اس میں میری تو کوئی غلطی نہیں
اس میں میری تو کوئی غلطی نہیں
میں جب پیدا ہوئی تو
کسی نے مجھ کو زندہ دفنایا نہیں
جب میرے پر و بال نکلنا شروع ہوئے
تب کسی نے میرے پروں کو نہیں کاٹا
جب میں نے بولنا سیکھا
تب کسی نے میری زبان نہیں کاٹی
جب میں نے اپنے پیروں پر چلنا سیکھا
تب کسی نے میرے پاؤں نہیں کاٹے
میں نے جب دیکھنا شروع کیا
کسی نے میری آنکھیں نہیں نوچیں
میں سوچتی تھی جب
کسی نے مجھے پاگل نہیں کہا
میں لکھتی تھی جب
کسی نے مجھ سے قلم کیوں نہیں چھینا
میرے جنم سے اب تک جو ہوتا رہا
وہ کسی نے نہیں بدلا
اب میں جیسی ہوں
اسے کیسے بدل لوں
میں جیسی بھی ہوں
اس میں میری تو کوئی غلطی نہیں