اے زندگی

اے زندگی
تو اب تمہاری عمر کی بہاریں گزر گئیں
اور خزاں کا موسم آنے والا ہے
اچھا تو یہ بتا زندگی
کہ چاند کی پریاں اب تک
میرے آنگن میں روزانہ
کیوں اترتی ہیں
کیوں مجھے آسمانوں کی سیر کراتی ہیں
میں اب تک رنگوں سے کیوں کھیلتی ہوں
مجھے کائنات سے پرے
ایک دنیا کیوں دکھائی دیتی ہے
جہاں صرف پھول ہی پھول ہوتے ہیں
اور میٹھے پانی کے آبشاروں میں
میرا وجود بھیگتا ہے
میں اوک بھر کر ان سے
پانی کیوں پیتی ہوں اب تک
مجھے پرندوں کی بولی کیوں سمجھ میں آتی ہے
مجھے شرارت کرنا کیوں بھاتا ہے اب تک
میں ہنسنا کیوں نہیں بھولی ہوں
میرے اندر کی بچی کیوں اب تک
اپنے ٹوٹے ہوئے کھلونوں سے کھیلتی ہے
میرے حسین خواب کیوں نہیں چھوٹے اب تک
زندگی اے زندگی
مجھے یہ بتا
کہ میں نے اب تک نفرت کرنا کیوں نہیں سیکھا