فیض احمد فیضؔ کے نام
گل سحر کی نہ گیسوئے شام کی خوشبو
فضا فضا میں ہے تیرے کلام کی خوشبو
چمن سے کنج قفس تک قفس سے دار تلک
کہاں کہاں نہ گئی تیرے نام کی خوشبو
متاع دست صبا ہو کہ نقش فریادی
ہر ایک زخم میں درد عوام کی خوشبو
کھنک گئی ہے جہاں تیرے پاؤں کی زنجیر
بکھر گئی ہے وہاں احترام کی خوشبو
دل و دماغ کو سرشار کر گئی میکشؔ
غزل کے پھول سے نکلی وہ جام کی خوشبو