید پڑھیے

ورثہ

یہ زمیں یہ آسماں چاند سورج کہکشاں یہ سمندر ندیاں ہم کو ورثے میں ملے یہ وطن کا گلستاں یہ نگر یہ بستیاں کتنا اچھا یہ جہاں ہم کو ورثے میں ملے اونچے اونچے یہ پہاڑ یہ گھنے جنگل یہ جھاڑ جیٹھ پھاگن اور اساڑھ ہم کو ورثے میں ملے یہ چمن یہ مرغزار یہ پہاڑ اور آبشار پھول مہکاتی بہار ہم کو ...

مزید پڑھیے

آلودگی مٹائیں

آلودگی مٹائیں ماحول کو بچائیں ہریالیاں بڑھائیں پھل پھول خوب اگائیں پانی فضا ہوائیں تازہ انہیں بنائیں شہروں کی گندگی سے دریاؤں کو بچائیں آؤ قدم ملائیں کچھ کام کر دکھائیں پاک اور صاف کر دیں آلودہ سب فضائیں جنگل نئے لگائیں پھل دار پیڑ اگائیں اجڑے ہوئے بنوں کو گلزار پھر ...

مزید پڑھیے

اردو ہندی

ہندوستاں ہمارا سندر ہے اور پیارا دھرتی ہے یہ ہماری یہ سورگ ہے ہمارا جس طرح گنگا جمنا دو ندیاں ہیں پیاری ایسی ہی گنگا جمنی تہذیب ہے ہماری جس طرح ہندو مسلم رونق ہیں اس چمن کی ایسے ہی ہندی اردو دو بہنیں ہیں وطن کی اک ماں کی کوکھ سے ہی پیدا ہوئی ہیں دونوں تہذیب گنگا جمنی لے کر بڑھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 537 سے 960