راکھی
اس کے دھاگوں میں دل کے خزانے نہاں
اس کے پھولوں میں دریائے الفت رواں
یہ بہن بھائی کی چاہتوں کا نشاں
یہ ہے راکھی کا بندھن مرے بھائیو
اس کی تصویر میں ہے عجب بانکپن
اس کی تاریخ میں ایکتا کا چلن
اس کی عظمت کا قائل ہے سارا چمن
یہ ہے راکھی کا بندھن مرے بھائیو
صرف بندھن نہیں ایک پیمان ہے
بھائیوں کے دلوں کا یہ ایمان ہے
اپنی بہنوں پہ ہر بھائی قربان ہے
یہ ہے راکھی کا بندھن مرے بھائیو
کی ہمایوں نے رکشا جو میواڑ کی
دشمنوں کو ہر اک موڑ پر مات دی
رکشا بندھن ہی کی یہ کرامات تھی
یہ ہے راکھی کا بندھن مرے بھائیو