شاعری

چاند کی فریاد

چاند نے مجھ سے کہا اے شاعر فکر ازل میرے بارے میں بھی لکھ دے کوئی سنجیدہ غزل ہر تعلق توڑ رکھا ہے ہلال عید سے تجھ کو فرصت ہی نہیں ہے مہ وشوں کی دید سے رسم دیدار ہلال عید افسانہ ہوئی بام پر اس دم چڑھے، جس وقت فرزانہ ہوئی لے کے نذرانہ کمیٹی نے اجالا ہے مجھے گر نہیں نکلا، زبردستی نکالا ...

مزید پڑھیے

کان کھول کر

کچھ شعرگو پرایا قلم دان کھول کر کہتے ہیں شعر میرؔ کا دیوان کھول کر بیوی کے سامنے جو زباں کھولتے نہیں چلتے ہیں راہ میں وہ گریبان کھول کر تم ناشتے کی میز پہ بیٹھی ہو اس طرح جیسے کہ رکھ دیا ہو نمک دان کھول کر خالدؔ ہمارے شعر ادب کے یہ اژدہے سنتے ہیں منہ کو بند کئے کان کھول کر

مزید پڑھیے

تقریب رو نمائی

کتاب چھپ گئی چھ رنگے ٹائٹل کے ساتھ طباعت اور کتابت کوئی جواب نہیں یہ رنگ اور یہ نوے گرام کا پیپر ادب کے باب میں ایسی کوئی کتاب نہیں سجی تھی بزم پذیرائی ایک ہوٹل میں جہاں گلاب سے چہرے تو تھے گلاب نہیں کسی وزیر نے اس بزم کی صدارت کی یہ بات مجھ کو بتانے سے اجتناب نہیں خوشا کہ بزم ...

مزید پڑھیے

خواتین کا بینک

سنتے ہیں شہر میں جو خواتین کا ہے بینک پرویز کا نہیں ہے یہ پروین کا ہے بینک رکھی ہیں اس لیے یہاں خاتون منیجر اس محکمے کو چاہئے باتون منیجر لیڈیز اتحاد جو بیگانگی سے ہے کیا جانے خوف کیا انہیں مردانگی سے ہے نوک زباں بھی چلنے لگی ہے زباں کے ساتھ بیٹی بھی ہے شریک لڑائی میں ماں کے ...

مزید پڑھیے

اسٹیٹس میرج

میں نے اسٹیٹس کی خاطر کر تو لی شادی مگر مشرقی شوہر کو دن میں آ گئے تارے نظر ناؤ جو مجھ کو ملی زندہ تھا اس کا ناخدا میری منظور نظر پہلے سے تھی شادی شدا بر بنائے مصلحت مجھ کو حسیں لگتی تھی وہ تھی ''سٹیزن'' اور کہیں سے زن نہیں لگتی تھی وہ ایسے ایسے گل کھلائے اس بت گلفام نے مرغ کو الو ...

مزید پڑھیے

تم تو بس لاشیں اٹھانے کے لئے زندہ ہو

تم کو نوبل کی ضرورت ہی نہیں ہے بابا کوئی اعزاز کوئی تخت کوئی تاج شہی کوئی تمغہ نہیں دنیا میں تمہارے قد کا تم نے اس ملک کے لوگوں پہ حکومت کی ہے تم نے خدمت نہیں کی تم نے عبادت کی ہے کوئی مسند بھی تمہارے لئے تیار نہیں تم کسی اور ستائش کے بھی حق دار نہیں لیکن آتی ہے کہیں سے یہ صدائے ...

مزید پڑھیے

کراچی کے مشاعرے میں ڈاکہ

یہ کس نے بزم ادب کے سکون کو تاکا مشاعروں میں بھی پڑنے لگا ہے اب ڈاکہ مشاعرے میں ڈکیتی کا شوق رکھتے ہیں ہمارے عہد کے ڈاکو بھی ذوق رکھتے ہیں ادب نواز تھے ڈاکو سخن شناس تھے وہ مرے وطن کی سیاست کا اقتباس تھے وہ عجب ڈکیت تھے جن کا نصیب پھوٹا تھا جنہوں نے شہر کے ان مفلسوں کو لوٹا تھا پڑا ...

مزید پڑھیے

میں نے بھی آم رکھ دیا

گوروں نے میرے دیس پر اپنا نظام رکھ دیا ایک غلام اٹھا لیا ایک غلام رکھ دیا تم نے خدا کے گھر میں بھی فتنۂ عام رکھ دیا میرے امام کی جگہ اپنا امام رکھ دیا اس نے تو میری یاد کو دل میں چھپایا اس طرح جیسے سوئیس بینک میں مال حرام رکھ دیا شیریں لبوں کو دیکھ کے میں کھا رہا تھا مینگو اس نے ...

مزید پڑھیے

بجلی کے انتظار میں

بہت اچھلے وزیر تاب کاری وہ نہیں آئی اندھیرے میں یہ شب تنہا گزاری وہ نہیں آئی کسی نے چار چھ دس مرتبہ کاٹا تھا گالوں پر میں کرتا ہی رہا مچھر شماری وہ نہیں آئی ہمارے عشق کی تجدید میں تھا واپڈا حائل اندھیرے ہی میں زلف اس کی سنواری وہ نہیں آئی ہمارے ملک میں نور عدالت عام کرنے کو بہت ...

مزید پڑھیے

خوش خوراک

خوش ہیں ایسے لوگ دنیا میں جو خوش خوراک ہیں اور ان لوگوں کے دسترخوان ہیبت ناک ہیں ان کے دسترخوان پہ خوشبو مثالی چائے کی چار انڈے چھ سلائس دس پیالی چائے کی ہو گئے جب چائے کی لذت سے دل برداشتہ کھا لیے آدھا کلو انگور بعد از ناشتہ جب کہیں موقع ملا تھوڑا سا بسکٹ کھا لیا نوش جاں فرما لیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 532 سے 960