دھیان قبر میں اترتا خیال
میرا رستہ قبرستان سے ہو کر آگے جاتا ہے
اس رستے سے اور بھی لوگ گزر کر آگے جاتے ہیں
لیکن میرے ساتھ ہی آخر سائے سے کیوں رہتے ہیں
میرے من میں آخر کیسی ویرانی قبروں کی ہے
رات کی خاموشی میں جھینگر کی ہیں کیسی آوازیں
کچھ دن سے مٹی کی خوشبو
کیوں چپکی ہے سانسوں سے
میرے پاؤں خاک سے لگ کر کس کا ماتم سنتے ہیں
میرا دیواروں کے اندر دم کیوں گھٹنے لگتا ہے
میرے سر پر بوجھ ہے کیوں کتبوں پر لکھے حرفوں کا
مجھے اگر کی خوشبو کیوں آتی ہے اپنے اندر سے
کیوں میری آنکھوں میں کڑوے تیل کا دیپ سا جلتا ہے
میرا سینہ پھولوں سے کیوں بوجھل ہونے لگتا ہے
کیوں اس رستے پر چلتے میں خود سے پوچھنے لگتا ہوں
میں قبروں کے اندر ہوں
یا قبریں میرے اندر ہیں