کہانی بس اتنی سی تھی

کہانی تو میری کچھ تھی ہی نہیں
کہ میری یہ زندگی تو میری تھی ہی نہیں
یہ تو بس آتے جاتے لوگوں کی راہداری تھی
یا ایک بس اسٹاپ تھا
جہاں کچھ دیر کو لوگ آتے تھے
اور چلے جاتے تھے
جیسے ایک ہوٹل تھا جہاں کچھ دیر کے لیے لوگ ٹھہرتے تھے
اور میں ان کو اپنی کہانی میں کچھ دیر کردار رکھتی تھی
کہانی میری تھی ہی کیا
میرا اپنا کردار تو سب میں بٹا ہوا تھا
جو دکھائی کسی کو نہ دیتا تھا
میں اپنی زندگی کی کہانی میں ہی خود
ایک کردار کو جنم دیتی تھی
ایک کردار کو مارتی تھی
میری کہانی بھی کتنی عجیب تھی
کہ اس میں اصل اور خالص کچھ تھا ہی نہیں
ایک گھڑی ہوئی نقلی اور بناوٹی زندگی
کے علاوہ
کہانی تو بس اتنی سی تھی
کہ کہانی کچھ تھی ہی نہیں