شاعری

تاریخ کا نوحہ

شاہوں کو خبر نہیں ہو سکی کہ بلڈوزروں سے ہٹائی گئی میتوں کی ڈھیر میں کس کس کے احرام پر لہو نے آیتیں رقم کیں حاجیوں کی جمع پونجی سے منافع بٹورتی حکومتیں آب زم زم کے چشمے اور پٹرول کے کنویں میں تمیز کرنا بھول جائیں تو خون کی لکیر حرم سے نکل کر منا تک پہنچ جاتی ہے شاہی فرمان کو عبادت ...

مزید پڑھیے

زیب النسا ایک نظم تمہارے لئے بھی

کیا عجب شام ہے! دیکھو زیب النسا فرصتوں میں کسی پیڑ کی نرم چھاؤں میں سوچی ہوئی آبشاروں سے گرتے ہوئے پانیوں میں نہائی ہوئی تیرے ملبوس کی خوشبوؤں کو اڑاتی ہوئی کیا عجب شام ہے تیرے شانوں پہ آنچل ٹھہرتا نہیں اور تو نے ہوا کو بہانہ کیا کتنی چالاک ہو چائے میں اپنی پوروں کی شیرینیاں ...

مزید پڑھیے

جانے کیا سچ ہے یہاں

جانے کیا سچ ہے یہاں کہکشاؤں کا یہ جادو کہ گزر گاہ خیال کوئی تارا کہ دریچے میں چمکتا ہوا چاند یا مرے سرخ پپوٹوں پہ رکھے خواب کی وحشت کا غبار یا کسی جسم کو چھو لینے کی خواہش میں بھٹکتی ہوئی آنکھ یا رگ و پے میں سلگتی ہوئی لذت کا خمار کوئی انکار کہ اقرار جانے کیا سچ ہے یہاں شام افسوس ...

مزید پڑھیے

کوئی آواز دیتا ہے

کوئی آواز دیتا ہے حریر و‌‌ پرنیاں جیسی صداؤں میں کوئی مجھ کو بلاتا ہے کچھ ایسا لمس ہے آواز کا جیسے اچانک فاختہ کے ڈھیر سے کومل پروں پر ہاتھ پڑ جائے اور ان میں ڈوبتا جائے بہت ہی دور سے آتی صدا ہے میں لفظوں کے معانی کی گواہی دے نہیں سکتی مگر ہر لفظ میں گھنگرو بندھے ہیں حریم جان میں ...

مزید پڑھیے

گواہی

وہ سیڑھی جو مرے دل سے تمہارے دل کے گنبد پر اترتی ہے شکستہ ہے وہ کھڑکی جو تمہارے گھر میں کھلتی ہے مری پہچان اور مکڑی کے جالوں سے اٹی ہے زنگ خوردہ ہے گواہی دے نہیں سکتے نہ دو لیکن مرا اک کام تو کر دو مری پہچان میں الجھے ہوئے مکڑی کے سب جالے مجھے دے دو کوئی تو ہو جو مجھ کو میرے ہونے کی ...

مزید پڑھیے

عجب لہجہ ہے اس کا

پانیوں پر جھلملاتی چاندنی جیسا مرے دل کا سمندر جب بھنور کی زد میں آ جائے سبھی تاریک لہریں گھیر کر مجھ کو کسی پاتال کا رستہ دکھاتی ہوں تو وہ ایسی صفت لہجہ مجھے پھر ساحلوں پر کھینچ لاتا ہے مجھے کہتا ہے دیکھو اس بھنور کے پار بھی دنیا میں کچھ لمحے دھڑکتے ہیں انہیں بھی اپنی سانسوں ...

مزید پڑھیے

مچھر سے جنگ

سناؤں میں اپنی شجاعت کا قصہ دلیری کا قصہ حماقت کا قصہ مسہری پہ لیٹا جو سونے کی خاطر ہوا ایک مچھر مرے پاس حاضر مجھے فلمی گانے سنانے لگا وہ مری نیند گا کر اڑانے لگا وہ کہا میں نے مچھر میاں رہنے دو بس کہیں اور گاؤ مجھے سونے دو بس یہ سن کر وہ اتنا ہوا گرم مجھ پر کہ فوراً ہی چہرے پہ آیا ...

مزید پڑھیے

سیاست

جب ہم چھوٹے چھوٹے سے تھے ہم سایے میں ایک بڑی بی رہتی تھی گلی محلے کے سب بچے اس کو ماسی کہتے تھے ماسی کی اک عجب ادا تھی گلی محلے کے جس بچے پر بھی اس کا داؤ چلتا مکوں اور دھمکوں سے ادھ موا سا کر کے خود چھپ جاتی فریادی بچے کی آہ و زاری سن کر رستہ چلنے والے یا بچے کے اپنے آ جاتے تو مجمع ...

مزید پڑھیے

سنو

سنو جن کی ہنسی سے اس زمیں پر پھول کھلتے ہوں جنہیں نغمے پہ اتنی دسترس ہو کہ پنچھی ان کی لے پر چہچہاتے ہوں انہیں تو اس طرح چپ چاپ ہو جانا نہیں سجتا سنو ساری زمیں گمبھیر چپ اوڑھے ہوئے ساکت کھڑی ہے تم اتنی ہی کرو اک بار ہنس دو زمیں کی منجمد سانسوں میں پھر سے زندگی چلنے لگے گی پہلے دن ...

مزید پڑھیے

صدیوں پیچھے

سنتے ہیں کہ نسلوں پہلے چین کی باغی شہزادی نے اپنی دنیا تک جانے کے پاگل شوق میں آنگن کی دہلیز الانگی اور گلیاں شہ راہیں ناپتی اک پھلواری تک جا پہنچی رسموں کے ٹھیکے داروں نے جرم تمنا کی پاداش میں حکم سنایا اب دنیا میں آنے والی ہر ہوا کو

مزید پڑھیے
صفحہ 475 سے 960