اب وہ کیا کر رہا ہوگا

اب مجھے کسی اور سے محبت ہو گئی ہے
اور وہ مجھ سے نفرت کر رہا ہوگا
میں خوش ہوں کتنی
وہ اپنے گھر میں اداس ہوگا
میرا ہاتھ کسی اور کے ہاتھ میں دیکھ کر
ہاتھ وہ اپنے مل رہا ہوگا
میری باتوں میں کسی اور کے لفظ سن کر
اپنے لفظوں پر شرمندہ ہو رہا ہوگا
میری آنکھوں میں کسی اور کا عکس دیکھ کر
اپنی ہی نظروں میں گر رہا ہوگا
میں مسرور ہوں کسی کی ہو کر
یہ سوچ کر وہ خود سے ہی کٹ رہا ہوگا
اب میری باتوں میں وہ لفظ مہمل کی طرح ہے
وہ اپنی یادوں میں مجھے تفصیل سے سوچ رہا ہوگا
اچھا وقت جو گزرا تھا ساتھ میں اس کے
اسے وہ وقت بہت برا لگ رہا ہوگا
میں کسی کی ہو چکی دل و جان سے اب
اور وہ خود سے جدا ہو چکا ہوگا
اب مجھے کسی اور سے محبت ہو گئی ہے
اور وہ مجھ سے نفرت کر رہا ہوگا