شاعری

اس میں میری تو کوئی غلطی نہیں

اس میں میری تو کوئی غلطی نہیں میں جب پیدا ہوئی تو کسی نے مجھ کو زندہ دفنایا نہیں جب میرے پر و بال نکلنا شروع ہوئے تب کسی نے میرے پروں کو نہیں کاٹا جب میں نے بولنا سیکھا تب کسی نے میری زبان نہیں کاٹی جب میں نے اپنے پیروں پر چلنا سیکھا تب کسی نے میرے پاؤں نہیں کاٹے میں نے جب دیکھنا ...

مزید پڑھیے

اے زندگی

اے زندگی تو اب تمہاری عمر کی بہاریں گزر گئیں اور خزاں کا موسم آنے والا ہے اچھا تو یہ بتا زندگی کہ چاند کی پریاں اب تک میرے آنگن میں روزانہ کیوں اترتی ہیں کیوں مجھے آسمانوں کی سیر کراتی ہیں میں اب تک رنگوں سے کیوں کھیلتی ہوں مجھے کائنات سے پرے ایک دنیا کیوں دکھائی دیتی ہے جہاں صرف ...

مزید پڑھیے

اب وہ کیا کر رہا ہوگا

اب مجھے کسی اور سے محبت ہو گئی ہے اور وہ مجھ سے نفرت کر رہا ہوگا میں خوش ہوں کتنی وہ اپنے گھر میں اداس ہوگا میرا ہاتھ کسی اور کے ہاتھ میں دیکھ کر ہاتھ وہ اپنے مل رہا ہوگا میری باتوں میں کسی اور کے لفظ سن کر اپنے لفظوں پر شرمندہ ہو رہا ہوگا میری آنکھوں میں کسی اور کا عکس دیکھ کر اپنی ...

مزید پڑھیے

کہانی بس اتنی سی تھی

کہانی تو میری کچھ تھی ہی نہیں کہ میری یہ زندگی تو میری تھی ہی نہیں یہ تو بس آتے جاتے لوگوں کی راہداری تھی یا ایک بس اسٹاپ تھا جہاں کچھ دیر کو لوگ آتے تھے اور چلے جاتے تھے جیسے ایک ہوٹل تھا جہاں کچھ دیر کے لیے لوگ ٹھہرتے تھے اور میں ان کو اپنی کہانی میں کچھ دیر کردار رکھتی تھی کہانی ...

مزید پڑھیے

اگر تو معاف کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے تو سن

دنیا بنانے والے سن میرا دل منافقت میں نہیں لگ رہا ہے سن میں جھوٹ کی فضا سے اوب چکی ہوں سن مجھے ہلاک کر دے مجھے تہس نہس کر دے مجھے زلزلے میں دفن کر دے سیلابی ریلے میں بہا دے بم دھماکے سے اڑا دے ہوائی فائرنگ میں مار دے ہارٹ اٹیک میں میری جان لے لے یا اور کسی مہلک بیماری سے مار ڈال ...

مزید پڑھیے

ایڈز

میرے گھر کا پتہ مجھ سے نہ پوچھو میں وہاں رہتی ہوں جہاں کسی ڈاکیے کا گزر نہیں ہوتا

مزید پڑھیے

شعاع عید

چند لمحات کہ ہر سال چلے آتے ہیں جیسے صحرا میں گلابوں کی مہک آ جائے جیسے ظلمت میں اجالوں کی کھنک آ جائے جیسے آ جائے تصور میں کوئی زہرہ جبیں جیسے تاریک فضاؤں میں ستاروں کا جمال جیسے اک درد بھرے دل میں مسرت کا خیال جیسے بچھڑے ہوئے ہم راز کے ملنے کا یقیں جیسے تالاب کے سینے پہ کھلے ...

مزید پڑھیے

فیض احمد فیضؔ کے نام

گل سحر کی نہ گیسوئے شام کی خوشبو فضا فضا میں ہے تیرے کلام کی خوشبو چمن سے کنج قفس تک قفس سے دار تلک کہاں کہاں نہ گئی تیرے نام کی خوشبو متاع دست صبا ہو کہ نقش فریادی ہر ایک زخم میں درد عوام کی خوشبو کھنک گئی ہے جہاں تیرے پاؤں کی زنجیر بکھر گئی ہے وہاں احترام کی خوشبو دل و دماغ کو ...

مزید پڑھیے

اردو

زبان ہند ہے اردو تو ماتھے کی شکن کیوں ہے وطن میں بے وطن کیوں ہے مری مظلوم اردو تیری سانسوں میں گھٹن کیوں ہے تیرا لہجہ مہکتا ہے تو لفظوں میں تھکن کیوں ہے اگر تو پھول ہے تو پھول میں اتنی چبھن کیوں ہے وطن میں بے وطن کیوں ہے یہ نانکؔ کی یہ خسروؔ کی دیاشنکرؔ کی بولی ہے یہ دیوالی یہ ...

مزید پڑھیے

دوجی تپسیا کیسے ہوگی

گیان دھیان کے پیڑ کے نیچے گوتم کی سی آلتی پالتی مارے بیٹھا سوچ رہا ہوں جگ کیا شے ہے دکھ کیا ہے جگ جیون کیا ہے گوتم انیائے کا بیری گوتم جو بھگوان بنا گوتم جو بھوکا پیاسا تھا جس کا پہلا گیان یہی تھا بھوکا پیاسا کوئی منش بھی کسی گیان کی تھاہ نہ پائے گوتم راج محل کا پالا جس کے سینکڑوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 474 سے 960